ایم کیو ایم سے وابستہ حکیم سعید کے قاتل کیسے بری ہوئے؟


اکتوبر 1998 میں قتل ہونے والے سندھ کے سابق گورنر حکیم محمد سعید کے قاتل شاید اب تختہ دار پر چڑھا دیے گئے ہوتے لیکن انہیں جنرل مشرف کی اکتوبر1999 کی فوجی بغاوت راس آ گئی اور نچلی عدالت سے موت کی سزا پانے کے باوجود وہ اردو سپیکنگ کنکشن پر ہونے والے الطاف حسین اور پرویز مشرف اتحاد کے باعث بڑی عدالتوں سے کمزور استغاثہ کے باعث بری کردیئے گئے۔
نو جنوری 1920 کو دلّی شہر میں طبِ مشرق سے منسلک اطبّا کے نامور گھرانے میں حکیم حافظ عبدالمجید کے گھر پیدا ہونے والے سابق گورنر سندھ، طب اور ادویہ سازی کے ادارے ’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے بانی نامور طبیب حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر 1998 کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں اُن کے ایک نائب حکیم عبدالقادر اور ایک ملازم ولی محمد بھی قتل ہوئے۔
پولیس، خفیہ اداروں اور استغاثہ کے مطابق قتل کے اس مقدمے میں جن لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا اُن کا تعلق الطاف حسین کی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم سے تھا۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے بھی برسوں جاری رہنے والی سنسنی خیز عدالتی کارروائی کے بعد بالآخر اس مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر قتل ان ہی نامزد ملزمان نے کیا تھا تو پھر وہ بری کیوں ہوئے اور اگر ان ملزمان نے قتل نہیں کیا تھا تو پھر قاتل کون تھے اور انکے پیچھے کون تھا؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات آج برسوں بعد بھی لوگ تلاش کر رہے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ اور کراچی کے تھانہ آرام باغ میں درج ایف آئی آر 216/1998 کے مطابق 78 سالہ حکیم سعید کو 17 اکتوبر 1998 کو اُن کے دو ملازموں سمیت کراچی کے جنوبی علاقے آرام باغ میں اُن ہی کے ’ہمدرد مطب‘ کے باہر ہونے والے حملے میں قتل کیا گیا۔ قتل کی اس واردات میں زندہ بچ جانے والے حکیم سعید کے نائب حکیم سیّد منظور علی کا کہنا ہے کہ حکیم سعید صاحب کا معمول تھا کہ وہ نماز فجر کے فوراً بعد مطب آ جاتے تھے۔ اُن کے درجنوں مریض تو معائنے کےلیے صبح ہی آجاتے تھے۔ سب کو ٹوکن دے کر اوپر بٹھا دیا جاتا تھا۔ اُس روز بھی تیس چالیس سے زیادہ مریض مطب پر اُن کی آمد کے منتظر تھے۔ وہ فجر کے بعد مطب آئے تو روشنی بھی پوری طرح نہیں ہوئی تھی، ہلکا ہلکا اندھیرا تھا۔ میں، حکیم عبدالقادر اور ولی محمد حسب معمول حکیم صاحب کے استقبال کےلیے باہر ہی کھڑے تھے۔ حکیم صاحب جونہی گاڑی سے اترے تو معمول کے مطابق میں نے اُن سے ہاتھ ملایا اورانہوں نے اپنی جناح کیپ اور تسبیح میرے ہاتھ میں دے دی۔ تب تک تو اُن کے ڈرائیور گنگ خان گاڑی سے اترے بھی نہیں تھے۔ اُس وقت تک سڑک خالی تھی اور ہمارا دھیان حکیم صاحب پر تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میرا اور حکیم صاحب کا منہ مطب کی جانب تھا، اُسی وقت اچانک کچھ گاڑیاں ایم اے جناح روڈ کی جانب سے آرام باغ روڈ میں داخل ہوئیں۔ یہ ایک دو گاڑیاں نہیں تھیں، تین چار گاڑیاں تھیں۔ اُس وقت حکیم سعید صاحب حکیم عبدالقادر سے ہاتھ ملا ہی رہے تھے۔ اچانک اُن گاڑیوں میں سوار حملہ آوروں نے حملہ کر دیا۔ انتہائی شدید فائرنگ ہوئی، بےتحاشا گولیاں چل رہی تھیں۔ میں نے حکیم محمد سعید صاحب کو زمین پر گرتے دیکھا۔ حکیم عبدالقادر اور ولی محمد بھی گولیاں لگتے ہی زمین پر گر پڑے۔ ایک گولی میرے بازو کو بھی چھیلتی ہوئی چلی گئی اور محافظ عبدالرزاق بھی زخمی ہوگیا۔ حملہ ہوتے ہی میں زمین پر لیٹ گیا تھا۔ مجھے تو احساس ہی نہیں ہوا کہ مجھے بھی گولی لگ چکی ہے۔ حملے کے فوراً بعد ہی حملہ آور گاڑیوں سمیت فرار ہوگئے۔ سب کچھ آناً فاناً ہوا۔ میں تو کچھ دیکھ ہی نہیں سکا کہ دراصل ہوا کیا ہے اور پھر میں بے ہوش ہوگیا۔آس پاس موجود دیگر عینی شاہدین کے مطابق بالکل صبح کا وقت تھا اور ٹریفک بہت کم تھی لیکن جیسے ہی یہ سب ہوا، آتی جاتی گاڑیاں بھی رکنے لگیں۔ پھر تو ایک شوروغُل مچ گیا، افراتفری پھیل گئی۔ مطب میں موجود مریض بڑی تعداد میں چلاتے ہوئے نیچے آ گئے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس حملے کے پندرہ منٹ کے اندر پولیس حکام موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکیم صاحب کو سر اور گردن میں گولیاں لگیں۔
قتل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی کراچی پولیس کے بعض افسران نے دعویٰ کیا کہ ایک گاڑی برآمد ہوئی ہے جو مبینہ طور پر حکیم سعید کے قتل میں استعمال کی گئی تھی۔ بعض پولیس افسران نے جن میں اس وقت کے ایس ایس پی ضلع وسطی فاروق امین قریشی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ رانا مقبول بھی شامل تھے، یہ موقف اختیار کیا کہ گاڑی سے عامر اللہ نامی ایک نوجوان کی امتحانی مارکس شیٹ ملی ہے۔ عامر اللہ نامی یہ نوجوان مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ کا کارکن بتایا گیا اور ایس ایس پی فاروق امین قریشی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ رانا مقبول احمد نے اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ اور حتیٰ کہ وزیراعظم نواز شریف کو مطلع کیا کہ عامر اللہ مبینہ طور پر حکیم سعید کے اس قتل میں ملوث ہے جس میں اُسے مبینہ طور پر پارٹی کے بعض دیگر ارکان یعنی ایم کیو ایم کے مبینہ عسکری بازو کے سرکردہ افراد کی مدد اور حمایت بھی حاصل رہی۔ لیکن جلد ہی اس سارے معاملے پر خود اس وقت کی سندھ پولیس اور کراچی پولیس کی قیادت میں اختلافات کی خبریں آ گئیں۔
اُس وقت سندھ پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل آف پولیس آفتاب نبی تھے جن کے بھائی اسلام نبی متحدہ قومی موومنٹ کے وفاقی وزیر بھی تھے جب کہ کراچی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی مشتاق شاہ تھے۔ مشتاق شاہ نہ تو تب اپنے ماتحت افسر فاروق امین قریشی کے اس موقف سے مطمئن تھے اور نہ اب ہیں۔ پولیس قیادت میں مبینہ قاتلوں کے بارے میں اختلافات کی تصدیق کرتے ہوئے مشتاق شاہ نے انکشاف کیا کہ قتل کے فوراً بعد انہیں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس بلوایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں وزیراعظم نواز شریف، وفاقی وزیر چوہدری نثار، چیف سیکریٹری سعید مہدی اور چار پانچ افسران تھے۔ اس میٹنگ میں مجھے یہ تاثر ملا کہ جیسے یہ کیس حل ہوگیا ہے اور مجھے خبر بھی نہیں۔ مجھ سے سب نے پوچھا کہ کیس حل ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ میں نے کہا کوشش کر رہے ہیں ایسے مقدمات مشکل ہوتے ہیں، وقت لگے گا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ کتنا وقت چاہیے تو میں نے کہا کہ ٹائم فریم بتا نہیں سکتا، جس پر مجھے کہا گیا کہ ہم آپ کو 24 گھنٹے دیتے ہیں۔ میں نے کہا، سر کوشش کرتے ہیں۔ سابق ڈی آئی جی مشتاق شاہ کہتے ہیں کہ چند گھنٹوں کے بعد ٹی وی پر خبر آگئی کہ ملزم پکڑے گئے۔ شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ کہیں 24 گھنٹوں میں کچھ اور نہ ہو جائے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اُن پولیس افسران سے اتفاق کیا جن کا خیال تھا کہ حکیم سعید کے اس قتل میں ایم کیو ایم ملوث تھی۔ نواز شریف نے حکیم سعید کے قتل کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم نامزد اور مطلوب ملزمان کو حکومت کے حوالے کرے۔ نواز شریف کی جانب سے قتل کے الزام پر جواباً ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے الزام لگایا کہ پاکستانی ادارے اور نواز شریف کی حکومت ایم کیو ایم کی مقبولیت سے خائف ہیں اور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں ملوث کرکے اس کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین اور اُن کی جماعت نے اس موقف کا اظہار کرتے ہوئے سندھ میں قائم لیاقت جتوئی کی حکومت سے احتجاجاً علیحدگی اختیار کرلی اور اکثریت کھو دینے والی سندھ حکومت بالآخر تحلیل کردی گئی اور صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی ہی کی طرح ڈی آئی جی کراچی مشتاق شاہ اور آئی جی سندھ آفتاب نبی کو بھی اُن کے عہدوں سے سبکدوش کر دیا گیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید اس وقت سینیٹ کے ممبر اور سرکاری ٹی وی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم سے حکیم سعید کے قتل میں نامزد ساتھیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا لیکن سندھ حکومت سے ایم کیو ایم کا الگ ہونے کا فیصلہ یکطرفہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے تو ان سے صرف یہ کہا تھا کہ جن لوگوں کے نام پولیس کی تفتیش میں لیے جا رہے تھے جو ایم کیو ایم سے متعلقہ تھے آپ ان لوگوں کو قانون کے حوالے کر دیں۔ ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہوگئی ان کا خیال تھا کہ اگر ہم حکومت سے الگ ہوں گے تو سندھ میں ان کی حکومت گر جائے گی۔ وہ خود حکومت سے الگ ہوئے تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو قانون کے حوالے نہیں کیا تھا اور یہی اختلاف تھا ان کے ساتھ۔
اس وقت کے ڈی آئی جی کراچی مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ بس پھر شام کو ہم سب کو حکم ملا کہ آپ کی چھٹی ہوگئی ہے۔ میری بھی آفتاب نبی صاحب کی بھی، لیاقت جتوئی کی دوسرے دن چھٹی ہوگئی۔ یہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم پر حکیم سعید کے قتل کا الزام عائد کرنے والے پولیس افسران فاروق امین قریشی کو ڈی آئی جی کراچی اور اُن کے باس رانا مقبول کو آئی جی سندھ مقرر کر دیا گیا۔ پولیس نے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے عامر اللہ کو گرفتار کرلیا مگر پھر کراچی پولیس کے ایک انتہائی نامور پولیس افسر عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں قائم کی جانے والی جے آئی ٹی نے عامر اللہ کو اس قتل میں ’کلیئر‘ قرار دے دیا۔ جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ عامر اللہ کے کم از کم اس قتل میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل رہنے والے پولیس اہلکاروں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے ایک دوسرے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جے آئی ٹی نے عامر اللہ کو اس کیس میں بے گناہ قرار دیا تھا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ پھر گرفتاری کیوں کی گئی اور کیس میں نامزد کیوں کیا گیا تو سرکاری ادارے کے اُس افسر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ صرف عامر اللہ کے اس کیس میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرنا تھا۔ پھر متعلقہ حُکام نے جو کیا وہ اُن کی صوابدید تھی۔ جے آئی ٹی نے میرٹ پر اپنی فائنڈنگز متعلقہ حکام کے سپرد کر دی تھیں۔ نہ اس سے زیادہ جے آئی ٹی کی ذمہ داری تھی نہ دائرۂ اختیار۔
نئے آئی جی اور ڈی آئی جی کی قیادت میں پولیس نے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے نامزد ملزمان کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں پر مشتمل کریک ڈاؤن شروع کیا۔
حکیم سعید کے مقدمۂ قتل میں پہلے خصوصی فوجی عدالت میں کارروائی شروع ہوئی اور پھر سپریم کورٹ کے حکم پر جب یہ فوجی عدالتیں ختم ہوئیں تو مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت منتقل کردیا گیا جس نے ملزمان کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی۔ مگر کئی برس بعد سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف دونوں ہی نے اے ٹی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
جب سابق آئی جی سندھ رانا مقبول سے سوال کیا گیا کہ جن لوگوں پر پولیس نے قتل کا الزام لگایا انہیں تو سندھ ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا تو رانا مقبول نے کہا کہ ’12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر دی اور نئی حکومت میں ایم کیو ایم کو سہولت ملی۔ استغاثہ نے ملی بھگت کے ذریعے عدالت میں کیس کی ویسی پیروی نہیں کی جیسی کہ ہونی چاہیے تھی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق خود ایم کیو ایم کو بھی نواز حکومت میں حکیم سعید کے قتل کے بعد کریک ڈاؤن کا سامنا تھا اور ریاست کی جانب سے مخالفانہ اور معاندانہ رویّے اور اس پکڑ دھکڑ سے نجات کی سہولت خود ایم کیو ایم کو بھی چاہیے تھی جو مشرف حکومت کا حصّہ بن کر ہی مل سکتی تھی۔ چنانچہ سندھ ہائی کورٹ نے 31 مئی 2001 کو حکیم سعید کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ سرکار کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا اور آخر کار جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے 26 اپریل 2014 کو ملزمان کی بریت کی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یوں حکیم سعید تو مدینہ الحکمت میں دفن کر دیے گئے مگر اُن کے قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button