موسمیاتی تبدیلی سے پانی کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے

اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں دنیا کو خبردار کرتے کہا ہے کہ 2050 تک پانی کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے ۔عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ‘سی او پی 26’ سربراہی اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق اقدام اٹھائیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2018 میں پہلے ہی 3 ارب 60 لاکھ افراد کو سالانہ کم از کم ایک ماہ تک پانی کی ناکافی رسائی حاصل تھی۔
موسمیاتی تحقیق کے سے وابستہ ادارے کے سربراہ پیٹیری تالاس نے کہا کہ ہمیں پانی کے بڑھتے بحران پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک گلاسگو میں منعقد کی جائے گی ، ڈبلیو ایم او کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ گزشتہ 20 برس کے دوران زمین پر ذخیرہ شدہ پانی کی سطح ہر سال ایک سینٹی میٹر کی شرح سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ آبادی والے علاقوں کو خطرہ ہے جو روایتی طور پر پانی فراہم کرتے ہیں۔ایجنسی نے کہا کہ پانی کی حفاظت کے لیے غیر تسلی بخش اقدامات ہیں ، یہ بات بھی اہم ہے کہ زمین پر صرف 0.5 فیصد پانی ہی قابل استعمال ہے۔
