لاہور پولیس کا بھکاریوں کے خلاف آپریشن کیسے ناکام ہوا

لاہور پولیس کی جانب سے شہر میں پیشہ ورانہ بھکاریوں اور گداگروں کے خلاف شروع کیا جانے والا آپریشن تب ناکامی کا شکار ہوگیا جب مقامہ عدالت نے دو ہفتوں کے دوران گرفتار ہونے والے دو ہزار سے زائد گداگروں کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں لاہور پولیس نے 2707 بھکاریوں کو گرفتار کیا تھا اور مزید بھکاریوں کو قانونی گرفت میں لینے کے لیے کارروائیاں کی جاری تھیں۔ لیکن دوسری جانب اب انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ 2000 سے زائد تمام گرفتار شدہ گداگروں کی ضمانتیں عدالت سے منظور ہو گئی ہیں۔ لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا کے بقول ’ہم نے ان سب گداگروں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا لیکن وہاں ان سب کو بری کر دیا گیا۔ عارف نے بتایا کہ ان بھکاریوں کے ساتھ ان کے سہولت کار بھی پکڑے گئے تھے جو ان میں سے کسی کا بھائی تھا کسی کا والد تھا کسی کا چچا تھا۔ ’عملاً ان پر مقدمہ بنتا نہیں ہے ہم انہیں اس کے باوجود دفعہ 102 کے تحت اندرکر دیتے ہیں لیکن ان کی بھی ضمانت ہو جاتی ہے۔ ان بھکاریوں کو گداگری ایکٹ کے تحت کچہری میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ انکا جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہیں یا ضمانت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عارف نے بتایا کہ ان گداگروں میں جو نشئی گداگر تھے انہیں محکمہ سوشل ویلفئیر والوں کے سپرد کر دیا گیا جن کے ری ہیب ہسپتال میں سو بیڈز کی سہولت موجود ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب گداگروں کو یہ پتا ہو گا کہ ان کو گرفتار کیے جانے کے بعد رہائی مل جانی ہے تو وہ یہ پیشہ ترک کرنے سے کسی بھی صورت باز نہیں آئیں گے۔

لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے گرفتار شدہ گداگروں سے دوران تفتیش یہ بھی پتہ کرنا تھا کہ ان کے ستھ مانگنے والے بچے واقعی انہیں کے ہیں یا نہیں لیکن ایسا نہیں ہو پایا اور عدالت نے سب کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ البتہ پکڑے جانے والے بھکاریوں کے انگوٹھوں کے نشان پولیس ریکارڈ میں رکھے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جن بھکاریوں کے شناختی کارڈ ہیں وہ تو ٹھیک ہیں لیکن جن کے نہیں ہیں ان کے تھمب اپمریشن کو ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں اگر یہ پکڑے جائیں تو ہمیں معلوم ہو کہ یہ پہلے بھی پکڑے جاتے رہے ہیں۔

دوسری جانب لاہور آپریشن ونگ کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ تمام پکڑے جانے والے بھکاریوں کی ضمانتیں تو ہو گئی ہیں لیکن اگر وہ دوبارہ سڑک پر آئے تو انہیں پھر سے گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد ان سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا جنہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں گداگروں کی ضمانتیں کروائیں۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے بتایا کہ لاہور پولیس کا گداگروں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ ان میں سے بہت سے گداگر ایسے ہیں جو سڑکوں پر معزوری کا ڈھونگ کر کے بھیک مانگتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہفتوں میں ان گداگروں کے خلاف 2560 مقدمات درج ہوئے جبکہ کل 2707 گداگر گرفتار کیے گئے۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ ان گداگروں کے پیچھے منظم گروپوں کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جسے توڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے بھیک مانگنے والے بچوں کو بھی اپنی تحویل میں لے کر انہیں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سی سی پی او نے عوام سے بھی گذارش کی کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے میں پولیس کا ساتھ دیں۔

لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا نے ان بھکاریوں کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ لاہور سٹی ڈویژن سے گرفتار ہونے والے گداگروں کی تعداد 550 کینٹ ڈویژن سے گرفتار ہونے والے گداگروں کی تعداد 312 ہے۔ اسی طرح سول لائینز میں525 ، صدر ڈویژن سے 491، اقبال ٹاؤن ڈویژن سے 333، ماڈل ٹاؤن ڈویژن سے 496 گداگرگرفتار ہوئے جب کہ سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے گداگروں کے خلاف 132 مقدمات درج کروائے گئے۔

اس معاملے پر لاہور کے معروف وکیل رہنما عامر جلیل صدیقی نے بتایا کہ گداگری ایک جرم تو ہے لیکن ضمانت کا قانون یہ کہتا ہے کہ ایسے جرائم جو قابل ضمانت ہوں ان میں ضمانت دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کیس جس میں سزا کے امکانات کم ہوں اس میں بھی ضمانت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کورٹ نے ایک اصول وضع کیے ہیں کہ اگر ضماانت منظور نہ کرنی ہو تو اس کے کیا اصول ہو سکتے ہیں جیسے، کیا ملزم وہ پراسکیوشن پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ کیا ملزم ثبوت بدل سکتا ہے؟ کیا ملزم عدالت کی حدود سے باہر جا سکتا ہے؟ جب ان تینوں کا جواب منفی میں ہو تو ضمانت منظور نہ کرنے کی صورت نظر نہیں آتی۔ اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ جرم قابل ضمانت ہو اور اس میں سزا دس برس سے کم ہو ان صورتحال میں ضمانت قوائد کے مطابق ملتی ہے نہ کہ ایک رعایت کے طور پر۔

Back to top button