ق لیگ کی شکایات، تحفظات دور کرنے کیلئے حکومتی ٹیم متحرک

عمران خان کی جانب سے اتحادیوں کو منانے کے سلسلے میں تیزی آتی جارہی ہے، اسی حوالے سے ق لیگ اور تحریک انصاف کے مابین وفاق اور پنجاب میں اتحاد قائم رکھنے کےلیے دونوں جماعتوں کے سینئر رہنما آج اسلام آباد میں ملاقات کرکے مذاکرات کریں گے۔ تحریک انصاف کے جانب سے مذاکراتی ٹیم میں وزیر دفاع پرویز خٹک، جہانگیر ترین، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ارباب شہزاد شامل ہوں گے جبکہ مسلم لیگ (ق) کا وفد وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الہیٰ، چوہدری سالک حسین اور چوہدری حسین الہیٰ پر مشتمل ہوگا۔ پنجاب کے چیف سیکریٹری اعظم سلیمان اور انسپکٹر جنرل آف پولیس شعیب دستگیر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے بعد کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے تحریک انصاف کا اتحادی رہنے کے انحصار آج کی ملاقات کے نتیجے پر منحصر ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کو انتظامیہ میں حصہ اور متعلقہ حلقوں کے ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے جانے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے نمائندگان کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلے ہی 2 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی مونس الہٰی نے وزیر اعظم عمران خان سے حال ہی میں ملاقات کی جس میں انہوں نے ق لیگ سے کیے گئے وعدوں پر تبادلہ خیال کیا۔ فی الوقت مسلم لیگ (ق) سے صرف طارق چیمہ ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ ق لیگ کی قیادت نے وعدے کے مطابق مونس الہیٰ کو بھی وفاقی وزارت دینے کا مطالبہ دہرایا تھا تاہم ابھی تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) نے تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرے ورنہ اس حوالے سے ان کی یہ آج آخری ملاقات ہوگی جس کے بعد ق لیگ کی قیادت پنجاب اور وفاق میں حکومت کی اتحادی ہونے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان گزشتہ ملاقات میں مونس الہیٰ نے وفاقی وزیر اسد عمر کو اتحادی جماعتوں کے درمیان اختیارات میں اشتراک کے حوالے سے تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی۔
طے شدہ فارمولے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے وزرا حافظ عمار اور باؤ رضوان کی متعلقہ وزارتوں میں تعیناتی اور تبادلوں کے حوالے سے امور پر بھی مشاورت کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ق) قانون سازوں کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ اسکیموں کے ترقیاتی بجٹ میں حصے کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کم از کم 3 اضلاع اور کئی تحصیلوں میں تبادلوں اور تعیناتی کے حوالے سے انتظامی امور میں مکمل اختیارات کی خواہاں ہے۔ معاہدے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو گجرات، چکوال اور ضلع بہاولپور سمیت ڈسکہ، پھالیہ، منڈی بہاؤالدین تحصیل میں انتظامی کنٹرول کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جہاں پولیس، انتظامی اور سرکاری محکموں کے افسران کی تعیناتی یا تبادلے مسلم لیگ (ق) کی تجاویز کے مطابق کی جائیں گی۔ تاہم حکومت کی اتحادی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کو اس معاملے پر سخت تحفظات ہیں۔
پارٹی کے تحفظات اور تحریک انصاف سے اتحاد کے حوالے سے رکن قومی اسمبلی مونس الہیٰ کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت نے 2018 کے انتخابات سے قبل ہی ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی شروع کردی تھی اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولا پر عمل نہیں کیا تھا اور مسلم لیگ (ق) کے گڑھ میں تحریک انصاف کے امیدوار نامزد کیے تھے۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کے قیام کے بعد ابتدائی طور پر تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ق) کے نامزد دوسرے امیدوار کو پنجاب کابینہ کا حصہ نہیں بنایا تھا اور بعد میں انہیں اس وقت کابینہ کا حصہ بنایا گیا جب مسلم لیگ (ق) کے حافظ یاسر نے تحریک انصاف کی وزارت میں مسلسل مداخلت کرنے پراحتجاجاً استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو پنجاب چلانے میں متوازن سوچ اپنانی ہوگی. ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے ایک اور اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کو 10 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا ہے اور مسلم لیگ (ق) کو بھی بہتر پیکج دیا جانا چاہیے کیوںکہ یہ بڑی جماعت ہے اور پنجاب اور وفاق دونوں میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ وفاق میں ان ہاؤس تبدیلیوں میں ان کی جماعت کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدام سے ملک میں سیاسی انتشار پیدا ہوگا جس کا اپوزیشن جماعتیں فائدہ اٹھائیں گی۔ مسلم لیگ (ق) کے مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے کے حوالے سے سوال کے جواب رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ‘سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کا آپس میں رابطہ ہوتا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اتحادی جماعتوں کے درمیان طے شدہ اجلاس ان کی جماعت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور تحریک انصاف سے روابط کےلیے نہایت اہم ہوگا’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button