ماضی میں کالے جادو کا مذاق اڑانے والے کپتان کی کایا کیسے پلٹی؟

جوانی بطور پلے بوائے گزار کر بڑھاپے میں روحانی ہو جانے والے وزیر اعظم عمران خان اب تو مزاروں کی چوکھٹ کو بوسہ بھی دیتے ہیں اور خود کو کالے جادو کے اثرات سے بچانے کے لئے جسم پر ماش کی کالی دال کا لیپ بھی کرتے ہیں جس کا ذکر ریحام خان نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے لیکن ماضی میں عمران ایسے بالکل نہیں تھے. نہ تو وہ روحانی تھے اور نہ ہی کالے جادو کو مانتے تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سٹار بیٹسمین ظہیر عباس اس زمانے میں جادو ٹونے کے اثرات کو مانتے تھے اور اس بات پر عمران خان ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ عمران خان ہاتھ میں تسبیح گھماتے ہوئے مزاروں پر بھی جاتے ہیں اور کالے جادو کا توڑ بھی کرتے ہیں۔
عمران نے اپنی کتاب ’آل راﺅنڈ ویو‘ میں لکھا ہے کہ 80 کی دہائی میں فاسٹ بولنگ کا سامنا کرنے میں ظہیر عباس کو مشکل پیش آنے لگی۔ ان کے خیال میں ویسٹ انڈیز کے باؤلر سلویسٹر کلارک کی گیند سر پر لگنے کے بعد ظہیر عباس پہلے والے ایشین ڈان بریڈ مین نہیں رہ گئے تھے۔ ظہیر عباس کا بین الاقوامی کرکٹ کرئیر تین نومبر 1985 کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے میچ کے بعد اختتام کو پہنچا۔ اس زمانے میں عمران خان کے خلاف ان کے بیانات بھی اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ عمران انکے کیریئر کے آخری دنوں کے زوال کے ہی شاہد نہیں، اس وقت کے بھی گواہ ہیں جب اپنے زمانۂ عروج میں ظہیرعباس خود پر اعتماد کھو بیٹھے تھے۔ اس بات کا ذکر انہوں نے زبانی بھی کیا اور اسے اپنی کتاب ’Pakistan: A Personal History‘ میں بھی درج کیا ہے۔
عمران اپنی کتاب میں لکھتے ہین کہ اگر لوگوں کو یاد ہو تو 1978 میں ظہیر عباس نے پاکستان کا دورہ کرنے والی انڈین ٹیم کا بولنگ اٹیک تباہ کرکے رکھ دیا تھا۔ محض ایک برس بعد جب ہم انڈیا کے دورے پر گئے تو شائقین نے اس سے بے پناہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور ظہیر ان تمام امیدوں کے بوجھ تلے دبا جارہا تھا۔ ناکامی کے خوف کا تدارک کرکے اپنے کھیل کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے بجائے اس نے روحانی امداد لینی شروع کر دی۔ سب سے پہلے تو اس نے اپنی بلے بازی کی تکنیک کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ کی۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ اس تکنیک کی بدولت ایک برس پہلے وہ ریکارڈ بنانے میں کامیاب رہا تھا۔ کچھ روز بعد وہ اپنی آنکھوں کا معائنہ کرارہا تھا کہ شاید کوئی خرابی پیدا ہوچکی ہو، مزید دو ہفتے گزرنے بعد اسکی حالت اور بھی خراب ہوگئی۔ اس کے خیال میں کسی نے اس پر کالا جادو کردیا تھا۔ آخر کار اس وہم کا شکار ہو کر اس عظیم بلے باز کو ٹیم سے الگ ہونا پڑا۔
عمران خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سالہا سال کے مشاہدے سے میں نے سیکھا ہے کہ بہت سے لوگ محض اس لیے نامرادی کی بھینٹ چڑھتے ہیں کہ وہ اپنی ناکامی کا درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور خود کو دھوکا دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ظہیر عباس کے بارے میں عمران کی بات کی تصدیق پی ٹی وی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اختر وقار عظیم نے اپنی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ میں کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 1983 میں جب ٹیم ظہیر عباس کی کپتانی میں انڈیا کے دورے پر گئی تو جالندھر ٹیسٹ سے پہلے انہوں نے ایک مشہور روحانی شخصیت نصیر الاجتہادی سے فون پر بات کی۔ ان کے بقول ’علامہ صاحب سے کپتان نے یہ درخواست کی کہ وہ استخارہ کے کر بتائیں کہ انہیں ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کرنا چاہیے یا بولنگ۔ نصیرالاجتہادی نے انہیں کیا مشورہ دیا یہ تو مجھے معلوم نہیں، یوں بھی ان کے مشورے پر عمل کی ضرورت نہیں پڑی کیوں کہ ٹاس انڈین کپتان نے جیت لیا تھا۔‘
یہ ایک سچ ہے کہ عظیم کھلاڑی ریٹائر ہوجانے کے عشروں بعد بھی خبروں میں رہتے ہیں اور چاہنے والوں کے دلوں میں بھی۔ ماضی کے عظیم پاکستان کرکٹر ظہیر عباس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ سنہ 2015 میں وہ آئی سی سی کے صدر بنے۔ حال ہی میں انھیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی بھی ان کی یاد دلاتی رہی۔ 1971 میں ایجسٹن ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے اپنے دوسرے اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 274 رنز کی معرکہ آرا اننگز کھیلی جو کرکٹ کے عالمی منظر نامے پر، ایک بڑے کھلاڑی کی آمد کا اعلان تھی۔ میچ کے پہلے اوور کی تیسری گیند پر آفتاب گل زخمی ہوئے اور انھیں ریٹائرڈ ہرٹ ہونا پڑا۔ فاسٹ بولر ایلن وارڈ کی گیند ان کے سر پر لگی تھی۔ خوف کی اس فضا میں، آنکھوں پر چشمہ جمائے نوجوان ظہیر عباس میدان میں داخل ہوئے اور پھر ایسی دلکش اننگز کھیلی جسے بھلایا نہ جاسکے۔ 1974 کے دورہ انگلینڈ میں ظہیر عباس نے اوول ٹیسٹ میں 240 رنر بنائے۔ ان دو اننگز کا خیال اس لیے آیا کہ حالیہ سیریز میں کسی پاکستانی بیٹسمین کا مجموعی اسکور بھی ان کی کسی ایک اننگز کے اسکور کے برابر نہیں پہنچا۔ کپتان اظہر علی نے تین ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ 210 رنز بنائے۔ پاکستانی بیٹسمنوں کی خراب کارکردگی سے عامر سہیل کے 1992 میں، مانچسٹر ٹیسٹ میں ایک دن میں بنائے 205 رنزکی طرف بھی ذہن منتقل ہوا۔ یہ ان کا تیسرا ٹیسٹ میچ تھا۔ اظہر علی کو چھوڑ کر کوئی پاکستانی کھلاڑی پوری سیریز میں اتنے رنز بھی نہ بنایا جتنے عامر سہیل نے ایک دن میں بنا لیے تھے۔
روحانیت پر یقین رکھنے والے ظہیر عباس کو ’ایشین بریڈ مین‘ کہا جاتا ہے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری بنانے والے واحد ایشیائی بیٹسمین ہیں۔ اس کارنامے سے رنز بنانے کےلیے ان کی اشتہا کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی واسطے انہیں رنز مشین کہا جاتا۔ آٹھ دفعہ انہوں نے فرسٹ کلاس میچ کی دونوں اننگز میں سنچری بنائی۔ ان میں سے بھی چار موقعوں پر ایک اننگز میں ڈبل سنچری اورایک میں سنچری اسکور کی۔ 100ویں سنچری انہوں نے انڈیا کے خلاف ٹیسٹ میں ڈبل سنچری کی صورت بنائی۔ ظہیر عباس بڑے دلکش اسٹائل میں بیٹنگ کرتے تھے۔ کمال کی ٹائمنگ، عمدہ فٹ ورک، کلائیوں کا عمدگی سے استعمال، فاسٹ اور اسپن بولروں کو کھیلنے میں یکساں مہارت۔ جس طرح مصور برش سے اسٹروک لگا کہ فن پارہ تخلیق کرتا ہے اسی طرح ظہیر عباس بیٹ سے اسٹروک لگا کر اننگز بناتے سنوارتے، اسے مزین کرتے۔ ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ظہیر عباس کے کارناموں کے گہرے سایوں میں، ون ڈے کرکٹ میں ان کی کارکردگی شائقینِ کرکٹ کی نظروں سے ذرا اوجھل رہی۔ کرکٹ کے اس نئے فارمیٹ کے ساتھ انہوں نے بڑی آسانی سے خود کو ہم آہنگ کیا اور بڑی سہولت سے جارحانہ اندازمیں اسکور کرتے رہے، جس کا اندازہ 84.80 کے اسٹرائیک ریٹ سے ہوتا ہے۔ اس زمانے میں ہزار سے زائد رنز بنانے کھلاڑیوں میں صرف ویوین رچرڈز اور کپیل دیو کا اسٹرائیک ریٹ ان سے بہتر تھا۔ ان کے بعد پاکستان کے ون ڈے کے چند بڑے ناموں مثلاً جاوید میانداد، انضمام الحق، محمد یوسف اور سعید انور، ان سب کا اسٹرائیک ریٹ اور بیٹنگ اوسط ظہیر عباس سے کم ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ظہیر عباس نے، ان کے مقابلے میں بہت کم یعنی 62 میچ کھیلے لیکن یہ میچ ان کی کلاس کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہیں۔ سات سنچریوں کی مدد سے انہوں نے 2572 رنز 47.62 کی اوسط سے بنائے۔عمران خان نے اپنی کتاب میں انہیں ون ڈے میں اعلیٰ درجے کا بیٹسمین قرار دیا۔ معروف کرکٹ رائٹر عثمان سمیع الدین نے گزشتہ برس ورلڈ کپ کے حوالے سے پاکستان کی آل ٹائم گریٹ الیون بنائی تو اس میں ظہیر عباس کو بھی جگہ دی۔
ظہیر عباس نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ون ڈے کرکٹ سے وابستہ رہیں گے لیکن روحانی ہو جانے اور کالے جادو پر یقین رکھنے کی وجہ سے عمران خان کا ان پر اعتماد ختم ہوچکا تھا لہذا ان کا کرکٹ کیرئیر ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ روحانی ہوجانے اور کالے جادو کو تسلیم کر لینے کے بعد کیا عمران خان کا سیاسی کیریئر بھی کہیں گل ہونے تو نہیں جارہا۔
