قوم کوعمران خان کا احسان مند کیوں ہونا چاہیے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ 2018 سے 2021 کے دوران پاکستان میں زندہ رہنے کی قیمت، یعنی ‘کاسٹ آف لیونگ’ میں مہنگائی کے باعث 35 فیصد اضافہ ہو چکا ہے لیکن پیارے پاکستانیوں کو گھبرانے کی بجائے اپنے کپتان کا احسان مند ہونا چاہیے کہ اس نے ابھی تک پاکستان کو دنیا کے غریب ترین ممالک کی لسٹ میں صومالیہ، چاڈ اور کانگو کے ساتھ شامل ہونے سے روک رکھا ہے، ورنہ وہ چاہتا تو ایسا بھی کر سکتا تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ گزشتہ ماہ آئی ایم ایف کے نامزد گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے لندن میں ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کا مثبت پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی محنت مشقت کی کمائی سے بھیجے جانے والے زرِ مبادلہ کی قدر میں موجودہ شرح ِ تبادلہ کے سبب اضافہ ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر پاکستان میں تیس ارب ڈالرِ زرمبادلہ بھیجا جا رہا ہے اور روپے کی قدر میں دس فیصد کمی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ زرِ مبادلہ بھیجے جانے والوں کو روپے کی قدر میں کمی سے تین ارب ڈالر کا اضافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر معاشی پالیسی کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ تو کچھ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کے اس لطیفہ نما بیان میں روپے کی قدر میں کمی کے نتیجے میں لاکھوں سمندر پار پاکستانیوں کے مقابلے میں کروڑوں غیر سمندر پار پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تکالیف کو کچھ لوگوں کے نقصان کے قالین تلے دبانے کی کوشش پر میڈیا میں موصوف پر خاصی تنقید ہوئی مگر وہ آج بھی اپنے وچاروں پر بلا ترمیم قائم ہیں۔
وسعت اللہ کہتے ہیں کہ تازہ ’’ ارسطو کاری‘‘ مشیرِ خزانہ شوکت ترین کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ موصوف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران فرمایا کہ پاکستان میں غربت سے بھی بڑا مسئلہ افراطِ زر کا ہے۔ یہ بتانے کے بجائے کہ پاکستان میں شرح غربت 48 سے 40 فیصد کے درمیان جھول رہی ہے، مشیر موصوف نے یہ خوشخبری سنائی کہ عالمی بینک کے تازہ آنکڑوں کے حساب سے گزشتہ ایک برس کے دوران غربت کی شرح پانچ اعشاریہ چار فیصد سے کم ہو کر چار اعشاریہ دو فیصد ہو گئی ہے، یعنی ایک اعشاریہ دو فیصد کی کمی۔
موصوف نے فرمایا کہ دیہی علاقوں میں زبردست فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے سبب موٹر سائیکلوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ متوسط اور اوپری طبقے کے دن بھی پھرے ہیں۔ ریستوران بھرے پڑے ہیں۔کاریں طلب میں اضافے کے سبب مہنگی ہو گئی ہیں۔
وسعت اللہ کے بقول، یہ وہی دلائل ہیں جو پرویز مشرف ، شوکت عزیز اور خود شوکت ترین 2000 سے 2006 تک کے زمانے کی ادھاری ببل اکانومی یا غبارہ معیشت کے سنہری دور میں دیا کرتے تھے۔ لیکن جب یہ غبارہ 2008 میں پھٹا تو پھر ’’نہ تو تو رہا نہ تو میں میں رہا‘‘ والا معاملہ ہو گیا۔ پرویز مشرف اور شوکت عزیز ہوا ہو گئے اور بھائی ترین بھی کئی برس تک تارہ بننے کے بعد دوبارہ بحفاظت لینڈ کر گئے کیونکہ ان سے بہتر فی الحال کون جانتا ہے کہ بھنوروں سے گھری معیشت کو بھنور سے کیسے نکالا جاتا ہے۔
وسعت اللہ سوال کرتے ہیں کہ گزشتہ تین برس میں ڈالر اوپن مارکیٹ میں 120 سے 178 روپے تک کیسے پہنچا ؟ انکے بقول اس سوال۔کا جواب دینے کی بجائے اعلیٰ حضرت شوکت ترین نے سٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے ہمکلام ہوتے ہوئے براہِ راست تبصرے سے بوجوہ گریز کیا۔ بس کرنسی ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ڈالر اوپر جا سکتا ہے تو نیچے بھی آ سکتا ہے اور ڈالر پر کمند ڈالنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وسعت اللہ کہتے ہیں کہ مجھے ہرگز نہیں معلوم تھا کہ افراطِ زر غربت سے بڑا مسئلہ ہے۔ مجھے تو بس یہ معلوم تھا کہ جب درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اور پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے۔چنانچہ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھر لگژری کہلائے جانے والے آئٹمز سے لے کر روٹی تک ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے اور اس عمل کے دوران اگر آمدنی اور تنخواہ ساتھ نہ دے تو غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگر ’باقر و شوکت ڈاکٹرائن‘ پر اعتبار کر لیا جائے تو سب اچھا ہے، بہترین ہے، کا راگ ہی سنائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسمان تک پہنچتی ہوئی غریب عوام کی چیخیں کسی کو سنائی نہیں دیتیں۔
یہ بھی پڑھیں: اس شہر کو مرنے سے بچا لو
بقول وسعت اللہ، بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی کنزیومر پرائس انڈیکس کے ریکارڈ کا ہی ایکسرے کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔اگست 2018 سے اکتوبر 2021 کے درمیان کاسٹ آف لیونگ یعنی زندہ رہنے کی قیمت میں اوسطاً پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔خوراک کے نرخوں میں گزشتہ 38 ماہ کے دوران اڑتالیس فیصد، صحت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بتیس فیصد، آٹے کی قیمت میں انسٹھ فیصد، چینی کی قیمت میں اناسی فیصد، مرغی کے گوشت کی قیمت میں ایک سو اٹھارہ فیصد، خوردنی تیل کی قیمت میں نواسی فیصد ، دالوں کی قیمت میں تراسی فیصد ، انڈوں کی قیمت میں اکہتر فیصد ، تازہ دودھ کی قیمت میں تینتیس فیصد اور سبزیوں کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جولائی 2018 سے قبل اسٹیج پر سے یہ کہا جاتا تھا کہ مہنگائی دراصل حکمرانوں کی کرپشن کا نتیجہ ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں عالمی سطح پر کوویڈ کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ پھر بھی ہمارے ہاں قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش سے اب بھی کم ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ گھبرانا نہیں ہے، اچھے دن بس نکڑ پر کھڑے ہیں کے ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی تکیہ کلام میں جوڑ لیا جائے کہ میرے پاکستانیو ! ہمارے ہاں غربت ضرور ہے مگر آج بھی دنیا کے غریب ترین ممالک یعنی صومالیہ، چاڈ اور کانگو سے کم ہے۔ چنانچہ پاکستانی عوام کو اپنے کپتان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ابھی ہمیں غریب ترین ممالک کا باسی بننے سے روک رکھا ہے ورنہ وہ چاہتا تو ایسا بھی کر سکتا تھا۔
