کوئٹہ سے اغوا شدہ افغان کرنل کا سراغ نہ مل سکا؟

https://youtu.be/Fp6scE5HcrA
کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے افغان آرمی کے ایک کرنل کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے جو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان پہنچے تھے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں موجود افغان قونصل خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ شہر کے مصروف ترین منان چوک سے افغان فوج کے ایک کرنل سردار محمد ہوتک کو ’نامعلوم مسلح افراد ساتھ لے گئے تھے اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔‘ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وہ معلومات لے کر اس بارے بیان دیں گے تاہم بعد میں انھوں نے نہ بارہا رابطے کے باوجود بی بی سی کو کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو نے اس واقعے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ میں افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل عبدالخالق ایوبی کے مطابق اُنہیں پاکستانی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ کرنل ’اُن کے پاس نہیں ہیں۔‘ افغانستان کے صوبے زابل سے تعلق رکھنے والے افغان آرمی کے کرنل سردار محمد ہوتک دیگر سینکڑوں افغان شہریوں کی طرح افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بیرون ملک جانا چاہتے تھے لیکن پھر غائب ہو گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ افغان آرمی کے یہ کرنل پاکستانی ویزے پر آئے تھے یا پھر غیر قانونی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم خیال۔کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستانی ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔
افغان کرنل سردار ہوتک کے ایک رشتہ دار کے مطابق وہ افغانستان کے صوبے زابل میں افغان آرمی سے منسلک تھے اور اب امریکہ جانا چاہتے تھے۔ کوئٹہ میں افغان قونصلیٹ کے مطابق سردار ہوتک نے اپنا نیا پاسپورٹ 21 ستمبر کو کوئٹہ میں واقع افغان قونصلیٹ سے حاصل کیا تھا۔ سردار ہوتک کے بھائی کے مطابق ’ان کے بھائی کو کوئٹہ شہر کے منان چوک سے نامعلوم افراد نے 21 ستمبر کو اغوا کیا ہے اور تاحال کسی نے اُن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ہیں۔‘
کوئٹہ میں پشتون قوم پرست پارٹی کے ایک کارکن نصیب خان نے بتایا کہ ’سردار ہوتک اُنکے دوستوں کے ساتھ کوئٹہ میں رہ رہے تھے جنہیں 21 ستمبر کو منان چوک سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ایک ساتھی سردار ہوتک کے ساتھ افغان قونصلیٹ گئے تھے، جہاں وہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کروانا چاہتے تھے۔ واپسی پر جب وہ منان چوک پہنچے ہیں تو ایک گاڑی میں سوار کچھ لوگ انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔‘ نصیب خان کے مطابق ’سردار محمد ہوتک اس سے پہلے بھی کوئٹہ میں افغان پناہ گزین کی حیثیت سے رہ چکے ہیں اور تب سے اُن کے کوئٹہ شہر میں کئی دوست ہیں۔‘ یاد رہے کہ منان چوک کوئٹہ کے مصروف ترین بازاروں میں سے ایک ہے اور یہ شہر کے دو پولیس تھانوں کے حدود میں آتا ہے، جس میں ایک سول لائن پولیس تھانہ اور دوسرا سٹی پولیس تھانہ ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی؟ سردار ہوتک کے بھائی نے بتایا کہ وہ ایف آئی آر اس لیے درج نہیں کروا سکے کیونکہ وہ خود پاکستان جا نہیں سکتے اور اُن کے کہنے پر کوئی پاکستانی شہری ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست نہیں دے رہا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ہو سکتا ہے اُن کے بھائی کوئٹہ سے کہیں باہر دوسرے شہر یا دوسرے ملک چلے گئے ہوں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’بھائی کا فون نمبر، واٹس ایپ اور فیس بک 21 ستمبر سے بند ہے اور اُنھیں بھائی کے پاکستانی دوستوں نے بتایا ہے کہ سردار ہوتک اغوا ہوئے ہیں۔
افغان آرمی کے لاپتہ کرنل کے بھائی کے مطابق کرنل سردار ہوتک کے دو بچے دس سالہ بیٹا اور سات سالہ بیٹی پانچ سال قبل ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور اب گھر پر صرف ان کی اہلیہ موجود ہیں۔ اگرچہ ابھی تک لاپتہ کرنل کے بارے میں پاکستانی حکام نے کچھ نہیں بتایا، لیکن اس سے پہلے گذشتہ ماہ کوئٹہ سے حکام نے پچاس کے قریب ایسے افغان خاندانوں کو واپس افغانستان بھیج دیا تھا، جو حال ہی میں چمن کے راستے کوئٹہ آئے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق وہ مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول نہیں کریں گے۔
