جسٹس شوکت صدیقی نے فیض حمید پر کیا الزامات لگائے؟

https://youtu.be/KE9COGjFksY
حالانکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بدلنے کے حوالے سے افواہیں کئی روز سے چل رہی تھی لیکن ان کی تبدیلی اس روز عمل میں آئی جب مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیض حمید کو انکے سیاسی کردار کی وجہ سے باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ فیض حمید جسیے متنازعہ کردار کو آرمی چیف کا امیدوار بنانے کی بجائے انکا جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کی بنیاد پر احتساب کرنا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 6 اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران مریم نواز کے حملے کا بنیادی ہدف آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ مریم نے کہا کہ پاکستان کے ادارے ملک کی قوت ہیں لیکن جب کوئی ان اداروں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ اداروں کی کوئی خدمت نہیں کرتا بلکہ ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض بارے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے، اسکے علاوہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی انہوں نے دستخط کے ساتھ بیان حلفی جمع کرایا جو قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل فیض حمید نے نہ صرف میرے خلاف کیس بنایا بلکہ سزا کی بھی یقین دہانی کرائی اور اس بات کی بھی یقینی بنایا کہ کوئی ایسا بینچ نہ بنے جو 2018 کے الیکشن سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت دے دے’۔ مریم نے کہا کہ ‘اگر ہمیں ضمانت مل جاتی تو ان کی 2 سال کی محنت ضائع ہوجاتی، انکی 2 سال کی محنت یہ تھی کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو پاناما کیس میں جے آئی ٹی میں پیش کیا جائے، اس کے بعد انہیں پاناما کے بجائے اقامہ پر نکال دیا گیا، پھر ان کے رہنماؤں کو مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے کا کہا گیا اور جنہوں نے بات نہیں مانی انہیں سزا دی گئی اور ان کے خلاف بھی کیسز بنائے گئے۔

مریم نواز نے کہا کہ ‘میرے خلاف مقدمہ جنرل فیض کا بنایا ہوا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ نیب نے بغیر مشاورت کے ریفرنس کی منظوری دی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میڈیا کی مجبوریاں جانتی ہوں کہ وہ میرا بیان نہیں چلاسکتا اور چند نے لکھا کہ مریم نواز نے پاکستان کے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ایک شخص کی حرکات کو ادارے کے ساتھ نہ جوڑا جائے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا نواز شریف کے ساتھ اس طرح کا رویہ تھا کہ ان کی ذاتی رنجش کی بو آنے لگی تھی اور ہر مرتبہ ان کا فیصلہ نواز شریف کے خلاف آتا تھاانہوں نے کہا کہ ‘آپ لوگ کہتے تھے کہ نواز شریف امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتا ہے تو، میری درخواست کے ذریعے قوم کو واضح ہوگیا کہ عمران خان نے امپائر کو ساتھ ملا کر حکومت کو گرایا اور اس امپائر کا نام جنرل فیض حمید ہے’۔ فیض حمید کے بارے میں آرمی چیف کو شکایت کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے پٹیشن میں تمام باتیں سامنے آگئی ہیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی اپیل میں مریم نواز نے بنیادی طور پر جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز کی پٹیشن کو بنیاد بنایا ہے جس میں انہوں نے فیض حمید پر دباو ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت نے دعویٰ کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی مرضی کے فیصلے دینے پر انھیں وقت سے پہلے چیف جسٹس بنوانے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کروانے کی پیشکش کی گئی تھی۔جسٹس شوکت صدیقی نے یہ الزام راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لگایا تھا جس کی بنیاد پر ان کی بطور جج چھٹی کروا دی گئی تھی۔ اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک اہلکار ان سے ملے اور کہا کہ اگر وہ ان کی مرضی کے فیصلے دیں گے تو وہ اُنھیں اس سال ستمبر میں ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوا دیں گے۔

جسٹس صدیقی کے مطابق انھیں کہا گیا کہ ’ہماری مرضی کے فیصلے دو تو تمہیں نہ صرف وقت سے پہلے چیف جسٹس بنا دیں گے بلکہ ریفرنس کو بھی ختم کروا دیں گے۔‘ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا رھس کہ وہ اپنے ضمیر کو گروی رکھنے پر موت کو ترجیح دیں گے۔اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے انکار کے بعد آئی ایس آئی کے اہلکار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی سے رابطہ کر کے اُنھیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس شوکت صدیقی کو شامل نہ کرنے کے لیے کہا اور یہ بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تسلیم کر لی تھی۔

اپنی برطرفی کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس شوکت صدیقی نے تحریری طور پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کے لئے مرضی کے بینچ بنوائے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سا مقدمہ کون سے بینچ کو بھجوانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کرنا اسلام آباد ہائی کورٹ کی ذمہ داری تھی لیکن نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والے ریفرنس کی نگرانی آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کرتی رہی کیونکہ اُنھیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج احتساب عدالت کی کارروائی نہ دیکھ لے۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں آئی ایس آئی کو بریفنگ دی جاتی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی فراغت کا باعث بننے والے خطاب میں مزید کہا کہ ’اُنھیں معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی روزانہ کی کارروائی کہاں جاتی رہی ہے اور اُنھیں یہ بھی معلوم ہے کہ سپریم کورٹ میں کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے۔‘ انکا کہنا تھا کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ آج کے بعد ان کے ساتھ کیا ہو گا لیکن وہ کسی طور پر بھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے۔ تاہم اس تقریر کے بعد تب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر بطور جج برطرف کر دیا تھا۔

Back to top button