عمران کی کس حرکت نے فوج کو نیوٹرل ہونے پر مجبور کیا؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کارعمار مسعود نے کہا ہے کہ اگر عمران خان اور انکی ہائیبرڈ حکومت اس قدر شدت سے ناکام نہ ہوتی تو اسٹیبلشمنٹ کے ’’نیوٹرل‘‘ ہونے کا عوامی خواب، ایک سپنا ہی رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہے کہ اسکا ہائبرڈ نظام کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا ہے اور اب اسے ایسے کاموں سے توبہ کر لینی چاہیے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود نے عمران خان کے دور حکومت کو پاکستانی سیاست کا تاریک ترین دور تو قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا یے کہ عمرانی دور سے ہمارے اداروں اور ہماری جماعتوں نے ایسے سبق بھی سیکھے کہ جن کی نظیر تاریخ پاکستان میں پہلے کبھی دستیاب نہیں تھی۔ ماہرین معیشت کے مطابق دورِ عمران میں ہمارے معاشی اعشاریے نظر سے بھی نیچے گر گئے۔ اخلاقیات کے اساتذہ کہتے ہیں کہ اس دورِ قبیح میں اخلاقیات زمیں بوس ہو گئیں۔ سماجیات کے دانشور کہتے ہیں کہ عمرانی دور میں سماجی اقدار کا جنازہ نکل گیا۔ یہ ایک ایسا دور تھا جو ہمیشہ اپنی تنزلی، لاقانونیت، فسطائیت اور اخلاقی انحطاط کی وجہ سے تاریخ میں جانا جائے گا۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود مجھے کہنے دیجئے کہ عمران دور حکومت کے جتنے فوائد پاکستان کو نصیب ہوئے ہیں وہ ثمرات تو 74 برس میں کسی حکمران کے نام سے منسوب نہیں ہوئے۔ اس دور سے بہت سے لوگوں، اداروں، جماعتوں نے بہت سے سبق سیکھے۔ اس دور نے ہمیں وہ درس دیئے کہ جس کی نظیر تاریخ پاکستان میں پہلے کبھی دستیاب نہیں تھی۔
بقول عمار مسعود، اس دور الم ناک سے سب سے پہلا سبق فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سیکھا۔ اب انہیں اچھی طرح سمجھ آ گیا ہے کہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ نہ صرف ناکام ہو گیا ہے بلکہ اس سے ہمیشہ کے لیےتوبہ میں ہی بہتری ہے۔ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ کی تابندہ روایات سے منہ موڑ کر ’’نیوٹرل‘‘ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر عمران کی حکومت اس قدر شدت سے ناکام نہ ہوتی تو ہمارا اسٹیبلشمنٹ کے ’’نیوٹرل‘‘ ہونے کا خواب، ایک سپنا ہی رہتا۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ اس دورِ تاریک سے ایک سبق ہماری عدالتوں نے بھی سیکھا۔ انہیں ادراک ہوا کہ نظریہ ضرورت سے آئین کا قتل اور نظریہ جمہوریت سے آئین سربلند ہوتا ہے۔ انہیں سبق ملا کہ عدالتیں آئین کی حفاظت پر مامور ہیں اور عدالتوں کو وہ فیصلے کرنے ہیں جو آئین ِپاکستان کی عظمت اجاگر کریں، عوامی اداروں کا تحفظ کریں۔ عدالتیں اب ثاقب نثار اور آصف کھوسہ جیسے فیصلے کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اب آئین شکنی کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آئین کی پاسداری کروانا عدالتوں کا کام ہے۔ چاہے اس کے لیے رات کے بارہ بجے ہی کیوں نہ عدالتیں کھولنی پڑیں۔ چاہے اسکے لیے قیدیوں والی وین کی فوٹیج ہی کیوں نہ چلوانی پڑے۔ اگر عمران کا دور نہ آتا تو انصاف کا دروازہ آئین کے تحفظ کے لیے بند ہی رہتا۔ یہ اسی دورکا اعجاز ہے کہ عدالتوں نے وہ فیصلہ کیا کہ جس کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں۔ اس دور ستم سے سب سے زیادہ سبق ہماری سیاسی جماعتوں نے سیکھا۔ انہوں نے سیکھا کہ اگر ہائبرڈ نظام کے نام پر کوئی ڈکٹیٹر شپ ہم پر مسلط کر دی جائے تو اس کا مقابلہ تمام جمہوری جماعتوں کو مل کر کرنا ہے۔ ذاتی اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہے۔ نفرت اور نفاق کی سیاست کو بھول جانا ہے۔ چاہے آپ کی جماعت کا تعلق کے پی سے ہو یا سندھ سے، بلوچستان سے ہو یا پنجاب سے، متحد ہوکر، اس نظامِ جبر کے خلاف لڑنا ہے۔ ایک مشترکہ کوشش عوام کی نمائندہ جماعتوں کو کرنی ہے۔ استقلال اور ہمت سے طاغوتی قوتوں کو شکست دینی ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ خود سوچئے یہ عمران خان کے دور حکومت کا کتنا بڑا ثمر ہے کہ آج تمام جمہوری جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔ علاقائی اور لسانی سیاست سے بالاتر ہو کر سب ایک مشترکہ عفریت کے خلاف کمر کس چکی ہیں۔ یہ کتنے انبساط کی بات ہے کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے لیے بلاول بھٹو مصر رہے۔ بلاول کو وزیر خارجہ بنانے کے لیے شہباز شریف اصرار کرتے رہے۔ کابینہ میں ایم کیو ایم بھی ہے، جے یو آئی بھی ہے، بلوچستان کی جماعتیں بھی ہیں اور مولانا فضل الرحمن ان جماعتوں کے اتحاد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ محسن داوڑ شہباز شریف کے ساتھ عمرے پر سعودی عرب گئے۔ عمران خان نے اگرسب جمہوری جماعتوں پر ستم نہ کئے ہوتے تو ہمیں یہ منظر کب دیکھنے کو ملتا۔
عمران خان کے دورِ المناک کا اعجاز یہ بھی رہا کہ میڈیا کو عقل آگئی۔ مثبت رپورٹنگ سے نوکری تو پکی ہو سکتی ہے مگر آزادیٔ اظہار کی طاقت سلب ہوتی ہے۔ ایک ایجنڈے پر عمران خان کے حق میں بولنے والوں کی قلعی عوام پر کھل چکی۔ اب لوگ زرخرید اینکروں اور بے ضمیر تجزیہ کاروں کو نظر انداز کر کے یو ٹیوب پر سچ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
لیکن عمار مسعود کے مطابق عمران خان کے دورِ ہذیان اور ہیجان میں سب سے زیادہ سبق پاکستانی عوام نے سیکھا۔ انہیں پتہ چل گیا کہ جو شخص کہتا تھا وہ نوے دن کے اندر ملک کی تقدیر بدل دےگا وہ اپنی قسمت بدلنے کے چکر میں برسر اقتدار آیا تھا، اسے عوام سے، اس ملک سے، اس وطن کے آئین سے، کوئی سروکار نہیں۔ اسکے دور حکومت سے عوام کو درس ملا کہ نفرت کی سیاست کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے اور بے بنیاد الزام لگانے والے اکثر ملزم ثابت ہوتے ہیں۔ عوام کو سمجھ آ گئی کہ ملک کی اساس آئین اور جمہوریت میں پوشیدہ ہے اس سے انحراف کرنے والے، کاذب اور کم ظرف تو ہوسکتے ہیں، قوم کے لیڈر نہیں ہو سکتے۔

Back to top button