جو اشتہاری ہے وہ بھی لائیو تقریر کررہا ہے

وفاقی وزیر مواصلات اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جو عمران خان نے شروع کیا ہے یہ جہاد اور بہت بڑی جنگ ہے، یہاں پر جو لوگ آپ کو نظر آتے ہیں وہ اس جنگ میں مہرے تو ہوسکتے ہیں لیکن اصل کردار اسرائیل اور انڈیا کا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مراد سعید نے پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کے حوالے سے ویڈیوز بھی دکھائیں اور کہا کہ کبھی ہم نے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل اور انڈیا عمران خان کے خلاف مہم چلارہے ہیں؟ جس کے بعد ان کی جانب سے پڑوسی ملک بھارت کی ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں کہا جارہا تھا کہ پاکستان میں عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، عمران خان کی کرسی اب جانے والی ہے، پڑوسی ملک میں ان کے سرکس کو کس طرح کی کوریج دی جارہی ہے، عمران خان کے خلاف بولا جارہا ہے یہاں سے زیادہ انڈیا میں ان کا جشن منایا جارہا ہے۔ مراد سعید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پہلا مقدمہ ختم نبوت پر لڑا، ناموس رسالت کا معاملہ بین الاقوامی فورم پر اٹھایا اور مسئلہ کشمیر، جو 54 سال سے سیکیورٹی کونسل میں نہیں اٹھایا گیا تھا اسے ان کی جانب سے 3 بار اٹھایا گیا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان، مودی اور اس کے ہندوتوا کی سوچ کو پوری دنیا کے سامنے لائے، علاوہ ازیں پاکستان امن میں اپنا کردار ادا کرنے لگا اور اس کو سراہا جانے لگا۔
مراد سعید نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے والوں کی راہ میں عمران خان رکاوٹ ہے، بھارت کہہ رہا ہے کہ نواز شریف پر ہم نے سیاسی اور سفارتی حوالوں سے انویسمنٹ کی ہے، کیا ڈان لیکس سے فائدہ پاکستان کو پہنچا یا نقصان، کلبھوشن پر خاموشی سے پاکستان کو فائدہ پہنچا یا نقصان، نواز شریف کے بیانات کو بین الاقوامی کورٹ میں ہمارے خلاف پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا، جب عمران خان کی حکومت، پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کررہی تھی تو اپوزیشن نے این ار او مانگا اور پھر یہ تماشا ہوا، کیا پاکستان کو چین سپورٹ کرے گا؟ کیا پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ جائے گا؟ نواز شریف جب بھارت جاتے تھے تو حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں نہیں کرتے تھے، ان کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کیا جائے، پاکستان میں اندر سے تفریق پیدا کرکے سازشیں کی جائیں، یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اندر سے اتنا کمزور کردیں کہ ہم کشمیر پر جاری مظالم پر توجہ نہ دے سکیں۔
مراد سعید کا کہنا تھا کہ میں ان سے دو سوال کرتا ہوں کہ کیا نواز شریف نے کسی لابی سے ملاقات کی تھی، جس کے 2 مقاصد تھے کہ ایک کرپٹ کو جمہوریت کے چیمپئن کے طور پر پیش کرنا اور پاکستانی فوج کے خلاف بات کرنا۔ ڈان لیکس کیوں ہوا، کشمیر پر خاموشی کیوں؟ جبکہ کلبھوشن اور پٹھان کوٹ کے معاملے پر خاموشی پر پاکستان کو نقصان پہنچا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اب کیا وجہ ہے کہ عمران خان کے آنے کے بعد یو این سیکریٹری پاکستان کا دورہ کرتے ہیں، پاکستان دہشت گردی نہیں سیاحت سے پہچانا جاتا ہے، کیا وجہ ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں امن کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور انڈیا دہشت گردی سے پہچانا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا بھارت سے کیا مفاد تھا؟ ان کے کاروباری مفادات تھے بچوں کے تعلقات تھے اور یہ ویزوں کی درخواستیں دیتے تھے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اور اپنی شوگر ملز میں لوگوں کو بلانے کے لیے درخواستیں دیتے تھے، پاکستان میں کاروبار کرنے کی پیش کش کی جاتی تھی پاکستان کے سابق سفارت کار یہ باتیں بتارہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھیں 2 سال میں کیا ہوا، جو کہتے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہورہا ہے پاکستان معاشی بحران سے نکل کر استحکام حاصل کر چکا ہے، جو پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے خواب دیکھتے تھے انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی، جنہوں نے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی انہیں منہ کی کھانی پڑی، پاکستان واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی میڈیا نہیں جاسکتا کئی بار پیش کش کی گئی پاکستان کی جانب سے مگر منظور نہیں کیا گیا یہاں تو اتنی اظہار آزادی ہے کہ جو اشتہاری ہے وہ بھی لائیو تقریر کررہا ہے جو جعل سازی میں ملوث ہیں وہ بھی اور جو مفرور فیک اکاؤنٹس اسکینڈل میں نیب میں پیش ہوتے ہیں وہ بھی وکٹری کا نشان بناتے ہیں، ان کو بھی لائیو دکھایا جاتا ہے اس قسم کی آزادی دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بہت بڑی جنگ شروع کردی ہے میں ان مہروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس لڑائی میں اگر آپ نادانی میں کردار ادا کررہے ہیں تو اس کا حصہ مت بنیں، ایک لندن میں بیٹھے ہیں اور ان کی ملاقاتوں کا حال سب کو معلوم ہے لیکن جو پاکستان میں ہیں اور نادانی میں اس کا حصہ بن رہے ہیں میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان ہے تو امن ہے، پاکستان ہے تو آپ کی سیاست ہے، پاکستان ہے تو آپ کا نام ہے، ہم نے پاکستان کے نام اور دھرتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کے اداروں کو کمزور کرنے والوں کی خواہشات کو نااُمیدی میں بدلنا ہے اور قائد اعظم کے قول کے مطابق ایک قوم بننا ہے سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھان نہیں بننا اور پاکستان کو تقسیم کرنے والوں کی خواہشات کو شکست فاش کرنا ہے۔
