عمرانڈو گورنر کی چھٹی ،PTI کیلئے ایک بڑا دھچکا


صدر عارف علوی کی جانب سے صاف انکار کے بعد وفاقی حکومت نے عمرانڈو بریگیڈ کے سرکردہ رکن گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ان کے عہدے سے برطرف کر کے گورنر ہاؤس لاہور میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے لیکن دوسری جانب کپتان کے آئین شکنی ساتھی نے بھی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ کامیاب کون ہوتا ہے۔

وفاقی حکومت نے رات گئے ایک اعلان میں مطلع کیا کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو 17 اپریل کو صدر کو بھیجے گئے وزیراعظم کے مشورے پر عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے کہا گیا ہے جس کے بعد وہ ایک بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سپیکر جب قائم مقام گورنر بنتا ہے تو ڈپٹی سپیکر قائم مقام سپیکر بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری آسانی سے پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اس سے پہلے آئین شکن صدر علوی کی جانب سے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق تجویز مسترد کردی گئی تھی، جس نے 10 مئی کو گورنر کا عہدہ خالی ہونے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ صدر عارف علوی نے آرٹیکل 101(3) کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم کی سمری مستری کردی تھی۔ اس آرٹیکل کے مطابق گورنر صدر کی ’مرضی‘ سے اس وقت تک عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے جب تک صدر اسےنہ ہٹائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا ماننا ہےکہ آئین کے آرٹیکل 48 (2) کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل 101 (3) کے لحاظ سے واضح ہے کہ ’صدر کسی بھی معاملے میں اپنی صوابدید پر کام کرے گا، آئین نے اسے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہے‘۔ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بھی آرٹیکل 101(3) اور 48 (2) کا سہارا لیا، وہ ان آرٹیکلز کا حوالہ متعدد ٹوئٹس میں دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے مشورے پر خود کار عمل درآمد گورنر کو عہدے سے ہٹانے کے بجائے، صدر کے معاملے پر کارروائی کے لیے مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت کی کابینہ ڈویژن کی جانب سے گورنر پنجاب کو برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے اور ان کے گورنر ہاؤس میں داخلے پر پابندی لگانے کے باوجود عمر سرفراز چیمہ نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کو گورنر ہاؤس کا قبضہ نہیں لینے دیں گے اور مزاحمت کریں گے۔ عمرانڈو بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے عمر سرفراز چیمہ کا گورنر ہاؤس میں داخلہ روکنے کے لیے گورنر ہاؤس کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمر چیمہ کو کسی بھی صورت میں اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکومت نے انہیں فراہم کردہ سکیورٹی بھی واپس لے لی ہے۔

اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گورنر چیمہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ باعزت طور پر گھر چلے جائیں اور بطور صدر عارف علوی اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں جو آئندہ دنوں میں عوامی غصے کا باعث بنے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’صدر وزیر اعظم کے مشورے پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں اور کوئی بھی انحراف آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا‘۔ راناثنا اللہ نے کہا تھا کہ عارف علوی اور عمر چیمہ کو سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا چاہیے، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر کے پاس کوئی ’موروثی‘ یا ’ لافانی‘ اختیارات نہیں ہیں۔ حکومت کے عمل کو حملہ محسوس کرتے ہوئے گورنر چیمہ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’سسلین مافیا‘ نے گورنر ہاؤس کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ ’غیر آئینی سمریوں اور نوٹیفکیشنز کے ساتھ عہدے پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ شاید گورنر پنجاب صوبائی اسمبلی توڑ دیں لہٰذا 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب وفاقی حکومت نے عمر چیمہ کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر آئین کے آرٹیکل 104 کے مطابق موجودہ گورنر کی تقرری تک قائم مقام گورنر کے فرائض سرانجام دیں گے۔

اس پیش رفت سے نہ صرف گورنر ہاؤس بلکہ پنجاب اسمبلی کی صورتحال بھی بدل جائے گی کیونکہ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا جبکہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا جھکاؤ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت نے ایک بریک چال چلی ہے۔ خیال رہے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر دونوں کو ایوان میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے۔

گزشتہ روز صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ٹوئٹ میں کہا تھاکہ ’صدر نے وزیر اعظم پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ گورنر پنجاب کو ان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا‘۔ اپنے نوٹ میں وزیر اعظم کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے، صدر نے لکھا تھا کہ موجودہ گورنر کو نہیں ہٹایا جا سکتا کیونکہ ان پر بدانتظامی کا کوئی الزام ہے نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے انہیں سزا دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے آئین کے منافی کسی کام کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا تھا کہ ’بطور سربراہ مملکت میرا فرض ہے کہ میں آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کروں‘۔

جیسے جیسے پی ٹی آئی کے مقرر کردہ گورنر کی برطرفی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تاخیر ہوتی جارہی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت مخلوط حکومت میں ہلچل بڑھ رہی ہے، کیونکہ انہیں صوبائی کابینہ کی تشکیل میں ناکامی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کر رہی ہے، انہیں خدشہ ہے کہ گورنر عمر سرفراز چیمہ صوبائی وزراء سے حلف نہیں لیں گے۔ خیال رہے اس سے قبل گورنر نے لاہور ہائی کورٹ کے مشورے کے خلاف حمزہ کو حلف دلانے سے بھی انکار کر دیا تھا، جس نے بعد میں قومی اسمبلی کے سپیکر کو اس کام کی ہدایت دی گئی تھی۔ صدر نے وزیراعظم کو لکھے گئے اپنے نوٹ میں گورنر کے آئینی کردار پر بھی روشنی ڈالی، جس میں کہا گیا کہ عمر چیمہ نے انہیں پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے استعفیٰ کی صداقت اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی وفاداریاں تبدیل ہونے کے حوالے سے رپورٹ بھیجی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے صدر علوی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صحت مند اور صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی کرے جہاں غیر قانونی تبدیلی لانے کے لیے اراکین سے زبردستی کی جاسکتی ہے نہ ہی انہیں خریدا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے خاص طور پر ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ صدر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وہ اس مشکل وقت میں آئین کی دفعات کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے پرعزم ہیں اور گورنر پنجاب کو ہٹانے کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشورے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

تاہم عارف علوی کے اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے عمر سرفراز چیمہ نے رات گئے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ ’اٹارنی جنرل اور وزیر داخلہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات خانہ جنگی کا باعث بن سکتے ہیں، دونوں نے ثابت کر دیا کہ وہ درباری اور رائے ونڈ محل کے ٹھگ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب گورنر ہاؤس کو یرغمال بنایا گیا تھا تو حالات پر قابو پالیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو نتیجہ مختلف ہوگا اور خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

عمر چیمہ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، اٹارنی جنرل اور پنجاب کے ’غیر آئینی‘ وزیر اعلیٰ ان حالات کے ذمہ دار ہوں گے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمر چیمہ برطرفی کے باوجود گورنر ہاؤس پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔

Back to top button