قوم پرست بلوچ نوجوان عسکریت پسند کیوں بن رہے ہیں؟


سکیورٹی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش کے خاتمے اور بلوچ قوم پرستوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی آپریشن کے علاوہ نوجوانوں کی سوچ تبدیل کرنے اور انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کے باوجود نہ صرف تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں میں عسکریت پسندی کا رجحان برکھا ہے بلکہ اس دوران جو خودکش حملے کیے گئے ان میں حصہ لینے والوں کی بڑی تعداد جدید تعلیمی اداروں سے پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل تھی۔

اس کی ایک مثال حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں چینی زبان کے مرکز کی وین پر ہونے والے خودکش دھماکے کی ہے جو شاری بلوچ نامی نوجوان بلوچ خاتون حملہ آور نے کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس حملے میں چینی شہریوں سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے چند برس قبل کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھی نوجوان افراد ملوث تھے۔ تاہم بلوچستان میں شورش کو سرکاری حکام ایک بیرونی سازش قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان بشمول بلوچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ بلوچ نوجوانوں کا عسکریت پسندی کی جانب مائل ہونے کے عوامل پر بات کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومتی و سکیورٹی حکام کی جانب سے نوجوانوں کو اس سب سے دور رکھنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد وہ پہلا موقع تھا کہ دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک کے قریب فرنٹیئر کور کے کیمپ میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے لیے بلایا گیا تھا لیکن بعض صحافیوں کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس بریفنگ کا منظر بہت زیادہ حیرانی کا باعث تھا کیونکہ وہاں ماضی کی طرح نمائشں کے لیے اسلحہ و گولہ بارود نہیں تھا بلکہ اس کے برعکس کتابیں اور لٹریچر وغیرہ رکھا گیا تھا۔ بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا تھا کہ یہ لٹریچر انھوں نے ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹرز تربت سے برآمد کیا ہے۔

کوئلہ پھاٹک کے ساتھ ایف سی کے کیمپ میں ٹینٹ بالکل اسی طرح لگے ہوئے تھے جس طرح اس سے قبل اسلحہ وغیرہ کی نمائش کے لیے لگائے جاتے تھے لیکن وہاں میزوں پر اسلحہ اور گولہ و بارود نہیں بلکہ کتابیں، میگزین، پمفلٹ اور ماہنامے وغیرہ رکھے گئے تھے۔ ان کتابوں اورلٹریچر کے بارے میں بریفنگ کے لیے ایف سی کے آفیسر محمد اعظم وہاں موجود تھے جو کہ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کتابوں اور لٹریچر کو عطاشاد ڈگری کالج سمیت دو مقامات سے چھاپوں کے دوران برآمد کیا گیا۔ ان میں پمفلٹ، ماہنامے اور میگزین وغیرہ زیادہ تر قوم پرست طلبا تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مختلف گروپوں کے تھے جن میں مبینہ طور پر بلوچوں پر مظالم سے متعلق مواد شامل تھا۔ کتابوں میں سے بعض مختلف قوم پرست اور سیکولر مصنفین کی تھیں جن میں سے کچھ بلوچ قوم پرست تحریکوں سے متعلق تھیں جبکہ ان میں سے کچھ کے مصنفین بھی بلوچ قوم پرست تھے۔ اسی طرح تربت سے چھاپوں میں برآمد کی جانے والی کتابوں میں دنیا کے دیگر خطوں میں آزادی کی تحریکوں اور ان کے رہنمائوں کی حالات زندگی اور ان کی جدوجہد سے متعلق کتابیں بھی شامل تھیں۔ ان میں چی گویرا اور دیگر رہنماﺅں کی حالات زندگی سے متعلق کتابیں بھی تھیں۔

تاہم تاریخ دان مبارک علی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مصنفین کی جو کتابیں رکھی گئی تھیں ان میں سے زیادہ تر وہ تھیں جو کہ کراچی، لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ کتابوں میں مہاتما گاندھی کی حالات زندگی کے علاوہ بلوچستان کے قوم پرست رہنماﺅں کی حالات زندگی سے متعلق بھی کتابیں شامل تھیں۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل اعظم کا کہنا تھا کہ ‘کالعدم تنظیم بی ایس او آزاد کے شرپسند اور کالعدم بی ایس او آزاد کے عناصر اس لٹریچر کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ان کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حمایتی بنا کر شرپسندی اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘

کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تربت میں دو کارروائیوں میں بڑی تعداد میں قابل اعتراض لٹریچر وغیرہ برآمد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ لٹریچر پاکستان اور اس کے استحکام کے خلاف تھا اور اس کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر کے ملک کے خلاف کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ضبط کیا گیا۔ ماضی میں بلوچستان میں کالجز اور یونیورسٹیوں میں بلوچ اور پشتون قوم پرست طلبا تنظیموں کی گرفت سب سے زیادہ مضبوط تھی جس کے باعث سرکاری حکام کے لیے یہ مشکل تھا کہ وہ ان تعلیمی اداروں میں جاکر نوجوانوں سے براہ راست رابطے کرتے۔
لیکن 2000 کی دہائی کے آخر میں بالخصوص 2010 کے بعد پاکستان کے سینئر فوجی حکام نہ صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گئے بلکہ وہاں انھوں نے بلوچ طلبا کے ساتھ براہ راست روابط کا بھی اہتمام کیا۔ کوئٹہ میں جن تعلیمی اداروں میں براہ راست ملاقات یا رابطوں کا اہتمام کیا گیا ان میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف بلوچستان اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے علاوہ تربت یونیورسٹی اور دیگر ادارے شامل تھے۔

بلوچستان میں شورش کو سرکاری حکام ایک بیرونی سازش قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے ساتھ ساتھ بلوچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز جو اقدامات کر رہی ہیں وہ قیام امن کے لیے ہیں جو کہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ کراچی میں خودکش حملے کی مذمت کے لیے طلب کردہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سکیورٹی فورسز کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’آج سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزادی کے ساتھ گھوم پھر سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہاں دہشت گردی اتنی زیادہ تھی کہ ہم عید پر بھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے۔ لیکن آج فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل سکتے ہیں۔‘

بلوچستان کی صورت حال پر نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش بنیادی طور پر عدم مساوات سے شروع ہوئی۔ انکا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ بلوچ جوانوں کا خودکش حملوں کا حصہ بننے کی دو وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ 2012 سے 2017 تک بلوچستان میں مسلح بغاوت میں ایک بڑا وقفہ آیا اور وہ کمزور ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی اہم قیادت باہر بیٹھی تھی۔ لیکن پچھلے تین چار سال سے قیادت یہاں موجود ہے اور لڑ رہی ہے۔ اب اس کی لیڈرشپ سرداروں اور باہر بیٹھے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر یہاں لڑنے والوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔ اس لیے وہ یہاں ہیں اور وہ خطرات مول لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ علاقائی جغرافیے، سائز اور طاقت کا اتنا فرق ہے کہ ان کو یہ احساس ہوا ہے کہ وہ سارا وقت اس جنگ کو روایتی طریقے سے لڑ نہیں سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے جنگ کی غیر روایتی حکمت عملی یا اربن گوریلا وار فیئر کا طریقہ اپنایا ہے۔ ان کے خیال میں بلوچ عسکریت پسند گروہوں نے یہ طریقہ طالبان کی کتاب کے ایک صفحے سے لیا ہے جس کے تحت اب انھوں نے خود کش حملے شروع کیے ہیں۔

Back to top button