لانگ مارچ کے ممکنہ شرکا میں خوف کی لہر کیوں دوڑ گئی؟

معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے عمران خان کا فوری نئے الیکشن کا مطالبہ رد کیے جانے کے باوجود ان کے لانگ مارچ کا مقصد نئے آرمی چیف کی تقرری پر اثر انداز ہونے کی آخری کوشش کرنا ہے لیکن یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ بظاہر حکومت وقت اس حوالے سے حتمی فیصلہ کر چکی ہے جو خان صاحب کی امنگوں کے مطابق نہیں ہوگا، اعزاز سید کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی جانب سے لانگ مارچ کے خونی ہونے کی پیشگوئی کے بعد اس کے ممکنہ شرکا میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کو کیا ہونے والا ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے بعد پاکستان کی سیاست ایک اور نئی گرما گرمی کی طرف بڑھ رہی ہے، لگتا ہے کہ اتحادی حکومت کو اس اعلان سے فرق نہیں پڑا اور وہ اپنی آئینی مدت مکمل کرنے اور موجودہ آرمی چیف کے ریٹائر ہونے سے قبل نیا آرمی چیف مقرر کرنے کے معاملے میں پرعزم ہے۔اسلام آباد کے قابل بھروسہ ذرائع بتاتے ہیں کہ اتحادی حکومت کا طرز حکمرانی نواز شریف کے طرز سیاست جیسا ہے۔

وفاقی سطح پر اپنی 32؍ سالہ سیاست کے نتیجے میں نواز شریف اب سخت جاں ہو چکے ہیں۔ انکی سیاست کے حوالے سے اپروچ بڑی سادہ ہے، وہ ایک فوکل پوائنٹ بناتے ہیں اور اسی پر قائم رہتے ہیں چاہے کچھ ہو جائے۔ اس وقت بھی ہم یہی کچھ دیکھ رہے ہیں، اس بار فوکل پوائنٹ نئے آرمی چیف کی تقرری ہے۔ نواز شریف اس معاملے پر سمجھوتے کیلئے تیار نہیں اور وہ نیا آرمی چیف تعینات کرنے کی شہباز شریف کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے، اسی لیے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا بنیادی مقصد حکومت کو اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن ایسا کدی صورت نہیں ہوگا۔

اعزاز سید کہتے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کو نواز شریف کی طرح اکثر لوگ آرمی چیف کے تقرر پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیلے رہے ہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ اس عہدے کیلئے عمران خان کی من پسند شخصیت کون ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ وہ شخص آئندہ عام انتخابات میں ان کی اقتدار میں واپسی کو یقینی بنا سکتا ہے۔لہٰذا آرمی چیف کے تقرر سے پہلے وہ اپنی عوامی حمایت بھی دکھانا چاہتے ہیں۔ سینیارٹی کے لحاظ سے دیکھیں تو آرمی چیف کے عہدے کیلئے پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر احمد آتے ہیں۔ انہیں 2018ء میں آئی ایس آئی چیف لگایا گیا تھا لیکن ان کی جگہ 8؍ ماہ کے اندر ہی وزیراعظم عمران خان کے اصرار پر فیض حمید کو اس عہدے پر لگا دیا گیا۔ عاصم منیر کو وقت سے پہلے آئی ایس آئی آئی چیف کے عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سب جانتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نام آتا ہے۔

گزشتہ چند برس کے دوران وہ اہم عہدوں جیسا کہ ڈی جی ایم او پر کام کر چکے ہیں جس نے ٹی ٹی پی کیخلاف آپریشن کی قیادت کی تھی۔ یہ اور بات کہ اب طالبان پاکستان واپس آرہے ہیں۔ ساحر انٹرا افغان ڈائیلاگ کی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ ان کے بعد تیسرے نمبر پر نام آتا ہے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا جو بھارتی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انکے بعد جرنیلوں کی سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا نام آتا ہے جو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ پشاور میں الیون کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور پاک افغان بارڈر کی سیکورٹی بھی دیکھتے رہے ہیں۔

آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی شامل ہے اور وہ عمران خان کے من پسند ہونے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر کی جگہ سنبھالی اور وہ عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان کشیدگی کا سبب بھی بنے۔ کیونکہ فیض حمید کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا متنازعہ ترین جنرل سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کے آرمی چیف بننے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اعزاز سید کا کہنا ہے کہ عمران خان موجودہ حکومت پر سیاسی اور عوامی دباؤ ڈال کر اسے آرمی چیف کے عہدے پر تعیناتی موخر کرنے یا پھر مخصوص افسر کے عہدہ سنبھالنے سے روکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ عمران کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان نے ان کے اپنے ساتھیوں کو حیران کر دیا ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے پہلے تو یہ تک کہہ دیا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن عمران نے اعلان کو دہرایا اور جمعہ کو مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ عمران کے کچھ ساتھیوں نے اعتراف کیا ہے کہ لانگ مارچ کی تیاریاں کم ہیں اور پارٹی ورکرز کنفیوز ہیں کہ وہ آگے کیسے بڑھیں گے۔ اسی دوران فیصل واوڈا نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ مجھے عمران کے لانگ مارچ میں لاشیں اور خون نظر آ رہا ہے، یہ ایسی باتیں ہیں جنہوں نے مارچ کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور ممکنہ شرکا میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایسے میں کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔

Back to top button