کیا ندیم انجم کے آنے سے ISI غیر سیاسی ہو پائے گی؟

https://youtu.be/8GJGNq6F2XE
پاک فوج میں 6 اکتوبر کو ہونے والی تقرریوں اورتبادلوں میں بنیادی طور پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی سفارشات کو فوقیت دی گئی، خصوصا نئے آئی ایس آئی چیف کے نام پر بالآخر وزیراعظم کی بجائے آرمی چیف کا فیصلہ مانا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ عمران خان کسی اور جرنیل کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کرنا چاہتے تھے لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ندیم احمد انجم کے نام پر اصرار کیا اور بالآخر انہیں کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو لاہور، کراچی یا راولپنڈی کا کور کمانڈر بنانے کی بجائے اس لیے پشاور کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے تا کہ وہ افغان طالبان اور تحریک طالبان سے متعلقہ معاملات کو دیکھ سکیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کی خبریں پچھلے کئی روز سے مارکیٹ میں گردش کر رہی تھیں اور دوسری جانب مریم نواز شریف بھی ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہی تھیں۔ فیض حمید کے تبادلے کی خبر چلنے سے گھنٹہ پہلے بھی مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو چارج شیٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کی پرموشن کرنے کی بجائے ان کا احتساب کیا جائے اور جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کی روشنی میں ان سے جواب طلب کیا جائے۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی جرنیل ہیں اور انہیں پروفیشنل سولجرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ سابقہ آئی ایس آئی چیف فیض حمید کی طرح اپنے ادارے کو سیاست میں ملوث کرنے کی بجائے اس کی اصل ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے۔ خیال رہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا تقرر آئینی طور پر وزیراعظم کا اختیار ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرلز کے تقرر اور تبادلے آرمی چیف کا اختیار ہوتا ہے۔ فیض حمید کو لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی طرح سیاسی جرنیل قرار دیا جاتا تھا جنہوں نے آئی ایس آئی آئی کے ادارے کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ عمران خان ایک ایسے جرنیل کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کرنا چاہتے تھے جس کا ان سے اچھا تعلق تھا اور انہیں امید تھی کہ وہ ان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے میں ان کے مددگار ثابت ہوں گے۔ تاہم آرمی چیف کا موقف تھا کہ اس نازک وقت میں ایسے جرنیل کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا جائے جس پر کوئی الزام نہیں ہو اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کے بیرونی دشمنوں کی سازشیں ناکام بنانے پر صرف کر سکے۔ چنانچہ بحث کے بعد لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو نیا ڈی جی ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنے کا فیصلہ ہوا۔
یاد رہے کہ ماضی میں جب بھی آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل ہوتا ہے تو فورا ہی نئے سربراہ کے نام کا اعلان کر دیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ فیض حمید کے جانے کے بعد ندیم احمد انجم کے نام کا اعلان کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔ یاد رہے کہ ندیم احمد انجم کا تعلق پنجاب رجمنٹ سے ہے اور اس سے پہلے وہ کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور آئی جی فرنٹیئر کانسٹیبلری بلوچستان کے عہدوں پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ فیض حمید کو پشاور کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نئی پوسٹنگ سے پہلے کور کمانڈر کراچی تھے۔ انکی جگہ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کو کور کمانڈر کراچی تعینات کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تعینات کیا گیا ہے۔ میجر جنرل عاصم ملک کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی یے اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کی جگہ پاک فوج کا ایجوڈنٹ جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی جگہ کور کمانڈر گوجرانوالہ لگایا گیا ہے عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے پنجاب رجمنٹ کی لائٹ اینٹی ٹینک بٹالین میں کمیشن حاصل کیا، انہیں کمانڈ اسٹاف اور انسٹرکشنل اسائمنٹس کا تجربہ بھی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کمبائنڈ آرمز سینٹر یو کے سے گریجویٹ ہیں۔ وہ اسٹاف کالج کوئٹہ کے بھی گریجویٹ ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ایڈوانس اسٹاف کورس برطانیہ کے بھی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے ماسٹر ڈگری کنگز کالج لندن اور این ڈی یو اسلام آباد سے حاصل کی، انہیں روایتی اور غیر روایتی خطرات کے ماحول میں کمانڈ کا وسیع تجربہ ہے۔ ندیم احمد انجم نے مغربی سرحد اور ایل او سی پر بھی کمانڈ کی ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی طویل خدمات انجام دی ہیں۔ ندیم انجم نے جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کو بھی کمانڈ کیا۔ وہ کمانڈنٹ اسٹاف کالج کوئٹہ اور کمانڈر فائیو کور سندھ بھی رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعیناتی سے آئی ایس آئی کا سیاسی کردار بھی محدود ہوجائے گا۔

Back to top button