لاہور دھماکے کا ملزم لڑکیوں اور منشیات کا سپلائر نکلا


جوہر ٹاؤن لاہور بم دھماکے کے گرفتار ماسٹر مائنڈ پیٹر پال ڈیوڈ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ڈانس پارٹیوں میں منشیات اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا کام کرتا تھا۔ دھماکے کے اگلے روز لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار ہونے والے ڈیوڈ سے رابطے میں رہنے والے دو افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، ایک شخص کو لاہور سے جبکہ دوسرے کو پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی میں ڈیوڈ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تو وہ لاک تھا۔ اسکے پڑوسی نے بتایا کہ ڈیوڈ کا بیٹا اور بیوی تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے گھر کو تالا لگا کر کہیں چلے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈیوڈ کا ایک بیٹا ڈینزل ان دونوں بحرین میں مقیم ہے جبکہ دوسرا بیٹا کیمنگ کراچی میں رہتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈیوڈ اپنے بیٹے کی مدد سے کراچی میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا کام کرتا تھا۔ ڈیوڈ کا ایک بیٹا ڈینزل کچھ عرصہ پہلے ایک ڈانس پارٹی میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے زخمی بھی ہوا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ڈیوڈ پچھلے ڈیڈھ ماہ میں تین بار کراچی سے لاہور گیا اور اس دوران وہ لاہور میں مجموعی طور پر 27 دن تک مقیم رہا۔
ڈیوڈ پال پہلے بحرین میں ہوٹل چلانے کا کاروبار کرتا تھا لیکن پھر 2010 میں وہ پاکستان منتقل ہو گیا۔ تاہم اسکا بحرین آنا جانا جاری رہا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم ڈیڑھ ماہ قبل بحرین گیا اور پھر کراچی واپس آ گیا۔ اسکے بعد وہ ڈیڈھ ماہ کے دوران تین مرتبہ لاہور آیا۔ علاوہ ازیں تفتیشی ٹیموں کو جوہر ٹاؤن دھماکے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت مل گئے ہیں جن سے پتہ چلا کہ دھماکے کی فنڈنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے کی گئی تھی جب کہ شواہد کی رواشنی میں دھماکے میں ملوث ایک شخص کے علاوہ ماسٹر مائنڈ اور تمام سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے گرفتار ہونے والا پیٹر پال ڈیوڈ واقعے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس کا تعلق بنیادی طور پر کراچی سے ہے تاہم ڈیوڈ کچھ عرصہ قبل ہی دبئی سے واپس آیا تھا جس کے بعد سے وہ گوجرانوالہ میں رہائش پذیر تھا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ڈیوڈ کا تعلق ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی سے ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پیٹرپال ڈیوڈ نے جوہر ٹاؤن لاہور دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو دھماکے کے لیے تیار کروایا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک اور شخص کی تلاش ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس نے دھماکا خیز مواد سے لدی کار ہدف کے مقام پر پہنچائی۔
مشتبہ شخص کے ٹھکانے اور شناخت کے بارے میں معلومات خفیہ رکھی جارہی ہیں لیکن اس کی سفری تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ دبئی، کراچی اور لاہور کے درمیان اکثر سفر کرتا ہے لیکن اپنی سرگرمیوں اور دوروں کے مقاصد کے بارے میں تفتیش کاروں کو مطمئن نہیں کرسکا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی کار کو 2010 میں گوجرانوالہ سے چوری کیا گیا تھا جس کے بعد وہ کئی مرتبہ چوری ہوئی اور پیٹر پال ڈیوڈ اس کے آخری مالک تھے۔ دھماکے کے باعث انسداد دہشت گردی کے ادارے کی انٹیلیجنس ناکامی کے حوالے سے بھی بحث چھِڑ گئی ہے اور جب یہ بات سامنے آئی کہ دہشت گردوں نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار گوجرانوالہ میں تیار کر کے جوہر ٹاؤن پہنچائی تو سی ٹی ڈی کے سربراہ وسیم سیال کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کار کو لاہور کے بابو صابو ٹول پلازہ پر روکا گیا لیکن اس کی ڈکی نہ کھلوائی گئی جس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔
خیال رہے کہ سی ٹی ڈی میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے اور ناکام بنانے کے لیے ایک انٹیلیجنس ونگ کام کرتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز نے ایکسائیز ڈیپارٹمینٹ میں موجود رجسٹریشن ریکارڈ کے ذریعے کار کے مالک کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اسے لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کار بابو سابو انٹرچینج سے دھماکے سے چند گھنٹوں قبل لاہور میں داخل ہوئی تھی جہاں پولیس اہلکاروں نے اسے چیکنگ کے بغیر کلیئر قرار دے دیا تھا۔
اس حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک پہنے ایک مشتبہ شخص نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ کے گھر کے قریب گلی کے کونے پر صبح 10 بج کر 40 منٹ پر کار کھڑی کی اور کار سے نکل کر غائب ہو گیا۔ دھماکا 11 بج کر 10 منٹ پر ہوا اور ملزم نے ٹائم ڈیوائس کے ذریعے دھماکا کیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 30 کلو گرام کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ اس دھماکے کے بعد کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ڈرائیور کو قریبی پیٹرول پمپ سے ایک کار سوار ساتھی نے اپنے ساتھ لیا اور فرار ہوگئے۔ تاہم اب تک کی تفتیش کے دوران پیٹر پال ڈیوڈ نے بم دھماکے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسکے خلیج کے اخری دورے کے دوران ان کے ایک دوست نے کہا تھا کہ گوجرانوالہ میں اس کے ایک دوست کو کچھ روز کے لیے کار چاہیے چنانچہ جب وہ پاکستان آئے تو گوجرانوالہ میں ایک ماسک پہنے شخص کو گاڑی دے دی، انہیں تب ایسا لگا کہ اس شخص نے کووِڈ کی وجہ سے ماسک پہنا ہے۔ تاہم اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک دہشت گرد تھا جس نے گاڑی کو جوہر ٹاؤن بم دھماکے میں استعمال کیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس کے بیان پر یقین نہیں کیا اور تفتیش جاری ہے۔

Back to top button