قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، ضمنی مالیاتی بل پیش

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنمائوں کی شدید ہنگامہ آرائی، احتجاج، حکومت کی جانب سے مالیاتی ضمنی بل اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔
پی پی پی کے رکن نوید قمر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آج ایجنڈے میں مدت ختم ہونے پر آرڈیننس لائے جا رہے ہیں، نئی روایات نہ ڈالی جائیں۔
اجلاس کے دوران مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی میں رولز کے مطابق کارروائی چلائی جا رہی ہے،
سرکاری جائیدادوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کی قرارداد، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد، کونسل برائے تحقیق آبی وسائل ترمیمی آرڈیننس میں 120روز توسیع کی قرارداد، پاکستان فوڈ سیکورٹی آرڈیننس میں 120روز توسیع کی قرارداد منظور کر لی گئیں۔
اپوزیشن کی جانب سے زبانی ووٹنگ چیلنج کر دی گئی اور اسپیکر نے گنتی کروائی، جس پر اپوزیشن کو شکست ہوئی جہاں حکومت کو 145ووٹ مل گئے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے صرف تین ارکان مخالفت میں کھڑے ہوئے اور اپوزیشن ارکان کی اکثریت گنتی میں کھڑی نہیں ہوئی۔

Back to top button