قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے چیئرمین پیمرا کو طلب کرلیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیمرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور ریگولیٹر کے طریقہ کار خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کے راہنما اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کی جانب سے ایک ٹی وی شو میں ‘بوٹ میز پر رکھنے’ کے اقدام پر ہونے والے حالیہ تنازع کے تناظر میں واضح کریں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹر کا مختلف خلاف وزریاں کرنے والوں کےلیے مختلف رویہ تھا۔
ان کے مطابق پیمرا بااثر شخصیات کے حوالے سے نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن دیگر لوگ جو اس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں ان پر سخت پابندی عائد کرتا ہے۔ دوران اجلاس کمیٹی اراکین کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ پیمرا کے نامناسب نگرانی کے طریقے کے باعث یہ معمول بن گیا ہے کہ ٹی وی چینلز پر کچھ اینکرز براہ راست ٹاک شوز میں پارلیمنٹیرین اور دیگر عوامی شخصیات کی تذلیل کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ کو اراکین کے سوالات کے جواب کےلیے طلب کیا جائے۔
کمیٹی کی جانب سے پیمرا کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس ٹی وی اینکر پر لگائی گئی پابندی اور پھر اسے ہٹائے جانے پر مکمل تفصیل فراہم کرے، جس کے پروگرام میں فیصل واوڈا بوٹ لائے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا ایک فوجی بوٹ لائے تھے اور انہوں نے پروگرام کے دوران اس کو میز پر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
تاہم فیصل واڈا کی اس حرکت پر انہیں خود تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس پروگرام میں شریک مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید عباسی اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ پروگرام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے مذکورہ پروگرام میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے غیراخلاقی حرکت اور ریاستی ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش پر پروگرام اور اس کے میزبان پر 60دن کی پابندی عائد کردی تھی۔
ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے نجی چینل کے پروگرام میں فوجی بوٹ لانے پر فیصل واڈا پر کسی بھی ٹاک شو پر آئندہ دو ہفتوں کے لیے شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button