لاہور کا لبرٹی چوک سیاسی جلسوں کا مرکز کیسے بن گیا؟


لاہور کا لبرٹی چوک پچھلے کچھ برسوں سے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کا محور بن چکا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ 28 اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی لبرٹی چوک سے ہی شروع کیا جا رہا ہے۔ لبرٹی چوک میں سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ یہ چوک کب بنا، اس کا نام کیسے پڑا اسکی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔ لبرٹی چوک گلبرگ مین بلیووارڈ پر واقع ہے جس کے ایک طرف قذافی سٹیڈیم اورایک طرف لبرٹی مارکیٹ ہے۔ گلبرگ کے مین بلیوارڈ کی کشادہ سڑک ایک طرف سے کلمہ چوک اور دوسری طرف سے جم خانہ کو چھوتی ہےاور پھرکنٹونمنٹ کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ایک چوراہے سے زیادہ ایک راؤنڈ اباؤٹ ہے جس کے چاروں طرف گھوم کر چار راستے نکلتے ہیں۔ راؤنڈ اباؤٹ کے درمیان ایک جدید اور قدیم طرز تعمیر کی ایک چوکھٹا نما یادگار ہے۔

اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس یادگار کے تخلیق کار ڈاکٹرسجاد کوثر نے بتایا کہ یہ یادگار90 کی دہائی میں بنائی گئی تھی جب شہباز شریف وزیر اعلٰی پنجاب تھے اور مجھے صرف تین دن کا وقت دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کو ہر کام فوری اور وقت سے پہلے کرنا اور کروانا پسند ہے لہٰذا اس یادگار کو بنانے کے لیے میں نے آئیڈیا مغلوں کے باغات میں لگے طاق نما چینی خانوں سے لیا۔ ڈاکٹر سجاد کوثر نے بتایا کہ شالا مار باغ میں لگا چینی خانہ ایک دیوار پر ہے لیکن لبرٹی چوک میں لگی یادگار میں چار دیواریں مربعہ نما شکل میں ہیں۔ ان کے مطابق ’اصل آئیڈیا یہ تھا کہ پانی کی آبشاروں کے پیچھے دیواروں میں دیے جل رہے ہوں لیکن اب اس کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔‘

اب سوال یہ ہے کہ لبرٹی چوک کا نام لبرٹی کیوں پڑا؟ اس حوالے سے کوئی خاص معلومات دستیاب نہیں ہیں کیونکہ تاریخ دانوں اور ادیبوں کے مطابق کوئی ایسا خاص واقعہ نہیں ہے جس سے لبرٹی مارکیٹ کا نام منسوب کیا گیا ہو۔ لاہور کی ثقافتی تاریخ کے ماہر سمجھے جانے والے ڈاکٹر اعجاز انور کہتے ہیں کہ ’60 کی دہائی میں گلبرگ کے علاقے میں انگریزی حرف ’یو‘ سے مماثلت رکھنے والی مارکیٹ بنائی گئی اور یہ چوک اس سے تھوڑا ہی باہر ہے تو ایل ڈی اے نے اس کا نام بھی لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ رکھ دیا۔ 80 کی دہائی میں یہ پوش علاقہ تھا جہاں بہت سے فنکار اور فلمی ستارے رہائش پذیر تھے۔ میڈم نور جہاں کا گھر اس چوک کی ایک نکڑ پر تھا جہاں اب پلازہ بن چکا ہے۔ غلام محی الدین، محمد علی اور زیبا اور بابرہ شریف جیسے بڑے فلم سٹارز کی رہائش گاہیں اس علاقے میں موجود تھیں۔ تب چوک کے اندر یادگار نہیں ہوتی تھی، یہ تو بہت بعد میں بنی اوراس سے پہلے اس جگہ پر کلمے کا مونومنٹ نصب کیا جانا تھا جو نیر علی دادا نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ مونومنٹ یہاں لگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اس جگہ پر فٹ نہیں آرہا تھا لہٰذا اسے لبرٹی سے پہلے والے چوک میں لگا کر اسکا نام کلمہ چوک سے موسوم کر دیا گیا اور یہاں ایک نئی یادگار بنائی گئی۔

دراصل لبرٹی چوک میں پہلی سیاسی سرگرمی تب ہوئی جب سول سوسائٹی نے عدلیہ بحالی تحریک شروع کی۔ تب چوک میں کھڑے لوگوں کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر لکھا ہوتا تھا کہ ’اگر آپ آزاد عدلیہ کے ساتھ ہیں تو ہارن بجائیں‘ چنانچہ لوگ گزرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کے ہارن بجاتے تھے۔ اسی دور میں اس چوک پر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ پوری دنیا کی خبروں میں لبرٹی چوک کا نام آیا۔ یہ واقعہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا تھا۔ اس کے بعد 2015 مارچ میں سلمان تاثیر کی برسی کی تقریب یہاں منعقد ہوئی جس پر حملہ کیا گیا تو لبرٹی چوک ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بنا۔ اس سے ہٹ کر14 اگست اور دیگر ثقافتی دنوں میں یہاں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں یا پھر گرمیوں کی شاموں میں یہاں لگے فواروں کی ٹھنڈک میں بیٹھنے کے لیے فیملیز اور بچے نظر آتے ہیں۔ اسی سال 2022 میں جب اپریل کے مہینے میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا اور انہوں نے ملک گیر مظاہروں کی کال دی تو پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے باقاعدہ طور پر اس جگہ کو اپنی سرگرمی کے لیے استعمال کیا۔ تحریک انصاف اس چوک میں ایک درجن کے قریب مظاہرے کر چکی ہے اور اسی کی دیکھا دیکھی مسلم لیگ ن نے بھی دو بار یہاں مظاہروں کی کال دی ہے۔ اس سے پہلے لاہور شہر میں سیاسی مظاہروں کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا اور اس وقت لاہور کا موچی گیٹ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب ن لیگ کا دور آیا تو بھاٹی چوک ن لیگ کا مرکز رہا۔جب نواز شریف اور مریم نواز 2018 میں وطن واپس آئے اور انہیں لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جانا تھا تو شہباز شریف نے بھاٹی چوک سے ہی مظاہرے کی قیادت کی۔ تحریک انصاف کے سیاسی مظاہروں کا مرکز ڈی ایچ اے کا لالک جان چوک ہوا کرتا تھا تاہم اب وہ لاہور کی سیاست کو لبرٹی چوک میں لے آئے ہیں اور اب یہیں سے جمعہ کو لانگ مارچ اسلام آباد روانہ ہوگا۔

Back to top button