قوم پرست بلوچ خواتین فدائین کیوں بن رہی ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ قوم پرست بلوچ مزاحمت پسندوں کو بلوچ آبادی کے بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے جو کہ گوریلا جنگ میں مصروف ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بلوچستان پرمسلط جدید نوآبادی نظام فرسودہ ہے اور عوام دشمن ہے جس میں بلوچ عوام کی جمہوری شرکت، مساوی ترقی اور سماجی پیش رفت ممکن نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کے قدرتی ذرائع اور ان سے ملنے والی آمدنی بلوچستان اور اس کے عوام کے کام نہیں آتی جس میں سی پیک منصوبہ اور گوادر کی بندرگاہ بھی شامل ہیں۔ ایسے میں ریاست کے ہاتھوں بلوچوں کی نسل کشی اور نسلی تعصب نوجوان نسل کو اور بھی بیگانہ کرہا ہے۔ امتیاز عالم کے بقول بلوچستان پر ایک جعلی سرداری نظام مسلط کیا گیا ہے جس کا وہاں کے عوام اور ان کی جمہوری تمناوں سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اس استحصال کی وجہ سے بلوچستان کے مسئلے کا کوئی حل نکلنے والا نہیں۔ ایسے میں ریاست پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر کا خاتمہ کر کے انکی قومی امور میں شرکت کو یقینی بنائے گی یا پھر ایک بے نتیجہ جنگ لڑتی رہے گی جس کا بنیادی مقصد بلوچوں کے جائز حق غضب کرنا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی بلوچ قوم پرست شاری بلوچ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس جیسی بلوچ خواتین کی بڑی تعداد نے کرد عورتوں کی طرز پر بلوچ پیش مرگہ تشکیل دیا ہے جس میں شامل سینکڑوں نوجوان خواتین اپنی جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان فدائی خواتین کا ترانہ براہوی زبان میں ہے جس میں وہ بلوچ سرزمین کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ شاری بلوچ کے خودکش حملے کے بعد پنجاب سے آنے والی آوازوں میں کہا گیا ہے کہ اسطرح کا خود کش حملہ پاگل پن ہے اور دشمن نے نوجوانوں کو برین واش کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دوسری جانب بلوچوں کے نزدیک دو کمسن بچوں کی ماں شاری نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے اور اس کی قربانی ہمیشہ یاد رہے گی۔ بلوچوں نے ایک طرف دکھ اور دوسری جانب خوشی کا اظہار کیا ہے۔ راتوں رات ایک بڑا لٹریچر وجود میں آرہا ہے۔ لوگوں نے شاری کی شان میں ہزاروں اشعار لکھے ہیں۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دو متحارب ردعمل ہم 1970 میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ مغربی پاکستان میں ”محبت کے زمزموں کا ذکر تھا یا پھر بیرونی ہاتھ تھا۔“ تو مشرقی پاکستان میں آزادی کے رزمیوں کی تاریخ لکھی جارہی تھی۔ لیکن بلوچوں کی بیرونی حملہ آوروں اور نوآبادیاتی غلبوں کے خلاف قومی آزادی کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود بلوچستان۔ یاد رہے کہ بلوچستان دنیا کی قدیم ترین آبادی ہے جہاں قدیم ترین انسان کے آثار آج بھی ملتے ہیں۔ امتیاز عالم بتاتے ہیں کہ پاکستان سے ”الحاق“ کے بعد بلوچ مسلسل اپنی قومی خود مختاری کے لیے لڑتے رہے۔ پہلی بلوچ مزاحمت پرنس عبدالکریم خان نے خان آف قلات کی الحاق کی حمایت کے خلاف کی۔ لشکر کشی کی لیکن ناکام رہا۔ 1955 میں صوبے ختم کر کے ون یونٹ بنادیا گیا، جس کے خلاف مزاحمت شروع ہوگئی۔ دوسری مزاحمت نواب نوروز خان نے 1958-59 میں گوریلا جنگ شروع کر کے کی۔ وہ گرفتار ہوئے اور ان کے پاچ بیٹوں اور بھتیجوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ تیسری مزاحمت شیر محمد بجرانی مری کی قیادت میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے شروع کی جو 1963 سے 1969 تک جاری رہی تاآنکہ ون یونٹ ختم ہوا اور فائر بندی ہوگئی۔ چوتھی مزاحمت بھٹو کی جانب سے بلوچستان میں نیپ کی حکومت توڑنے کے خلاف 1973 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے شروع کی جو 1977 کے آخر میں ختم ہوئی۔ پانچویں مزاحمت کا آغاز خیر بخش مری کی گرفتاری پر 2001 میں ہوا جس کے ردعمل میں 2004 میں گوادر میں تین چینی انجینئر ماردئیے گئے۔ اسکے بعد میر بالاچ مری اور اکبر بگٹی نے 15 نکاتی مطالبات پیش کیے۔ لیکن مشرف کے ایما پر اکبر بگٹی کو 2006 میں شہید کردیا گیا جس سے بلوچ مزاحمت کی آگ پھیل گئی۔ اس بلوچ مزاحمت کو تقریباً دو دہائیاں ہوچکی ہیں لیکن اسکے ختم ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا 40 فیصد ہے جسے بزور طاقت مقبوضہ علاقہ بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کی آبادی کل آبادی کا چھ فیصد اور بلوچ اس کا 52 فیصد ہیں جو ایک ایسی مجتمع قوت نہیں بن سکے ہیں کہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرلیں۔ البتہ بلوچستان میں مزاحمت کو کچلنا ناممکن ہے اور اس کا بوجھ اٹھانا پاکستان کے دگرگوں معاشی حالات میں مشکل تر ہوتا جائے گا۔ بلوچ مزاحمت پسندوں کو بلوچ نوجوانوں اور آبادی کے بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے اور ایک وسیع و عریض سنگلاخ علاقہ ان کی گوریلا جنگ کے لیے نہایت موزوں ہے۔ ایسے میں ریاست کے ہاتھوں بلوچوں کی نسل کشی اور نسلی تعصب نوجوان نسل کو اور بھی بیگانہ کر رہا ہے۔ لہٰذا اگر ریاست نے بلوچستان کو مشرقی پاکستان بننے سے روکنا ہے تو بلوچوں کو ان کے جائز حقوق لازمی دینا ہوں گے۔
