قومی اسمبلی اجلاس، خاقان عباسی اور سپیکر اسمبلی آمنے سامنے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے خطاب کے دوران حکومتی بینچز سے چور چور کے نعرے لگائے گئے جس پر سابق وزیراعظم غصے میں آگئے۔
ایوان میں شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں قومی احتساب بیورونیب قوانین سمیت حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اس دوران حکومتی بینچوں سے چور چور کے نعرے گئے جس پر شاہدخاقان عباسی غصہ ہوگئے۔چور چورکے نعروں پر شاہد خاقان عباسی نے غصے میں جواب دیا کہ’چور آپ کا باپ ہے’، اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی مداخلت پر شاہد خاقان ان پر بھی برس پڑے۔شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ اسپیکر شرم کریں اورحکومتی ارکان کو تنقید سے روکیں’۔اسپیکر قومی اسمبلی بھی ناراض ہوگئے، ان کا کہنا تھا کہ ‘ آپ وزیراعظم رہے ہیں، آپ حوصلہ پیدا کریں، اپنی زبان درست کریں’۔
قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مابین بھی سخت تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
شاہد خاقان عباسی کی جانب سے سخت ردعمل سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘شاہد خاقان عباسی سابق وزیر اعظم رہ چکے ہیں اس لیے جو لفظ انہوں نے اسپیکر کی کرسی سے متعلق کہے ہیں انہیں حذف کیا جائے اور اسپیکر قومی اسمبلی سے غیر اخلاقی لفظ ادا کرنے پر معافی مانگیں’۔
جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ‘میں اپنے الفاظ واپس لینے کے لیے آمادہ ہوں جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وعدہ کریں کہ وہ سچ بولاکریں گے’۔اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘اگر میں سچ بولوں تو شاہد خاقان عباسی شرمندہ ہوجائیں گے اس لیے جو باتیں پردے میں ہیں رہنے دیں، اگر پردہ بے نقاب ہوگیا تو کئی لوگ کے کردار ظاہر ہوجائیں گے’۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے ترکی بہ ترکی جواب پر ایوان میں موجود اراکین ڈیسک بجا کر اپنے اپنے رہنماؤں کو داد بھی دی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شاہد خاقان عباسی پر زور دیا کہ وہ منی لانڈرنگ سے متعلق ترمیم پیش کریں۔تاہم شاہد خاقان عباسی نے منی لانڈرنگ بل سے متعلق ترمیم پیش کی لیکن حکومتی بینچ کے متعلقہ وزیر نے مسترد کردیا۔
بعدازاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘ایوان میں غیر منتخب اور کرایے کے وزیر کو کو بلا کر پورے ہال کی تضحیک کی گئی’۔انہوں نے کہا کہ کرایے کے وزیر نے نام لے کر تہمت لگائی۔اس دوران ایوان میں موجود ایک حکومتی رکن نے ‘چور’ کی آواز لگائی جس پر شاہد خاقان عباسی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ ‘چور آپ کا باپ ہے’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘ایک غیر منتخب شخص عوام کے منتخب کردہ رکن اسمبلی پر الزام لگائے، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچاتا، اس کے لیے ایف آئی اے اور نیب موجود ہے ادھر الزام لگائیں’۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ‘نیب کا قانون آمر نے بنایا تھا جو غلط ہے لیکن مزید قوانین کو نیب کے ماتحت نہ کریں، یہ قانون سب کے خلاف استعمال ہوں گے، اگر آج ہم اپوزیشن میں ہیں تو کل آپ ہماری جگہ ہوسکتے ہیں’
