لاک ڈاؤن سے موسم کی پیش گوئیاں غلط ہونے لگیں

محکمہ موسمیات نے لاک ڈاؤن کے بعد موسم کے حوالے سے غلط پشین گوئیاں کرنا شروع کر دی ہیں جس کی بڑی وجہ موسمیاتی عملے کی کمی اور آلات کی خرابی ہے۔
ذرائع کے مطابق سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی لاک ڈاون کے بعد دور دراز علاقوں کے بارے میں موسم اور آب و ہوا کی معلومات اکٹھی کرنے والی مشینوں اور آلات میں بھی خرابیاں آنا شروع ہو گئی ہیں جس کے اثرات غلط موسمیاتی پیش گوئیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے ملک میں دوسرے شعبوں کی طرح موسمیات سے متعلق مشاہدات، انتباہات اور پیشن گوئیوں کے نظام کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے عملے کو کم سے کم رکھنے کی کے نتائج ملک کے موسمیاتی پیش گوئیوں اور انتباہات پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں محکمہ موسمیات کے چیف میٹریولوجسٹ عظمت حیات خان کے مطابق لاک ڈاؤن کی طوالت موسم اور آب و ہوا کی معلومات اکٹھی کرنے والی مشینوں اور آلات میں مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں موجود آلات اور مشینوں کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی عدم موجودگی مشینوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔’
یاد رہے کہ کرونا کی وبا کو روکنے کے لیے پاکستان میں تقریباً چار ہفتوں سے جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث اکثر سرکاری ادارے مخصوص سٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات ہی کے سینیئر اہلکار فاروق ڈار کے مطابق سوشل ڈسٹننسنگ یا سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے ان کے محکمے میں بھی سٹاف کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ محکمہ موسمیات اور اس کے ذیلی اداروں کی گراؤنڈ بیسز پر اکثر مشینیں آٹومیٹک ہیں اور انہیں استعمال کرنے کے لیے سٹاف کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن مشین میں مختلف وجوہات کی بنا پر کسی بھی وقت خرابی کا پیدا ہونا خارج از امکان قرار نہیں دی ہو تا۔ اس لئے ان کی دیکھ بھال اور صفائی کی کی ضرورت پڑتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں خشک زمین پر اور سمندر میں موسمیات سے متعلق سینکڑوں مشینیں اور آلات نصب ہیں جو بغیر رکے چوپیس گھنٹے کام کرتے ہوئے زمینی ماحول، سمندر کی سطح اور زیر زمین کے حالات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان مشینوں اور آلات سے معلومات اعداد و شمار، اشکال، تصاویر اور گرافس کی شکل میں حاصل ہوتی ہیں جو موسم، آب و ہوا اور آسمانی، سمندری اور زمینی آفات سے متعلق تجزیات، پیش گوئیوں، ایڈوائزریز اور انتباہات یعنی وارننگز کی تیاری کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔محکمہ موسمیات اور اس کے ذیلی اداروں کی مہیا کردہ معلومات کئی شعبوں میں استعمال کی جاتی ہیں جن میں زراعت، ہوا بازی، سمندری آمدورفت، ماہی گیری وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ادارے قدرتی آفات سے متعلق بھی انتباہات جاری کرتے ہیں۔
عظمت حیات نے بتایا کہ پاکستان کا محکمہ موسمیات اور اس کے ذیلی ادارے پورے ملک میں قائم تقریباً سو سے ایک سو چالیس بیسز میں قائم مشینوں اور آلات سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیات سے متعلق معلومات خلا میں موجود مصنوعی سیاروں یا سٹیلائٹس سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر موجود مشینوں اور آلات میں موجودہ حالات میں خرابیوں کے پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں جس کی درستگی کیلئے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سٹاف کی کمی سے ان مشینوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سورج کی روشنی کا ڈیٹا حاصل کرنے والے آلے میں حساس سنسرز نصب ہوتے ہیں جن کی باقاعدگی سے صفائی نہ ہونے کی صورت میں ان کی بیرونی سطح پر مٹی کے ذرات جمع ہو جاتے ہیں جو ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی درستگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول گلگت اور ہنزہ میں گلیشیئرز پر نصب مشینوں اور آلات کی مثال دی جہاں تک رسائی صرف مئی سے ستمبر کے درمیان ممکن ہو تی ہے۔انہوں نے کہا: ‘اس وقت کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں پروازیں بند ہیں۔ اگر یہ سلسلہ طویل ہوتا ہے اور ہم ستمبر تک وہاں نہیں جا سکتے تو پھر اگلے سال مئی تک انتظار کرنا ہو گا۔’
