لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانہ سے تحائف کی نیلامی روکنے کا حکم دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانے میں جمع ہونے والے سرکاری تحائف کی نیلامی روکنے کا حکم دے دیا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے عدنان احمد پراچا ایڈووکیٹ کی جانب سے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنے کےلیے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا اور اعلیٰ حکام کو سرکاری دوروں پر ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع ہوتے ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کو قانونی جواز کے بغیر خفیہ طور پر نیلام کیا جارہا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ خفیہ نیلامی میں شمولیت کےلیے عوام الناس کی بجائے صرف سرکاری افسران کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ رولز کے تحت نیلامی کی کارروائی عمل لائی جارہی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ 25 نومبر کو ہونے والی غیر قانونی خفیہ نیلامی کو روکنے کا حکم دے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ تو وہ مثال بن گئی کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں وہ بھی اپنوں اپنوں میں۔ جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا کہ نیلامی کےلیے اشتہار دیا گیا یا نہیں، یا صرف افسران کو خطوط لکھے گئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ گفٹس صرف بیوروکریٹس کو دیے جارہے ہیں کیا باقی یہاں کیڑے مکوڑے رہتے ہیں؟ جسٹس قاسم خان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار واضح طور پر آئین کی دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہے۔ بعدازاں عدالت نے مذکورہ درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 دسمبر تک جواب طلب کرلیا۔ ساتھ ہی عدالت نے توشہ خانہ کے تحائف کی نیلامی روکنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 1974 میں قائم ہونے والا توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا محکمہ ہے اور یہاں دیگر حکومتوں، ریاستوں کے سربراہاں اور غیرملکی شخصیات کی جانب سے جذبہ خیرسگالی کے طور پر حکمرانوں، اراکین پارلیمان، بیوروکریٹس اور حکام کو دیے جانے والے قیمتی تحائف کو رکھا جاتا ہے۔
قواعد کے تحت یہ لازمی ہے کہ توشہ خانہ میں ایک خاص قیمت کے تحفے جمع کروائے جائیں تاہم کسی بھی عہدیدار کو یہ تحائف رکھنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ وہ توشہ خانہ جائزہ کمیٹی کے ذریعے لگائے گئے قیمت کے تخمینہ کا کچھ فیصد ادا کرے۔
