قومی سلامتی بارے عسکری قیادت سے ملاقات کو شیخ رشید نے متنازع بنایا

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم قومی سلامتی کے اجلاسوں میں نہیں آسکتے تو استعفیٰ دیں اور گھر جائیں. وزیراعظم عمران خان کے بغیر نیشنل سیکیورٹی میٹنگز ہورہی ہیں ، پلوامہ سے لے کر نیشنل سیکیورٹی کے تمام معاملات میں وزیراعظم عمران خان ناکام رہے، نیشنل سیکیورٹی کے مسئلے پر ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے. تاہم آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس ہو یا کوئی بھی معاملہ ہوا ایسے کسی اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی جس میں شیخ رشید موجود ہوں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر نے اچھی سمت دی۔
کراچی میں بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اے پی سی پاکستان کی تاریخی اےپی سی ہے اور موجودگی حکومت کے آنے کے بعد پہلی مرتبہ آصف زرداری اور نواز شریف ایک ساتھ موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے طویل اور تفصیلی تقریر کی، جس نے ہمارے فورم اور اے پی سی کو اچھی ڈائریکشن دی، جس کے نتیجے میں ہم نے 9 گھنٹے بحث کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایکشن پلان بھی جاری کیا ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ اب اے پی سی میں شامل ہماری تمام جماعتیں مل کر بیٹھیں گی اور آگے کا لائحہ عمل بنائیں گے اور اے پی سی کے اعلامیے کے تحت اس کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس دن بھی کہا تھا اور اب یہی کہتے ہیں ہم پاکستان میں جمہوریت، جمہوری آزادی، بولنے کی آزادی چاہتے ہیں اور میڈیا پر جو سنسر شپ ہے اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر شہری، ہر جماعت اور تمام صوبوں کو کام کرنے کے برابر موقع دینے بات کررہے ہیں، پارلیمان، انتخابات، چینلز، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو برابر موقع دیا جائے ورنہ اس ملک میں جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کا یہ حال ہے کہ ہمارے صوبے میں ایک بحران ہوا ہے اور یہ قومی اور بین الاقوامی خبر ہونی چاہیے، میں نے خود جا کر معلوم کیا ہے اس لیے مجھے ان تکالیف کا اندازہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کسانوں کی مدد کے لیے ہمیں پنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سیلاب اور بارش سے ان کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور عسکری حکام سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ‘پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو 18 یا 19 ستمبر کو بلایا گیا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے قومی سلامتی اجلاس کی دعوت ہے کیونکہ بھارت، کشمیر، فاٹا، انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت قومی سلامتی معاملات پر ہم ایک تھے، اب بھی ایک ہیں اور آگے جا کر بھی ہم ایک ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر جو اجلاس بلائے جاتے ہیں اور ان کیمرا اور آف دی ریکارڈ ملاقاتوں پر مباحثے نہیں ہوتے اور عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے۔انہوں نے کہا کہ میں مجبور ہو کر اس حد تک بات کروں گا کہ کچھ غیرذمہ دار لوگ جن کا قومی سلامتی، گلگت بلتستان، کشمیر اور خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان لوگوں نے اس اجلاس میں ایک لفظ نہیں کہا لیکن ٹی وی پر آکر بات کررہا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ قومی سلامتی پر یہ اجلاس بلایا گیا اور اس طرح کی باتوں سے قومی معاملات اور خارجہ پالیسی کے معاملات متنازع ہوجاتے ہیں اور یہ جس کا بھی ترجمان ہے ان کو فوری طور پر چپ کرانا چاہیے اورکوئی بھی غیر ذمہ دارانہ بات نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی پر بریفنگز لینی پڑیں گی اور آگے بھی ملنا پڑے گا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ پہلا قومی سلامتی بریفنگ نہیں ہے۔
بلاول نے کہا کہ قومی سلامتی کے امور پر آئندہ کسی میٹنگ میں شیخ رشید ہوئے تو میں نہیں جاؤں گا۔بلاول نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس یا کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس ہو تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں لیکن کچھ غیر ذمہ دار لوگ جن کا تعلق نہ قومی سلامتی سے، نہ گلگت بلتستان سے نہ آزاد کشمیر سے نہ ہی خارجہ پالیسی سے تھا، انہوں نے مجبور کردیا ہے کہ میں اس حوالے سے بات کروں۔بلاول نے کہا کہ جنہوں نے عسکری قیادت سے ہونے والی ملاقات میں ایک لفظ نہیں کہا وہ آج کل ہر ٹی وی چینل پر آکر بات کررہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر جو اجلاس بلایا گیا اس کے حوالے سے میڈیا پر ایسی باتیں کرنے سے معاملہ متنازع ہوتا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں باہر کرنے والے کو چپ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جس نے اجلاس میں ایک لفظ نہیں کہا، وہ باہر ٹی وی پر باتیں کر رہا ہے، ایسی باتوں سے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے امور متنازع بنتے ہیں۔بلاول نے کہا کہ اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں کرنے والا جس کا بھی ترجمان ہے انہیں چاہیے کہ اُسے چپ کرائیں، ہم ملکی سلامتی پر متحد ہیں، ان کیمرا اجلاس کی بات باہر نہیں کرتے۔ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بلاول نے کہا کہ عمران جب سے وزیراعظم بنے تمام بڑے ایشوز پر ناکام ہوئے، عمران خان میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں۔ایک سوال پر بلاول نے کہا کہ آرمی چیف کی طرف سے کسی خاص ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی، گلگت بلتستان کی میٹنگ میں زیادہ بات صاف شفاف الیکشن پر ہوئی، انشاء اللہ ماضی میں جو اعتراضات رہے ہیں، وہ دورکیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان وزیراعظم بنے ہیں آج تک نہ صرف اس قومی سلامتی سے متعلق بلکہ بھارت اور پلوامہ کے اہم معاملے پر یہ ناکام رہا ہے اور ان کی اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی۔وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی معاملات پر تمام پاکستانی ایک ہوجاتے ہیں لیکن یہ وزیراعظم اس موقع پر بھی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے میں ناکام ہوا ہے، جس کی وجہ سے ماضی میں بھی اور اس اجلاس میں وزیراعظم کے بغیر قومی سلامتی بریفنگ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پر بریفنگ وزیراعظم کی موجود پر ہونی چاہیے تھی، ہم سب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اس حکومت کی ناکامی ہے جس کو درست ہونا پڑے گا کیونکہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے، اپوزیشن بھی محب وطن ہے اور اسی طرح حکومت میں بیٹھے لوگ بھی محب وطن ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کشمیر، سیکیورٹی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کی بات آئی تو ہم نے تعاون کرنا چاہا، ماضی میں ہمیشہ کیا ہے اور اس موجودہ سیٹ اپ نے ایسا ماحول بنایا ہے جہاں خدا نخواستہ قومی سلامتی کے امور پر جو باتیں ہوں گی وہ خفیہ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اہم قومی سلامتی کے امور پر وزیراعظم کو موجود ہونا چاہیے اور اگر موجود نہیں ہوسکتے تو استعفیٰ دے کر دوسرے کو موقع دیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی اور ذاتی سیاست سے بالاتر ہو کر انجام دے سکے۔
قومی سلامتی سے متعلق ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو مؤقف ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے فیصلے خود کریں، ان کا یہ حق ہے اور وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہیں تھا، ہم نے اس کی نشان دہی کی، ہم چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل کے فیصلے وہ خود کریں۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں فوراً صاف اور شفاف انتخابات کروائے جائیں، اگر شفاف انتخابات نہیں کروائے گئے تو اس سے زیادہ قومی سلامتی کو دوسرا خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے 2018 کا منشور کے صفحہ 56 میں گلگت بلتستان میں اصلاحات سے متعلق ہے اورگلگت بلتستان میں اسی منشور پر انتخابات لڑیں گے اور دیگر جماعتیں بھی اپنا منشور بنائیں اور اس پر انتخابات لڑیں۔
