کیا حکومت کے لیے فرح خان کو پاکستان لانا ممکن ہوگا؟


حکومت پاکستان کی جانب سے عمران خان اور بشری بی بی کی مبینہ فرنٹ پرسن فرح خان عرف گوگی کے خلاف کرپشن الزامات پر کارروائی کرنے اور انہیں دبئی سے واپس لانے کا اعلان توکر دیا گیا ہے لیکن ایسا کرنے کے لئے پاکستانی حکام کو ٹھوس ثبوت، شواہد اور گواہیاں پیش کرنا ہوں گے جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر کے ڈی پورٹ کیا جا سکے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ دیکھنا ہے کہ یو اے ای حکام اس ٹریٹی پر عمل درآمد کے لئے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں سے مطمئن ہو پائیں گے یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک معاہدے کے تحت ملزموں اور مجرموں کی ایک سے دوسرے ملک کو حوالگی ممکن ہے اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں حسین لوائی سمیت کئی پاکستانیوں کو حوالے کیا بھی جا چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فرح خان کے معاملے کو بھی دیکھیں تو ممکنہ طور پر ان کی حوالگی بھی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو ٹھوس ثبوت اور گواہیاں پیش کرنا ہوں گی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ثبوت اور شواہد دکھا کر حسین لوائی کی حوالگی حاصل کی گئی تھی وہ پاکستانی عدالتوں میں ثابت نہیں ہو پائے۔ چنانچہ بڑا چیلنج یہ ہے کہ فرح خان کو پاکستان واپس لاکر اس پر لگنے والے الزامات کو بھی ثابت کیا جائے۔
یاد رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اعلان کیا ہے کہ ’ہم فرح گوگی کو واپس لارہے ہیں‘، تاہم فرح کا کہنا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے شوہر احسن گجر کہتے ہیں کہ ان کے اثاثہ جات کے جو اعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ ہم اتنے ارب پتی نہیں ہیں۔ احسن جمیل گجر نے بی بی سی سے حالیہ گفتگو میں یہ تصدیق تو نہیں کی کہ وہ اور ان کی اہلیہ کب پاکستان آئیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کسی اور ملک کی شہریت نہیں پاکستان میں ہمارا کاروبار ہے اور ہمارے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں، ہم واپس آنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت ہمیں ہراساں کر رہی ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نیب کا پریس ریلیز قانون کی خلاف ورزی ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس کو جا کر کیا جواب دینا ہے، ہم نے ابھی کسی وکیل کی خدمات بھی نہیں لیں، ہم کسی عدالت سے سزا یافتہ نہیں اور نہ ہی کہیں ہم پر کوئی کیس درج ہوا ہے۔ بشری بی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی کے شوہر احسن گجر کہتے ہیں کہ میڈیا پر ہمارے اثاثوں بارے جو اعداد وشمار بتائے جا رہے ہیں وہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اتنے بلین، ٹریلین پیسے نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ احسن جمیل گجر بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا کے بچوں کے گارڈین بھی ہیں اور انہوں نے یہ انکشاف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں اہنے خلاف ایک کیس کی سماعت کے دوران کیا تھا۔ احسن جمیل گجر کا کہنا تھا کہ ہمارے خاندان کے مالی معاملات اتنے بھیانک بھی نہیں جتنے میڈیا میں پیش کئے جارہے ہیں، شاید ہم سے کہیں ایک دو فیصد غلطی ہوئی ہو، یا کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، ہم نے تو پچھلے سالوں میں اربوں روپے ٹیکس دیا ہے اور ٹیکس ایمنسٹی بھی ہم نے حکومت سے لی تھی۔
احسن جمیل گجر سے کہا گیا کہ اگر انکے اثاثوں کی غلط مالیت بتائی جارہی ہے تو وہ خود صحیح مالیت بتا دیں۔ لیکن اس پر انکا کہنا تھا کہ جسے زیادہ شوق ہے وہ ہمارے اثاثوں کی تفصیل ایف بی آر سے نکلوا لے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ مسلم لیگ ن نے ہی اپنے سابقہ دور میں کہا تھا کہ ایک خاص حد کے بعد بزنس کوچیک کے ذریعے ہی کرنا ہو گا، ہم نے اسی قانون کو فالو کیا سوائے زمین کے عوض زمین لینے کے معاملے کے جو کہ مکمل طور پر قانونی ہے۔ باقی ہمارے تمام بزنس کی ٹریل موجود ہے اور وہ سی بی آر میں موجود ہے۔ فرح کے شوہر احسن گجر نے بتایا کہ گزشتہ 20 سال سے انکی اہلیہ انکے ساتھ بزنس کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انکی بیماری کے دوران پانچ سال پہلے فرح کو انفرادی طور پر ٹیکس فائل کرنے پڑے اور پیپرز میں آنا پڑا اور وہ سب ڈکلیئرڈ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ فرح خان عرف فرحت شہزادی کے خلاف تحقیقات کن بنیادوں پر ہو سکتی ہیں؟
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ فرح گوگی کو دوبئی سے واپس لانے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران نیازی بس تم نے اب گھبرانا نہیں ہے، ہم فرح گوگی کو واپس لارہے ہیں، عمران کی ہر چوری کا ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے۔ فرح گوگی عمران نیازی کی فرنٹ پرسن ہے، ہم اس کو پکڑ کر اس سے سچ اگلوائیں گے، کسی کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ خیال رہے کہ نیب نے پہلے ہی فرح خان کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس معاملے میں سابق نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ نیب کی کارروائی کا آغاز اسی وقت ہو جاتا ہے جب چیئرمین نیب انکوائری کی ہدایات دیتے ہیں وہاں ایف آئی آر والا معاملہ نہیں ہوتا۔ نیب کا کہنا ہے کہ ’فرح خان کے اکاؤنٹ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 84 کروڑ 70 لاکھ روپے جمع کرائے گئے جو کہ ان کے آمدن کے معلوم شدہ ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے۔’ یہ رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی اور اسے جمع کرانے کے بعد فوراً نکال لیا گیا۔
فرح خان کو واپس لانے کے حکومتی اعلان کے بعد سے فرح اور ان کے شوہر احسن جمیل کی پروفائل کے علاوہ ان کےاثاثہ جات، بینک اکاؤنٹس اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات میڈیا کو مسلم لیگ ن کے ذرائع کی طرف سے مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھجوائی جا رہی ہیں۔
اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فرح خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں شکوہ کیا کہ ’ایک عام شہری جس نے کبھی سرکاری عہدہ نہیں رکھا اچانک غیر معمولی قومی اہمیت اختیار کیوں کر گئی؟ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا سادہ جواب ہے کہ مجھے پی ٹی آئی کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سابق پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت لمبا کام ہے، ایک ایک ٹرانزیکشن کو دیکھا جائے گا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی، پیسہ کہاں سے آیا کہاں کہاں سے سرا ملتا ہے۔ اور کسی سے کنیکشن ثابت کرنے کے لیے دوستی ہونا کافی نہیں اس میں ثبوت اور گواہیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ تو یہ سب سامنے لانے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ مکمل تحقیقات ہوں گی۔‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ تحقیقات کسی بھی پاکستانی شہری کے خلاف ہو سکتی ہیں اس کے لیے کسی سرکاری عہدے پر ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ انکے مطابق ’اگر کوئی بھی شخص جس کی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ہو اور بظاہر اس کا کوئی جواز نظر نہ آئے تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ یہ پیسہ اس کا اپنا ہے اور وہ کسی کی پراکسی تو نہیں یعنی یہ کسی کا فرنٹ پرسن تو نہیں؟‘ وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں پہلے تو متعلقہ شخص کا ٹیکس ریکارڈ دیکھا جائے گا۔
قومی احتساب بیورو کے سابق پراسیکیوٹر کے بقول نیب بنا تو اسی کام کے لیے ہے، لیکن پہلے ٹیکس کو دیکھنا ہے اور جو دولت دکھائی دے رہی ہے وہ ٹیکس گوشواروں میں آمدن اور اخراجات سے مطابقت رکتھی ہے یا نہیں۔ یہاں معاملہ کلئیر ہو جاتا ہے، اور آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر ایسا نہیں اور کرپشن دکھائی دے رہی ہے تو پھر یہ جرم ہے اور نیب اس پر آگے کارروائی کرے گا۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ کہ ایمنیسٹی سکیم کے تحت اگر کوئی بندہ فائدہ لیتا ہے تو آپ اس سے سوال نہیں کر سکتے۔ یہ قانون ہے تاہم اگر عمران کے دور میں انھوں نے ایمنسٹی کو استعمال کیا تو پھر دلچسپ صورتحال ہو گی اور یہ ایسے ہی دیکھا جائے گا کہ آپ نے اپنی بلیک منی کو وائٹ کیا۔ لہذا نیب دیکھے گا کہ کیا واقعی عمران خان نے اپنی ذات کو فائدے کے لیے یہ سکیم لانچ کی تھی۔‘
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے فرح خان پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے اور سابق وزیراعظم کو بھی اس سے منسلک کیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’فرخ گوگی کو ملنے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم عمران خان نے منظور کی کیونکہ ان پیسوں کے کوئی ذرائع نہیں تھے۔‘ انکامکہنا تھا کہ ‘فرح گوگی کے مکمل اثاثے 21 کروڑ روپے تھے جب عمران خان حکومت میں آئے اور رواں سال مارچ تک ان کے اثاثے 85 کروڑ روپے تھے۔۔۔ ایسا کون سا کاروبار ہے جس میں تین سال میں 60 کروڑ کا منافع ہوجائے۔’
لیکن عمران شفیق کہتے ہیں کہ پہلے ثبوت چاہیے ہوں گے۔ صرف اس بنیاد پر کہ ان کے اثاثے زیادہ ہیں، کاروائی نہیں ہو سکتی۔ ایڈوکیٹ حسن اسلم شاد کہتے ہیں کہ نیب کا قانون ذرا مختلف ہے جسے امتیازی قانون بھی کہا جاتا ہے۔ انکے مطابق نیب کا قانون دیگر قوانین سے مختلف ہے، جیسے کہ کریمنل لا میں ریاست نے الزام کو ثابت کرنا ہوتا ہے لیکن نیب کے قانون میں یہ ملزم نے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ فرح خان کے معاملے کو دیکھا جائے تو ان کے اثاثہ جات عمران خان کے دور حکومت میں دوسو ملین سے آٹھ سو ملین تک بڑھے ہیں لیکن یہاں بھی فرح کو ہی اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرنی ہو گی بلکہ ریاست کو بھی کچھ ثبوت دینا ہوں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ریاست کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ فرح جنھیں عمران خان کی بے نامی کہا جا رہا ہے ان کے اثاثوں کا ان کی زمینوں کا عمران خان یا ان کی اہلیہ بشری بی بی سے کیا تعلق ہے۔
حسن شاد کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں قوانین کو الزام تراشیوں اور اپنے مخالفین کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ان کی نظر میں یہ وہی سکہ ہے جسے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے استعمال کیا گیا اور اب ان کی جماعت اقتدار میں آنے کے بعد بظاہر اسی حربے کو استعمال کر رہی ہے۔ ’مقصود چپڑاسی اور دیگر کچھ لوگوں پر یہی الزام ہے کہ وہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی بے نامی جائیداد کےلیے استعمال ہوئے۔‘
اب سوال یہ کہ کیا متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کا کوئی ایسا معاہدہ ہے جس کی بنیاد پر فرح خان یا کسی بھی اور شخص کو الزامات کی وجہ سے پاکستان کی حکومت حوالگی کی درخواست کرے۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن شاد نے بتایا کہ یو اے ای اور پاکستان کے درمیان ٹریٹی تو ہے لیکن یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ ملک کے اندر اس قانون کی کیا تشریح کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاہدے میں ملزموں اور مجرموں کی ایک سے دوسرے ملک کو حوالگی کی جاتی ہے۔ انکے مطابق فرح خان کے معاملے کو دیکھیں تو پکے شواہد کے ساتھ ہی ان کی حوالگی ممکن ہو پائے گی۔

Back to top button