لاپتہ کوہ پیماؤں کی لاشیں اب جون میں تلاش کی جائیں گی

سردیوں میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے دوران پانچ فروری کو لاپتہ ہونے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پائیلو کی تلاش کے لیے جاری آپریشن اب باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور علی سدپارہ کے بیٹے ساجد نے اپنے والد کی موت کا اعلان کر دیا ہے۔ ساجد سدپارہ کا کہنا ہے کہ برف پوش پہاڑوں نے انکے والد کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے لیکن وہ ان کا شروع کیا گیا مشن جاری رکھیں گے۔
ذرائع کا کہنا یے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر خراب موسم اور تیز برفانی ہواؤں کے باعث عملی طور پر 15 فروری کے بعد سے لاپتہ کوہ پیماوں کی تلاش کے لیے کوئی سرگرمی نہیں کی جا سکی تھی جسکے بعد 18 فروری کے روز فیصلہ کیا گیا کہ سرچ آپریشن ختم کرکے علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی موت کا اعلان کر دیا جائے۔ چنانچہ محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا مشن جاری رکھیں گے اور انکا خواب پورا کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے محمد علی سدپارہ، چلی کے جان پابلو مہراورآئس لینڈ کے جان اسنوری موسم سرما کے دوران کے-2 کی چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب لاپتا ہوگئے تھے۔ تینوں کوہ پیماؤں کو آخری مرتبہ کے-2 کے مشکل ترین مقام بوٹل نیک پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سے موسم کی خراب صورتحال نے ان کی زمینی اور فضائی تلاش کی کوششوں کو ناکام بنا رکھا تھا۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق کو پیماوں کی موت کا اعلان جان سنوری اور جان پائیلو کے خاندان کے افراد کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد باہمی مشاورت سے کیا گیا۔ لواحقین کو بتایا گیا ہے کہ اب موسم کی شدت کے باعث لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا عمل جاری رکھنا ممکن نہیں ہے اور ان کی لاشوں کو ڈھونڈنے کے لئے جون کے مہینے کا انتظار کرنا ہوگا جب دوبارہ کوہ پیما کے ٹو سر کرنے کے لئے روانہ ہوں گے۔الپائن کلب کے ذرائع کے مطابق یہ دنیا میں کہیں بھی لا پتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش کا طویل ترین آپریشن تھا جا ناکام رہا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما نذیر صابر کے مطابق کے ٹو پر ہونے والے آپریشن کے علاوہ اب تک ’میری یاد میں اتنے طویل عرصے تک کے لیے کسی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری نہیں رکھا گیا‘۔ نذیر صابر کے مطابق ’میرے تجربے کے مطابق صرف ایسے ہی ریسکیو آپریشن کامیاب ہوتے ہیں، جن میں بروقت آپریشن شروع کیا جاسکے، کوہ پیماؤں سے رابطہ نہ ٹوٹے او جس مقام پر وہ مشکلات کا شکار ہیں اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ درست معلومات دستیاب ہوں۔‘
انکا کہنا تھا کہ کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پر علی سد پارہ کی جانب سے کے ٹو کو سردیوں کے موسم میں سر کرنے کی کوشش جان لیوا ثابت ہوئی۔ انکا کہنا یے کہ جب سدپارہ لاپتہ ہوئے تو کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما فضل بھی اس وقت کیمپ ٹو پر موجود تھے۔ اگر بروقت پتا چل جاتا تو وہ بیس کیمپ واپس آنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تلاش کے لیے اوپر جاسکتے تھے، جس سے بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی تھی۔‘
ایک اور پاکستانی کوہ پیما اور متعدد ریسکیو آپریشنز میں کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دینے والے کریم شاہ نے بتایا کہ کے ٹو کے حالیہ طویل ریسکیو آپریشن کے علاوہ سنہ 2018 میں بھی ایک چھ روزہ طویل مگر کامیاب ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ ریسکیو آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ مشکلات کا شکار کوہ پیما کے بارے میں درست اطلاعات دستیاب تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سال 2019 میں نانگا پربت پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کے لیے چھ روز تک آپریشن کیا گیا تھا۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘میری یاد میں آج تک ایسا کوئی ریسکیو آپریشن کامیاب نہیں ہوا ہے، جس میں کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں سردیوں میں کے ٹو پر جب وہاں پر درجہ حرارت منفی پچاس اور ساٹھ کے قریب ہوتا ہے اور تیز ہوائیں بھی چل رہی ہوتی ہیں، تو وہاں پر انتہائی مضبوط کوہ پیما بھی 20 گھنٹے تک ہی حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق گرمیوں میں وہاں پر درجہ حرارت منفی پانچ سے دس ہوتا ہے اس میں زیادہ وقت تک مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تجربے میں ہے کہ کے ٹو پر مشکلات کا شکار ہونے والے کوہ پیما اگر کسی گلیشیئر کے تودے کی زد میں آ جائیں تو پھر ان کی لاش تک بھی نہیں ملتی ہے۔ وہ کے ٹو ہی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح تیز ہوائیں بھی تلاش میں مدد گار ثابت نہیں ہوتی ہیں۔‘ ان کے مطابق بہت کم واقعات میں لاش بھی مل جاتی ہے، جو عموماً دوسرے کوہ پیماؤں کو ملتی ہے۔
نذیر صابر نے بتایا کہ سال 2005 میں ’ایک انتہائی اور مشکل آپریشن کامیاب ہوا تھا۔ دنیا کا مایہ ناز کوہ پیما ٹوماز ہمار میری وساطت سے نانگا پربت کو سر کرنے آیا تھا۔ اس دوران وہ چھ ہزار تین سو میڑ کی بلندی پر مسائل کا شکار ہو گیا تھا۔‘ ان کے مطابق اس موقع پر ’اس نے عقلمندی یہ کی کہ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے برف کی غار بنا لی تھی۔ وہاں سے اس نے بیس کیمپ میں رابطہ قائم کیا۔ اس کی میرے ساتھ بات ہوئی تو سب سے پہلے میں نے اس کا حوصلہ بلند کیا۔ ’اس کو بتایا کہ تم قاتل پہاڑ کو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر سر کرنے آئے ہو اور اس موقع پر صرف حوصلہ ہی تمہاری زندگی بچا سکتا ہے۔‘ نذیر صابر کا کہنا تھا کہ ٹوماز کو ریسکیو کرنے کے لیے جلد ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا تھا۔ نذیر صابر کے مطابق اس کی مدد کے لیے روس سے آنے والا ایک جدید طیارہ سوئٹزرلینڈ سے مختلف مسائل کی وجہ سے واپس چلا گیا تھا۔ ان کے مطابق ’سلووینیا کے صدر نے اس وقت کے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف سے بات کی تھی۔ جس کے بعد انتہائی خطرناک فضائی آپریشن ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کی ویڈیو اب بھی موجود ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا مشکل آپریشن تھا۔ اس آپریشن کے زریعے سے بالآخر اس کوہ پیما کو بیس کیمپ لایا گیا تھا۔‘
کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’میری یاد میں تین چار ریسکیو آپریشن کامیاب ہوئے ہیں، جن میں سال 2019 میں روس کے کوہ پیما الیگزینڈر گوکوف کو ریسکیو کرنے کا چھ روزہ امدادی آپریشن تھا۔ یہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک پہاڑی ‘لاٹو 1‘ سر کرتے ہوئے مشکلات میں گھر گئے تھے‘۔ ان کے مطابق ان کا ’ایک ساتھی ہلاک بھی ہو گیا اور وہ ایک ایسے مقام پر پھنس گئے تھے، جہاں امدادی آپریشن بہت مشکل تھا۔ الیگزینڈر گوکوف کو بھی انتہائی مشکل فضائی آپریشن کے دوران بچا لیا گیا تھا۔ یہ بھی تب ممکن ہوا کہ ان کے مقام کا علم تھا اور وہ رابطے میں تھے۔‘ کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ایک اور کامیاب آپریشن ٹوماز میکیوکز کا تھا۔ ’وہ اپنی ساتھی الزبیتھ ریویو کے ہمراہ نانگا پربت سر کر کے واپس آرہے تھے۔ واپسی کے سفر میں ان کی طبعیت خراب ہو گئی تھی۔ جس پر ان کی ساتھی نے عقل مندی کرتے ہوئے ان کو محفوظ مقام پر چھوڑا اور خود نیچے آ کر پہلے کیمپ تھری میں اس واقعے کی اطلاع دی اور اس کے بعد وہ بیس کیمپ چلی گئیں۔‘ کریم شاہ کا کہنا تھا کہ اس موقع پر کے ٹو پر موجود کوہ پیماؤں کی ٹیم نے ان کی امداد کا آپریشن کیا تھا اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔ ’یہ آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ ان کی مشکلات کا مقام ہمارے علم میں تھا جبکہ وہ رابطے میں بھی تھے۔‘
