قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور

قومی اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے 19 نکاتی قرارداد پیش کی جس میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں چھ ماہ سے نافذ کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے اور بھارت کالے قوانین واپس لے جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی تحقیقات کرائی جائیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہےکہ یہ تاریخی قرارداد ہے اور پانچ فروری کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں جاری ہیں، سویلین آبادی پر بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں، بھارت میں نسلی پیمانے پر استحصال جاری ہے۔ کشمیر عوام سات دہائیوں سے بھارتی تسلط میں محصور ہیں اور حق خود ارادیت کے لیے 7 دہائیوں سے جدو جہد کر رہے ہیں، خواتین اور بچوں سمیت کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیر عالمی تنازع ہے اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے پہ 1948 سے حل طلب معاملہ ہے، اقوام متحدہ نے حالیہ دنوں میں دو بار کشمیر کا متنازع معاملہ تسلیم کیا لہٰذا کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے۔
قرارداد میں کہا گیاہےکہ بھارت کی 9 لاکھ فوج نے دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بنا دیا ہے، 13 ہزار نوجوانوں کو نا معلوم مقامات پر قید رکھا ہوا ہے، پیلٹ گنز کا استعمال ہزاروں کشمیریوں کو زخمی کیا گیا۔ قرارداد میں کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔
قبل ازیں اجلاس شروع ہونے پر مولانا عبدالشکور نے کہا کہ صرف کشمیر نہیں پورے بھارت کے مسلمان ظلم کا شکار ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہئے۔
عبدالقادرپٹیل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ افغانستان سے بھاگنے کے چکر میں آپ کو کشمیر پر باربار ثالثی کی پیشکش کررہا ہے، ٹرمپ ہمارا مسئلہ کیوں حل کرائے گا، اپنے اندر کے اتحاد کی بجائے ہم باہر سے مدد لینے چلے ہیں، بتائیں اگر لڑیں گے نہیں تو قراردادوں سے مسئلے کا حل ہوجائے گا، سعودی عرب میں کشمیر کی آزادی کےلیے دعا کیوں نہیں ہوتی، جن کے حکم پر ہم ملائیشیا کانفرنس نہ گئے وہ سعودی عرب میں کشمیر کےلئے دعا تو کرادیا کریں۔
شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے کشمیر پر کچھ نہیں کیا، حکومتی کوششوں سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے متعدد بار کشمیر کے حوالےسے بیانات آئے، سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، یورپی یونین نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی، آزاد کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھی اقوام متحدہ کی امن فورس تعینات کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ جو چائے بھارت کو پلائی تھی اب تک اس کی گرمی محسوس ہوتی ہوگی، آئندہ ایسی کوئی حرکت کی تو پھر مزہ چکھائیں گے، وہ جنگ چاہتے ہیں تو ہمیں لڑنا بھی آتا ہے اور امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم امن چاہتے ہیں لیکن عزت کا سودا نہیں کریں گے۔ علی گوہر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے جسے آزاد کرا کے رہیں گے۔
