لیاقت علی خان کے قاتل کوزندہ پکڑنے کی بجائے مارا کیوں گیا؟

پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں شہید کردیا گیا تھا۔ لیکن ایج سوال کا جواب آج دن تک نہیں مل پایا وہ یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل کو زندہ پکڑنے کے بجائے بھرے مجمعے میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیوں کیا۔ اگر قائد ملت کا قاتل زندہ پکڑا جاتا تو تو پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی شہادت کے پیچھے کارفرما لوگ بے نقاب ہو جاتے۔ اور شاید اسی وجہ سے قاتل کو بھی موقع واردات پر ہی مار دیا گیا۔
ایم ایس وینکٹے رامانی اپنی کتاب ”پاکستان میں امریکا کا کردار“ میں لکھتے ہیں کہ "پاکستانی حکام نے لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو ایک افغان شہری قرار دیا۔ افغان حکومت کے ترجمان نے فوراً پُر زور دعویٰ کیا کہ اکبر کو اس کی قوم دُشمن سرگرمیوں کی بناء پر افغان شہریت سے محروم کیا جاچکا تھا اور انگریز حکام نے اسے صوبہء سرحد میں پناہ دے رکھی تھی۔جلد ہی یہ انکشاف بھی ہوگیا کہ انگریزوں نے اس کا جو وظیفہ مقرر کیا تھا وہ حکومتِ پاکستان ادا کرتی رہی تھی۔اسی زمانے میں ”نیویارک ٹائمز“ میں ایک رپورٹ ”حکومت کا وظیفہ خوار پاکستانی قاتل“ کے عنوان سے شائع ہوئی جس کے مطابق پاکستانی حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سید اکبر نامی وہ افغان شہری جس نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کا قتل کیا وہ حکومت پاکستان کا 450 روپے یعنی 155 ڈالر کا ماہانہ الاؤنس حاصل کرتا تھا۔”
یاد رہے کہ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر اسٹیج کے بالکل سامنے اس قطار میں بیٹھا تھا جہاں سی آئی ڈی والوں کےلیے جگہ مخصوص تھی۔ اپنی نشست سے وہ لیاقت علی خان کو باآسانی نشانہ بنا سکتا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا اور اس میں کامیاب بھی ہوا۔ وہ اس نشست تک کیسے پہنچا یہ ایک ایسی کہانی ہے جس پر دھایئوں سال بعد قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ لیاقت علی خان کے قتل کے فوراً بعد پولیس نے قاتل کو گرفتار کرنے کے بجائے جان سے مارنے میں عافیت جانی۔ ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق ”جب اکبر نے دو گولیاں چلائیں تو اس کے فوراً بعد پاس بیٹھے افراد اُس پر جھپٹ پڑے، اُنہوں نے مار مار کر اُس کے ٹکڑے کر دیے، اس پر گولیاں بھی چلائی گئیں اور ان میں کم از کم ایک گولی ایک پولیس افسر نے چلائی تھی جس نے بعدِ ازاں یہ گواہی دی کہ گولی چلانے کا حکم اسے ایک اعلیٰ افسر نے دیا تھا۔“
ایک لمحے کےلیے ہم یہ تسلیم کر بھی لیں کہ ایسا ہی ہوا تھا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جلسہ گاہ کی اگلی نشستیں تو سی آئی ڈی والوں کےلیے مختص ہوتی تھیں۔ سوال یہ بھی یے کہ اگر سید اکبر وہاں اکیلا پہنچ بھی گیا تو کیا پولیس کے تربیت یافتہ اہلکار یہ نہیں جانتے تھے کہ قاتل کو جان سے مارنے کے بجائے زندہ گرفتار کیا جانا چاہیے؟ جب اتنے سارے لوگ سید اکبر پر جھپٹے ہوں گے جنہوں نے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہوں، تو اس کے بعد وہ یقیناً اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ اپنے پستول کا مزید استعمال کرے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر کیا وجہ تھی کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اس کے باوجود اُسے گولی مارنے کا حکم دیا اور ان کے اس حکم پر فوری عمل درآمد بھی ہو گیا؟
لیاقت علی خان کے قتل کا معاملہ بالکل ویسے ہی ہے جیسا کہ 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہوا جس کے فوراً بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ مشرف جنتا کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے مطابق جائے وقوعہ سے سینکڑوں شواہد مل سکتے تھے مگر دھوئے جانے کے بعد صرف چند ایک شواہد ہی مل پائے۔
پاکستان میں لیاقت علی خان سے لے کر بینظیر بھٹو تک جتنے بھی سیاسی لیڈر قتل ہوئے اُن کے قتل کی سازش کس نے، کب اور کیوں تیار کی یہ ایک راز ہی ہے۔ لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیق کرنے والے افسر اور اس حوالے سے تمام دستاویزات ایک ہوائی حادثے میں انجام کو پہنچ گئیں۔ سید نور احمد اپنی کتاب ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں لکھتے ہیں کہ نوابزادہ اعتزاز الدین جو اس مقدمے کی تفتیش کے متعلق اہم کاغذات ساتھ لے کر وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین کی طلبی پر ان سے گفتگو کرنے کےلیے ہوائی جہاز سے جا رہے تھے۔ ہوائی جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ ہوائی جہاز کو یہ حادثہ جہلم کے قریب پیش آیا جہاں کسی اندرونی خرابی کی وجہ سے جہاز کو آگ لگ گئی اور مسافر اور ان کا سامان اور لیاقت علی خان کے قتل کے مقدمے کے متعلق اہم کاغذات بھی نذر آتش ہوگئے۔
"لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو نئی کابینہ بنی تھی، اس میں نواب مشتاق احمد گورمانی کو جو اس سے پہلے وزیر برائے امورِ کشمیر تھے، وزیرِ داخلہ کا عہدہ مل گیا تھا۔ قتل کے متعلق تفتیش بے نتیجہ رہی تو لامحالہ گورمانی صاحب کو اعتراضات کا نشانہ بننا پڑا۔ ان اعتراضات سے بچنے کےلیے انہوں نے بہت دیر بعد ایک مرحلے پر انگلستان کے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد حاصل کی اور وہاں سے ایک ماہر سراغ رساں کو بلا کر تفتیش پر مامور کیا۔ لیکن یہ اقدام بھی محض اتمام حجت ثابت ہوا۔ اس سے لیاقت علی خان کے قتل کے اسباب پر کوئی روشنی نہ پڑ سکی۔ اس کے بعد 1958 میں ایک عجیب انکشاف ہوا۔ فروری 1958 میں جب ہتکِ عزت کا مشہور مقدمہ گورمانی بنام زیڈ اے سلہری لاہور میں ہائی کورٹ کے ایک جج کے روبرو زیرِ سماعت تھا تو ایک نکتے کی تصدیق کےلیے عدالت نے لیاقت علی خان کے قتل کے متعلق پولیس کی تفتیشی کارروائیوں کی فائل دیکھنا چاہی اور اٹارنی جنرل پاکستان سے جو عدالت میں موجود تھے، دریافت کیا کہ کیا اس تفتیش کے متعلق سرکاری فائل عدالت کو مہیا کی جاسکتی ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے 25 فروری 1958 تک ضروری معلومات مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو عدالت نے اٹارنی جنرل کو ایک چٹھی بھجوائی۔ اس نے جواب میں کہا کہ متعلقہ فائل حکومتِ مغربی پاکستان کے چیف سیکرٹری کی تحویل میں ہے۔ عدالت نے اس فائل کو منگوانے کےلیے سمن جاری کر دیے۔ یکم مارچ 1958 کو صوبائی حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر بیان کیا کہ متعلقہ فائل گم ہے۔ اس کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اس تلاش کےلیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی گئی۔ 8 مارچ کو سی آئی ڈی کے ایک افسر نے عدالت کو مطلع کیا کہ تلاش کے باوجود اس فائل کا کوئی پتہ نہیں چل سکا لہٰذا حکومت اسے پیش کرنے سے معذور ہے۔ لیاقت علی خان کے قتل پر سیاستدانوں کے رویوں کے بارے میں ایوب خان اپنی کتاب ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ میں لکھتے ہیں کہ "جب میں پاکستان واپس آیا تو مجھے کراچی میں نئی کابینہ کے اراکین سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمد علی، مشتاق احمد گورمانی اور دوسرے لوگوں سے ملاقات کی۔ ان میں سے کسی نے نہ تو مسٹر لیاقت علی خان کا نام لیا اور نہ ان کے منہ سے اس واقعے پر افسوس یا دردمندی کے دو بول ہی نکلے۔ "گورنر جنرل غلام محمد بھی اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ایک قاتل کی سنگدلانہ حرکت نے ملک کو ایک نہایت قابل اور ممتاز وزیرِ اعظم سے محروم کر دیا ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ انسان کیسا بے حس، بے درد اور خود غرض واقع ہوا ہے۔ ان حضرات میں سے ہر ایک نے خود کو کسی نہ کسی طرح ترقی کے بام بلند پر پہنچا دیا تھا۔ وزیر اعظم کی موت نے گویا ان کےلیے ترقی کی نئی راہیں کھول دی تھیں۔ اس بات سے دل میں حد درجہ کراہت اور نفرت پیدا ہوتی تھی۔ بات تو بے شک تلخ ہے، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ان سب لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ہو کہ وہ واحد ہستی جو ان سب کو قابو میں رکھ سکتی تھی، دنیا سے اُٹھ گئی ہے۔”
