قوم پرستوں کے لیے ڈنڈا اور TTP سے مذاکرات کیوں؟


پاکستانی فیصلہ سازوں کی جانب سے بلوچ اور سندھی قوم پرست ریاستی عناصر کیساتھ ڈنڈے سے نمٹنے اور تحریک طالبان پاکستان جیسے غیر ریاستی عناصر سے مذاکرات کرنے کی دوغلی پالیسی ملکی سالمیت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
 
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کسی بھی مسئلے کا حل فوجی نہیں، سیاسی ہی ہوتا ہے۔ معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں مگر ہمیں جنگ اور خون آشام دہشت گردی میں فرق واضح کرنا پڑے گا۔ افغان طالبان نے دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے خلاف 20سالہ جنگ لڑی اور جسکا اختتام ایک مذاکراتی عمل کے بعد ہوا جس میں دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔ لیکن پاکستان میں معاملات ذرا مختلف ہیں۔ مظہر کہتے ہیں کہ پاکستان پچھلے 20 سال سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے جس میں فوجی و سیاسی قیادت کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری نشانہ بنے۔ جن غیر ریاستی طالبان سے وزیراعظم عمران خان آج مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، ان سے ماضی میں بھی ا۔ن مذاکرات کا عمل ہوا تھا مگر ناکام رہا جس کے بعد فوجی آپریشن کیا گیا۔ تب کئی قبائلی علاقے پاکستان کے لئے نوگو ایریاز بن چکے تھے اور ریاست کے اندر ریاست قائم ہو چکی تھی۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حالیہ انٹرویو نے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا آغاز ہوا ہے تو وہ افغانستان میں کیوں؟ دوئم کن شرائط پر کیونکہ یہ یکطرفہ نہیں ہوئے جیسا کہ ماضی میں بات چیت کے دوران باتیں سامنے آئیں۔ سوئم کس گروپ سے بات ہو رہی ہے؟ انکا کہنا ہے کہ ہماری ریاستی کنفیوژن اور کمزوریوں کی وجہ سے ہر طرف آپ کو ایسی آوازیں ملیں گی، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں۔ لہازا بہتر ہوتا کے وزیراعظم یا ان کی حکومت اس حوالے سے واضح پالیسی بیان دیتی۔ پارلیمنٹ میں بحث ہوتی تاکہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پتہ چلتے۔ 2014 کے واقعات کے بعد جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا اور پورے ملک میں ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ان کا بھی یہی مقصد تھا۔ اگر بات سب سے خفیہ رکھی جائے اور اچانک ایک دن وزیراعظم غیرملکی ٹی وی پر انکشاف کریں تو سوالات تو اٹھیں گے۔

مظہر کہتے ہیں کہ امریکی میں 9/11 حملوں کے ایک ماہ بعد مشرف نے تب کے ISI سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کو دو علماء کرام مفتی نظام الدین شامزی اور مولانا مفتی جمیل کے ساتھ ملا محمد عمر کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے کسی اور ملک منتقل کر دیں، مگر یہ ہو نہ سکا اور اکتوبر 2001میں افغانستان پر امریکہ اس کے اتحادیوں نے حملہ کر دیا۔ پاکستان کی پالیسی میں ماضی کی جنگ کے مقابلے میں اس جنگ میں یہ فرق آیا کہ روس کے خلاف ہم نے امریکہ کے ساتھ جہاد افغانستان کیا اور جنگ میں ان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کے لوگ گرفتار کرکے ان کے حوالے کیے۔ جنوری 2002 میں ہم نے تمام جہادی تنظیموں پر بھی پابندی لگا دی مگر اسی سال پاکستان میں دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خود مشرف پر دو بار حملے کی کوشش ہوئی۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز خود کش دھماکے میں بال بال بچے اور 2007 میں بےنظیر بھٹو شہید کر دی گئیں، یہی نہیں 2013کے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی، پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے لئے الیکشن لڑنا ناممکن بنا دیا گیا۔ ان جماعتوں کو سوات اور مالا کنڈ میں آپریشن کی حمایت اورلبرل نظریات کی وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا۔

مظہر کہتے ہیں کہ 2013 میں پہلی بار فوجی قیادت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کیا تو کچھ مذہبی جماعتوں کے علاوہ عمران خان نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن جب 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور کا بھیانک واقعہ ہوا تو عمران سمیت ساری جماعتیں ایک صفحہ پر تھیں مگر اس سے پہلے مذاکرات ہوئے مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔ اب ریاست نے پھر ایک مذاکراتی عمل کا آغاز کیا ہے جسے خفیہ رکھا جا رہا یے اور جسے وزیراعظم کی تائید حاصل ہے۔ ظاہر ہے اس میں کوئی سیاسی لوگ شامل نہیں۔ مظہر کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج کا انتظار ہے مگر اہم ترین سوال یہ یے کہ عام معافی کی آفر صرف تحریک طالبان پاکستان کے لئے کیوں ہے، یہ موقع ان بلوچستان اور سندھی قوم پرستوں کو کیوں نہیں دیا جا رہا جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں آنا چاہیں، ہمیں ایسے عناصر کو انتہا پسندی کا راستہ ترک کرنے میں مدد کرنی چاہئے۔

مظہر عباس وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ہیں، خان صاحب! آپ کی ایک اتحادی ایم کیو ایم بھی ہے۔ 22 اگست 2016 کے بعد سے اس نے اپنا رشتہ لندن گروپ سے توڑ لیا اور قومی دھارے میں آ گئی۔ کیا ان کو معاف کیا گیا ہے، شاید نہیں آج بھی اُن لوگون پر شک کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ یہی حال بلوچستان اور اندرون سندھ کے قوم پرست گروہوں کا ہے۔ خدارا، گڈ اور بیڈ دہشت گرد کی اصطلاح سے باہر نکلیں۔ یا تو ریاست سب کیلئے مشروط عام معافی کا اعلان کرے یا پھر اپنی رِٹ قائم کرے تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ غیر ریاستی عناصر ریاست سے زیادہ طاقت ور ہیں۔

Back to top button