کیا عمران خان کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام؟

28 اکتوبر سے شروع ہونے والا عمران خان کا حکومت مخالف مارچ پاکستانی سیاسی تاریخ کا پہلا مارچ ہوگا جسے پنجاب حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہو گی اور جسے اسلام آباد تک پہنچنے کیلئے مکمل فری ہینڈ اور سہولت کاری دستیاب ہو گی۔ تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا یے کہ 25 مئی کی طرح لانگ مارچ کے شرکا کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ تب حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور اب پنجاب حکومت کی باگ دوڑ چوہدری پرویز الہی کے ہاتھ میں ہے۔ ویسے بھی اس وقت پنجاب سمیت اسلام آباد کے چاروں اطرف پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں۔ لیخنندیخھنا یہ یے کہ عمران خان ایسی سازگار صورتحال سے کتنا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں اور لانگ مارچ کو نتیجہ خیز بنانے اور فوری انتخابات کا مطالبہ منوانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ییں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خود بھی جانتے ہیں کہ ان کے لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے لیکن انہوں نے ارشد شریف کی قتل کو کیش کروانے کی خاطر اسلام آباد کی طرف رخت سفر باندھ نے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا اصل امتحان اسلام آباد پہنچ کر شروع ہوگا۔کیا وہ اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیتے ہیں یا صرف جلسہ کر کے لانگ مارچ ختم کر دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے لانگ مارچ کو کم از کم سات روز تک خھینچیں گے اور پھر اسلام آباد تک پہنچیں گے۔ لیکن ان کے لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اسلام آباد میں داخلے پر ہوگا۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اگر تو عمران اور ان کے ساتھی پرامن رہیں گے تو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت ملے گی ورنہ انہیں وفاقی دارالحکومت میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں کسی سیاسی جماعت کو وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ میں ایسے سازگار حالات کبھی نہیں ملے جتنے اب عمران کو۔مل رہے ہیں۔ 1992 میں نواز شریف حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اس لئے ناکام ہوگیا کہ اس وقت پنجاب میں بھی ن لیگ کی حکومت تھی اور لانگ مارچ کے روز لاہور سمیت پورا پنجاب سیل کر دیا گیا جبکہ 1993 میں نواز شریف حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران پنجاب میں منظور وٹو پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ وزیراعلی اور چودھری الطاف حسین گورنر پنجاب تھے۔اس سے لانگ مارچ کئے بغیر ہی نواز شریف حکومت ختم ہوگئ اور نئے انتخابات کا اعلان ہوگیا۔
25 مئی 2022 کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران پنجاب میں ن لیگ کی حکومت تھی اور پورا پنجاب سیل کر دیا گیا جس سے لانگ مارچ ناکام ہوگیا۔ اس سے پہلے 2007 میں بینظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے خلاف لاہور سےلانگ مارچ کا اعلان کیا اور چودھری پرویز الہی نے بطور وزیراعلی اس لانگ مارچ کو ناکام بنایا۔ بینظیر بھٹو کو لطیف کھوسہ کے گھر نظر بند کردیا گیا۔2014 میں عمران خان اور طاہر القادری نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور 120 دن تک دھرنا دیا۔انہیں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے اور سانحہ اے پی ایس پشاور کی وجہ سے دھرنا ختم کرنا پڑا۔ عدلیہ بحالی تحریک کے لانگ مارچ کے دوران پنجاب میں گورنر راج تھا لیکن لانگ مارچ کے گوجرانولہ پہنچنے پر مارچ کامیاب ہوگیا اور عدلیہ بحال ہوگئی۔
2019 میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور 13 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا لیکن وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ مولانا فضل الرحمن کے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے اختلافات بھی ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے رواں سال کے آغاز فروری میں کراچی سے اسلام آباد تک طویل لانگ مارچ کیا اور یہ لانگ مارچ 34 شہروں سے گزرا۔ 10 روز میں یہ لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد پہنچا۔ اس لانگ مارچ کے اختتام کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی جس کے نتیجے میں عمران کی وزارت اعظمیِ کا خاتمہ ہوگیا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اس لانگ مارچ سے سٹیک ہولڈرز ایکسپوز ہوں گے اور واضح ہو جائے گا کہ کون کس کے ساتھ ہے۔
