موٹروے زیادتی کیس : جنگل سے لوٹی گئی اشیاء مل گئیں

لاہور ایسٹرن بائی پاس موٹر وے پر خاتون سے ڈکیتی اور زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جنگل سے خاتون سے لوٹی گئیں طلائی انگوٹھی اور گھڑی برآمد ہوئی ہے۔ خاتون سے ڈکیتی کے بعد ڈاکو اسے کھائی میں لے گئے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی اہلکاروں کو دن کی روشنی میں لوٹی ہوئی اشیاء ملیں۔
انگوٹھی اور گھڑی ڈاکو کے فرار کے دوران گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں اشیاء کو فنگر پرنٹ تجزیہ کےلیے بھجوا دیا گیا ہے۔ خاتون سے ایک لاکھ نقدی اور زیورات لوٹ لئے گئے تھے۔ موٹر وے زیادتی کیس میں پولیس کی طرف سے کرمنل رکارڈ کے حامل 70 افراد کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا۔ ایس ایس پی ذیشان اصغر نے بتایا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق تمام افراد جائے وقوعہ کے اطراف کے رہائشی ہیں، فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کے بعد کافی چیزیں واضح ہوچکی ہیں جب کہ اس چیز کے بھی شواہد ملے ہیں کہ ملزمان واردات کےلیے پیدل آئے اور پیدل ہی واپس گئے، کھوجی کی مدد سے ملزمان کے فٹ پرنٹس کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے دلخراش واقعےمیں متاثرہ خاتون کو اس کے کم سن بچوں کے سامنے گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا، بدترین تشدد کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، دوسری طرف اس واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، اس سلسلے میں قانون سازی اور ملزمان کی سرعام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کےلیے پیشہ ور کھوجی کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں ہیں، کھوجی ٹیمیں پولیس کے ساتھ مل کرکام کررہی ہیں، جب کہ پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں اہم انکشافات کیے ہیں، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ خاتون کو زیادتی کے دوران اور اس سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button