قومی اسمبلی کے معاملات بھی ایجنسیوں نے چلانا شروع کر دیے


ایوان زریں کا کسٹوڈین بننے کی بجائے حکومتی پٹھو کا کردار ادا کرنے والے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انکی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی نااہلی کیلئے دائر کردہ ایک ریفرنس مسترد کردیا اور قرار دیا کہ محض پولیس ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی پارلیمنٹرین کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا اور سپیکر کو اس اہم نقطے کا پتہ ہونا چاہیئے۔
یاد رہے کہ علی وزیر ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں پچھلے ایک ماہ سے زیر حراست ہیں۔ لیکن یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کسی رکن اسمبلی کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر اس کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا ہو۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے آف دی ریکارڈ یہ موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم عمران خان کا اس ریفرنس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے ان کے خیر سگالی جذبات سے عوام آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے علی وزیر کے خلاف ریفرنس انہی قوتوں کے کہنے پر دائر کیا ہوگا جن کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت اکثر اپنی تقریروں میں تنقید کرتی ہے۔ یعنی اسپیکر نے علی وزیر کے خلاف نااہلی کا ریفرنس اسی خفیہ ایجنسی کے کہنے پر دائر کیا تھا جو خود کو نام نہاد قومی مفادات کا ٹھیکیدار سمجھتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اسد قیصر قومی اسمبلی کے معاملات بھی ایجنسیوں کے کہنے پر چلا رہے ہیں تو پھر اس اسمبلی کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم تنقید کرنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں خفیہ ایجنسی نہ صرف حکومت کو چلا رہی ہے بلکہ اپوزیشن بھی اسی کی مرضی سے فیصلے کرتی ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے پی ٹی ایم کےرکن قومی اسمبلی علی وزیر کی نااہلی کے لئے سپیکر کا ریفرنس واپس بھیج دیا ہے جس کے ساتھ ایک ایف آئی آر بھی منسلک کی گئی تھی اور یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ علی وزیر کو ڈی نوٹی فائی کردیا جائے۔ سپیکر نے جواز دیتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ایف آئی آر کراچی کے علا قے سہراب گوٹھ میں 6 دسمبر کو علی وزیر کے پی ٹی ایم جلسے میں اشتعال انگیز تقریر کے خلاف کاٹی گئی تھی اور رکن اسمبلی کی تقریر کا مواد ملک دشمنی پر مبنی تھا۔
ذرائع کے مطابق ریفرنس میں ایف آئی آر کے ساتھ علی وزیر کی پاکستان مخالف تقاریر کی آڈیو اور ویڈیو ٹیپس بھی الیکشن کمیشن کو بھجواجی گئی تھیں۔ سپیکر اسد قیصر نے خفیہ ایجنسیوں کے کہنے پر یہ ریفرنس آرٹیکل 62( G)کے تحت دائر کیا تھا ،جس میں کہا گیا کوئی شخص مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل ہو گا اگر وہ نظریہ پاکستان ، ملک کی خود مختاری اور سلامتی، عد لیہ اور مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈے میں ملوث ہو گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکام حیران ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں اتنا کمزور ریفرنس کیوں بھجوایا کیوں کہ ہر خاص و عام جانتا ہے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی نااہلی کے لیے آئین نے ریفرنس کو عدالتی سزا سے مشروط قرار دیا گیا ہے اور آرٹیکل 63( G) کے آغاز میں ہی واضح کیا گیا کہ نااہلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مجاز عدالت کی طرف سے سزا یافتہ ہو، محض ایف آئی آر کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کسی پارلیمنٹرین کو نا اہل قرار نہیں دے سکتا۔ الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کا ریفرنس مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کہ سپیکر اور الیکشن کمیشن کا کام عدالتی فیصلے کے بعد شروع ہو تا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سپیکر /چیئر مین سینٹ کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ 30 دن کے اندر مجرم رکن کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں، اگر سپیکر 30 روز میں ریفرنس نہیں بھیجتا تو الیکشن کمیشن ازخودکاروائی کا مجاز ہو گا اور مجرم رکن کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر کے اسکی نشست کو خالی قرار دے گا۔
لیکن پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں محض ایک ایف آر آئی کی بنیاد پر کسی رکن کو نا اہل قرار دینے کے مطاکبے پر مبنی یہ پہلا ریفرنس تھا جس نے اسپیکر اسد قیصر کے داغدار کیریئر کو مزید داغدار کر دیا ہے۔ لیکن اسد قیصر جیسے لوگوں کے لیے بھائی لوگوں کا حکم ماننا زیادہ ضروری ہے، بجائے کہ آئین اور قانون کی پاسداری کرنا۔ اور یہی کچھ انکے کپتان بھی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 2014 میں تب کے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے عمران خان سمیت تحریک انصاف کے 24 ارکان کی نااہلی کے لیے دائر کردہ 24 ریفرنس مسترد کر دیئے تھے اور الیکشن کمیشن کو ایک ریفرنس بھی نہیں آگے بھجوایا تھا۔ اسی طرح ماضی میں سپیکر گوہر ایوب نے کراچی اپریشن کے خلاف تقریریں کرنے پر ایم کیو ایم ارکان کے خلاف ایف آئی آر کی بنیاد پر نا اہلی کے ریفرنس بھی مسترد کر دیئے تھے ۔
 دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر اور آزاد رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے اہنے وکیل کے ذریعے جیل سے پیغام بھجواتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ان کے خلاف بغاوت اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے جیسے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ ریاست مخالف نہیں اور صرف پشتونوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button