کپتان کی جہانگیر ترین کو سائیڈ لائن کرنے کی کیا وجہ بنی؟

وزیراعظم عمران خان نے اپنے سب سے بڑے فنانسر اور ملکی سیاست میں عمومی طور پر کنگ میکر سمجھے جانے والے جہانگیر ترین کو آٹے اور چینی کے بحران میں ملوث ہونے اور اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ وفاداری دکھانے کی پاداش میں سائیڈ لائن کردیا ہے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ آٹے اور چینی کے بحران میں ملوث ہونے کا الزام اور وزیر اعلی کے اختیارات کے معاملے پر قاف لیگ کا ساتھ دینا وزیراعظم عمران خان کی جہانگیر ترین سے کشیدگی کا سبب بنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے ترین کو اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والی تینوں کمیٹیوں سے نکال دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں آٹے اور چینی کے بحران کے معاملے میں بھی خفیہ اداروں نے وزیراعظم کو رپورٹ دی ہے کہ جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی خسروبختیار نے اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ہیں، جس پر وزیراعظم اور جہانگیر ترین کے تعلقات میں تلخی آگئی۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آٹے اور چینی کا بحران تو محض ایک بہانہ ہے، کشیدگی کی اصل وجہ پارٹی میں اثر و رسوخ اور اختیارات حاصل کرنے کی خواہش ہے۔
دراصل تحریک انصاف کے اندر اور اتحادیوں میں اس حوالے سے شدید رسہ کشی جاری ہے اور جہانگیر ترین اس کھیل میں مرکزی کھلاڑی بنے ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کے وقت کپتان نے اتحادیوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنے کی ضمانت جہانگیر ترین نے دی اور تب سے اب تک اس عمل کی نگرانی بھی وہی کرتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام اتحادی جہانگیر ترین پر اعتماد کرتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے وفاق اور صوبوں میں حکومت کی اتحادی جماعت قاف لیگ، ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل گروپ نے گلہ شروع کر رکھا ہے کہ ان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے، وہ پورے نہیں ہوئے۔
معاملات بگڑنا شروع ہوئے تو جہانگیر ترین نے کپتان کی ہدایت پر تینوں جماعتوں کی قیادت سے مذاکرات کیے اور تسلیم کیا کہ حکومت سے کوتاہی ہوئی ہے اور بہت جلد ان کے تحفظات دور کر دیئے جائیں گے۔ عمران خان کے ساتھ اتحادیوں کے تحفظات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے واضح کیا کہ مرکز اور پنجاب میں حکومت بچانے کے لیے کلیدی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے فری ہینڈ ملنے پر جہانگیر ترین نے اتحادیوں کے ساتھ معاملات طے کرنا شروع کر دئیے اور یہیں سے کپتان اور ترین کے اختلافات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں جہانگیر ترین نے مسلم لیگ قاف کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو واضح ہدایت دی کہ وہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور رکن قومی اسمبلی مونس الہی کی ہدایات پر من و عن عمل کرے۔ ان تمام اضلاع میں جہاں سے قاف لیگ کے اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، وہاں انتظامی معاملات میں چوہدری برادران کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے لیکن بعد ازاں وزیراعظم نے جہانگیر ترین کے اس اقدام پر شدید ناراضی کا اظہار کیا کیونکہ ان اضلاع سے منتخب ہونے والے حکومتی نمائندے بھی تشویش کا شکار ہیں۔
اسی طرح جہانگیر ترین نے ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں ایسی یقین دہانیاں کروائیں جس کی وجہ سے کراچی سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے 14 اراکین قومی اسمبلی نے ناراضی کا اظہار کیا اور اپنے تحفظات سے وزیراعظم تک پہنچائے۔ کراچی سے حکومتی ایم این اے حضرات نے یہ موقف اپنایا کہ جہانگیر ترین اپنی جماعت سے زیادہ اتحادیوں کے ساتھ وفاداری دکھا رہے ہیں۔ اسی طرح بی این پی مینگل کے ساتھ مذاکرات میں بھی جہانگیر ترین نے تحریک انصاف حکومت کی بجائے مینگل گروپ کو سپورٹ کیا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو جہانگیر ترین کی ثالثی اور اتحادیوں کے ساتھ اختلافات ختم کرانے کے طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان نے انہیں سائیڈ لائن کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے جہانگیر ترین کو مذاکراتی کمیٹیوں سے فارغ کرائے جانے کی ایک اور وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وزیراعظم کو لگتا ہے کہ جہانگیر ترین اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے پارٹی پر گرفت مضبوط کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت ترین مخالف دھڑے کو اس حوالے سے شدید تحفظات ہیں لہذا منتخب نمائندوں کو اپنی کپتانی کے نیچے متحد رکھنے کے لیے عمران خان نے جہانگیر ترین کو سائیڈ لائن کر دیا ہے۔
