فیروز خان نے اہلیہ پر تشدد کے الزامات جھوٹے قرار دے دیے

اپنی سابقہ اہلیہ علیزے سلطان کی جانب سے تشدد کے الزامات اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہونے کے بعد معروف اداکار فیروز خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی پر کبھی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی کسی انسان کو کبھی کوئی تکلیف پہنچائی ہے۔ فیروز خان پر سابق اہلیہ علیزے سلطان نے تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے کراچی کی مقامی عدالت میں شواہد بھی جمع کروائے تھے۔

علیزے پر تشدد کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کئی شوبز شخصیات نے بھی فیروز خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر شوبز میں پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ علیزے اور فیروز خان کے درمیان 21 ستمبر 2022 کو طلاق ہو گئی تھی، جس کے بعد فیروز نے بچوں کی حوالگی کے لیے کراچی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس کی سماعتیں جاری ہیں۔ اسی کیس میں ہی علیزے نے خود پر تشدد کے شواہد عدالت میں پیش کیے تھے۔

علیزے کی جانب سے عدالت میں پیش کی جانے والی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے فیروز خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تاہم اب فیروز نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے بدنام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا، فیروز نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں علیزے کا نام لہے بغیر لکھا کہ ان پر لگنے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں، وہ خود پر لگائے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر جسطرح کی الزام تراشی ان پر کی جا رہی ہے، اس کا سچائی سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ بدنام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایات بھی کردی ہیں۔

فیروز نے لکھا کہ وہ تمام قوانین کا احترام کرتے ہیں، وہ ہر انسان کے حقوق کو مانتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کی انہوں نے کسی انسان کو کبھیبجان بوجھ کر کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ یاد رہے کہ علیزے اور فیروز دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی۔ ان کے ہاں 2019 میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جسکے بعد 2020 میں ان کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ مگر رواں برس کے آغاز میں جوڑے کے ہاں دوسری بچے کی پیدائش کے بعد خیال کیا گیا کہ ان کے اختلافات ختم ہو گئے ہیں لیکن حیران کن طور پر دوسرے بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد ان کے درمیان طلاق ہوگئی۔

Back to top button