مادر ملت فاطمہ جناح پہلی غدار سیاستدان کیسے قرار پائیں؟


پاکستان میں سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے کی روایت سب سے پہلے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے ڈالی اور فاطمہ جناح ملک کی وہ پہلی سیاستدان تھیں جن کو غدار قرار دیا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیا کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو بھی غدار قرار دیا گیا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے کسی کو واقعی آیئن شکنی پر باقاعدہ غدار قرار دے کر سزائے موت سنائی ہے تووہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو قوم نے مادرِ ملت کا خطاب دیا، لیکن جنرل ایوب خان نے انہیں غدار قرار دلوایا۔ لیکن پھر تاریخ کا پہیہ الٹا گھومتا اور اسی ایوب کوعوام نے ایوب کتا، کتا کرکے ایوان اقتدار سے بےدخل کیا۔
تاریخ دان حیران ہیں کہ جنرل ایوب خان جنہیں عام طور پر ایک لبرل اور سیکولر شخصیت سمجھا جاتا تھا انھوں نے محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے نہ صرف کئی علما سے عورت کے سربراہ مملکت ہونے کے خلاف فتویٰ لیا بلکہ اپنے گماشتوں کے ذریعے انہیں غدار بھی قراردلوایا لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ غداری کا فیصلہ خفیہ ادارے نہیں بلکہ تاریخ کرتی ہے۔
پاکستان میں مخالف سیاسی قیادت پر غداری اور امریکہ و بھارت کا ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کرنے کی ایک تاریخ ہے۔ لگ بھگ قیام پاکستان سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اس دوران کیسے کیسے محب وطن لوگوں پر دشمن کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی اس الزام سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ٹائم میگزین کی 1964 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح صدارتی انتخابات میں اقتدار کی خاطر ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو امریکہ اور بھارت کا ایجنٹ قرار دے کر عوام کو ان سے بددل کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب 71سالہ محترمہ فاطمہ جناح پر ایوب خان نے بھارت اور امریکہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تو پورے پاکستان میں عوام، بالخصوص طالب علموں نے مظاہرے کرنے شروع کر دیئے۔ پاکستان کے شہری ایوب خان کی آمریت پر پہلے ہی برہم تھے، اس پر ایوب خان کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرنے پر وہ مزید مشتعل ہو گئے۔ کراچی میں ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے میں پولیس کے تشدد سے ایک شخص کی موت بھی واقع ہو گئی تھی۔ دراصل ایوب خان کو خوف لاحق تھا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدارتی الیکشن کبھی نہیں جیت سکیں گے اور ان کا یہ خوف درست بھی تھا۔ چنانچہ جب قائد کی ہمشیرہ پر غداری کی تہمت بھی کام نہ آئی تو الیکشن میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا گیس اور پھر جو ہوا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر آج بھی بدنما دھبے کی صورت موجود ہے۔
تاہم سوچنے کی بات ہے کہ جنرل ایوب خان کی آشیر باد سے بندوقوں والوں نے محترمہ فاطمہ جناح پر غداری کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی خیال نہ کیا گیا کہ قوم کی یہ ماں بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی سگی بہن ہیں جنہوں نے اپنے بھائی کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ فاطمہ جناح کا قصور صرف اتنا تھا کہ جب فوجی آمر جنرل ایوب خان نے جمہوریت کو ختم کیا تو انہوں نے بندوقوں والوں کی طاقت کو للکارا اور جب عوامی مطالبے پر جنرل ایوب خان کے مقابلے پر صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو ظالم ڈکٹیٹر نے انہیں بھارتی ایجنٹ اورغدار قرار دے ڈالا۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صدارتی الیکشن میں ایوب خان کا پالا فاطمہ جناح سے پڑا تو وہ ان کی عوامی پذیرائی سے گھبرا گئے۔ ایوب نے فاطمہ جناح کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔ جواب میں فاطمہ جناح نے ایوب اور ان کے خاندان کی بدعنوانیوں پر کڑی تنقید کی۔ الطاف گوہر نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے۔“…اب ایوب خان کی برداشت جواب دینے لگی تھی۔ انھوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مس جناح کے غیر شادی شدہ ہونے کے حوالے سے ان پرخلاف فطرت زندگی بسر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ’’بدخصال لوگوں میں گھری ہوئی ہیں۔‘‘ ایوب خان کے ان واھیات کلمات پر سرکاری حلقے سکتے میں آگئے۔ تاہم ایوب خان کو اس کا کوئی ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا۔
1962کے آئین کے تحت ایک سو چھپن ارکان پر مشتمل جو قومی اسمبلی تین برس کے لیے وجود میں آئی، اس کا چناؤ عوام نے نہیں بلکہ صدر ایوب کے بنیادی جمہوریتی نظام کے تحت عوامی ووٹ سے بننے والے اسی ہزار بیسک ڈیمو کریٹس نے کیا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کرکے اسمبلی کے ارکان کی تعداد دو سو اٹھارہ اور الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک کر دی گئی۔ انھی بیسک ڈیمو کریٹس نے جنوری 1965 کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کو ایک اور مدت کے لیے صدر منتخب کیا۔
یاد رہے کہ ایوب خان اس دوڑ میں مسلم لیگ کنونشن کے حمایت یافتہ تھے جبکہ فاطمہ جناح کی حمایت کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز نامی پانچ جماعتی اتحاد کر رہا تھا۔الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے لیے ایک ماہ کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوا کہ عام لوگ فاطمہ جناح کو سننے کے لیے جوق در جوق آ رہے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن نے ہر فریق کے لیے زیادہ سے زیادہ نو پروجیکشن میٹنگز منعقد کرنے کی حد لگا دی جن میں صرف الیکٹورل کالج کے بیسک ڈیموکریٹس یا صحافی شریک ہو سکتے تھے۔ عوام کو ان اجلاسوں میں آنے کی ممانعت تھی۔اگرچہ ایوب خان بحثیت صدر پوری سرکاری مشینری اور ہر طرح کا دباؤ برتنے کے بعد حسبِ توقع بھاری اکثریت سے فاطمہ جناح کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے لیکن اس کے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں جو مایوسی پھیلی اس نے تین برس بعد ایوب خان کے خلاف بھرپور ملک گیر ایجی ٹیشن کی بنیاد رکھ دی۔ ایوب خان پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جس کے نتیجے میں شروع ہونے والی تحریک بالآخر ایوب کتا تحریک کی صورت اختیار کر گئی اور ان کے اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ یوں فاطمہ جناح کو غدار قرار دینے والا ایوب رسوا ہوکر اقتدار سے رخصت ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button