پی آئی اے انتظامیہ کی اپنے ملازمین کے ساتھ بڑی واردات

پی آئی اے انتظامیہ نے ادارے سے رضاکارانہ علیحدگی سکیم کے تحت گولڈن ہینڈ شیک لینے والے ہزاروں ملازمین کے ساتھ ہاتھ کرتے ہوئے انکے واجبات ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی بعد ہزاروں ملازمین فاقہ کشی کا شکار ہو کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پی آئی اے کے دو سینیئر ملازمین اپنے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو کر ہارٹ اٹیک سے گزر گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ نے ملازمین کے لیے گولڈن ہینڈ شیک کے تحت ریٹائرمنٹ کی رضاکارانہ سکیم کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی تھی لیکن پھر 2 ہزار پی آئی اے ملازمین نے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایئرلائن انتظامیہ نے 31 جنوری تک ان لوگوں کے تمام واجبات کلیئر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب واجبات ادا نہیں کئے جا رہے اور حیلے بہانے بنائے جا ریے ہیں جس پر ملازمین سیخ پا ہو کر احتجاج کر رہے ہیں لیکن پی آئی اے انتظامیہ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگ رہی۔ دوسری طرف پی آئی اے حکام کا موقف ہے کہ انہوں نے ایوی ایشن ڈویژن کے ذریعے وزارت خزانہ سے واجبات ادا کرنے کی درخواست کی تھی تاہم وزارت خزانہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود کاغذی کارروائی مکمل نہ ہونے کا بہانہ بنا کر فنڈز جاری نہیں کر رہی اس لیے ابھی مزید وقت لگے گا۔ تاہم گولڈن ہینڈ شیک لینے والے ملازمین نے واضح کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں ان کے واجبات ادا نہیں کیے گئے تو وہ ملک گیر احتجاجی مہم چلانے پر مجبور ہوں گے۔
خیال رہے کہ پی آئی اے نے 7 دسمبر 2020 کو اپنے ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کروائی تھی جس کی ابتدائی معیاد 2 ہفتے تھی بعد ازاں حتمی تاریخ کو 31 دسمبر تک توسیع دے دی گئی تھی۔ایئرلائنز نے 2 ہزار ملازمین میں سے ایک ہزار 924 کی درخواستیں قبول کیں اور انہیں گزشتہ برس کے آخری روز ملازمت سے فارغ کردیا تھا اور انہیں 31 جنوری 2021 تک واجبات ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ ایئرلائن نے حساب لگایا تھا کہ اسے ملازمین کے واجبات ادا کرنے کے لیے 9 ارب 80 کروڑ روپے درکار ہیں جو اس نے وفاقی حکومت سے جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
یاد رہے کہ پی آئی اے کی موجودہ سینئر مینیجمنٹ میں سولہ میں سے نو افسران کا تعلق ایئر فورس سے ہے لہذا پی آئی اے ملازمیں میں یہ تاثر عام ہے کہ اس قومی ایئرلائن کی بربادی میں ایئر فورس والوں کا مرکزی کردار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایئر مارشل نور خان نے پی آئی اے کو بین الاقوامی سطح کا قومی ادارہ بنایا تھا تو اسکی وجہ انکا ویژنری ہونا تھا جبکہ موجودہ پی آئی اے سربراہ ایئر مارشل ارشد ملک چونکہ ایک نااہل آدمی ہیں اس لیے انہوں نے پی آئی اے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا یے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button