مال روڈ کا سٹینڈرڈ ہوٹل اب صرف کتابوں میں زندہ ہے

قیام پاکستان سے قبل لاہور کے مال روڈ پر واقع کئی انگریزی ہوٹلوں میں ایک مقبول ترین ہوتل سٹینڈرڈ بھی ہوتاتھا جہاں اینجلا نامی رقاصہ اپنے فن آنے والوں کو محظوط کیا کرتی تھی۔ لیکن آج نہ یہاں سٹینڈر ہوٹل نظر آتا ہے اور نہ اینجلا، البتہ افسانوں اور نالوں میں دونوں کا تذکرہ جابجا ملتا ہے جو سٹینڈرڈ ہوٹل اور اینجلا دونوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

گزرے وقتوں میں لاہور کی مال روڈ پر کتنے ہی ہوٹل اور ریسٹورانٹ تھے جو اب قصۂ پارینہ ہوگئے۔ گزرے وقتوں میں مال روڈ پر ریگل چوک میں سٹینڈرڈ ریستوران ہوا کرتا تھا جس کا تذکرہ فکشن اور نان فکشن دونوں طرح کی تحریروں میں ملتا ہے۔ پران نول کی کتاب Lahore – A sentimental Journey جس کا نعیم احسن کے قلم سے اردو ترجمہ ’لاہور جب جوان تھا‘ سے کیا گیا ہے۔ اس میں پران نول لکھتے ہیں

’1939 کے لگ بھگ مال روڈ پر سٹینڈرڈ ریستوران کا قیام عمل میں آیا جو ’چائے کے وقت‘ کے انقلاب کا نقیب بنا۔ وہاں پر ایک روپیہ اور چار آنے میں کوئی جس قدر چاہتا چائے پی سکتا تھا اور اس کے ساتھ جتنی تعداد میں چاہے پیسٹریاں، پیٹیز، سینڈوچ اور کیک کھا سکتا تھا ۔ یہ مال پر کھلنے والا پہلا ریسٹورنٹ تھا جہاں ہندوستانی کھانے اور چپاتیاں دی جاتی تھیں۔ ہندی کے ممتاز فکشن نگار یشپال کے ناول ’جھوٹا سچ‘ کا آغاز 40 کی دہائی کے لاہور سے ہوتا ہے۔ یہ ناول جسے ہندی سے اردو میں منیرہ سورتی نے منتقل کیا ہے، اس کے پہلے حصے میں تقسیم سے پہلے اہالیانِ لاہور کے رہن سہن، ،سماجی رویوں، مختلف قوموں کے آپسی تعلقات اور مسموم سیاسی فضا کا احوال بیان ہوا ہے۔ اس میں کہیں کہیں ’سٹینڈرڈ ‘ کا ذکر بھی ہے:

چند جملے کچھ اس طرح ہیں ،،، اس دن کے بعد پوری اور کنک باہر بھی ملنے لگے۔ شام کے وقت جب پوری کی ڈیوٹی دفتر میں رہتی تو دوپہر کے وقت، جب ریستوران سُونے ہوتے، کنک کالج سے چلی آتی۔ کبھی دونوں مال روڈ پر سٹینڈرڈ میں مل جاتے، کبھی کسی دوسری جگہ پر۔ایک اور جگہ لکھا ہے،،، ’اس سے پہلے تارا سٹینڈرڈ میں گرٹو کے ساتھ اور امرتا کی پارٹی میں گئی تھی۔ کالج کے ریستوران میں کئی بار لڑکے لڑکیوں کے ساتھ مل جل کر چائے پی لیتی تھی۔ ایک نوجوان کے ساتھ اکیلے ریستوران میں جانا بہت بڑا قدم جان پڑا، کوئی بھی دیکھ کر کچھ کہہ سکتا تھا، لیکن جذبات کے بہاؤ میں منہ سے نکلا،’اچھا….‘….اسد اور تارا سٹنیڈرڈ ریستوران کی اوپر کی گیلری میں ایک کیبن میں بیٹھے تھے۔

سعادت حسن منٹو کے افسانے ’عشقِ حقیقی‘ میں بھی ’سٹنیڈرڈ‘ کا تذکرہ ملتا ہے۔ منٹو لکھتے ہیں،،،، ’فلم ختم ہوا۔ لوگ باہر نکلنے شروع ہوئے۔ لڑکی اور اس کا بھائی ساتھ ساتھ تھے۔ اخلاق ان سے ہٹ کر پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ سٹینڈرڈ کے پاس، بھائی نے اپنی بہن سے کچھ کہا، ایک تانگے والے کو بلایا، لڑکی اس میں بیٹھ گئی۔ لڑکا سٹینڈرڈ میں چلا گیا۔ لڑکی نے نقاب میں سے اخلاق کی طرف دیکھا، اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ تانگا چل پڑا۔ سٹینڈرڈ کے باہر تین چار دوست کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک کی سائیکل اس نے جلدی جلدی پکڑی اور تانگے کے تعاقب میں روانہ ہوا۔

اسی طرح شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے خود نوشت ’اپنا گریباں چاک‘ میں بتایا ہے کہ علامہ اقبال کی وفات کے بعد وہ ان کے نافذ کردہ ڈسپلن سے آزاد ہوگئے۔ جس راہ پر انھوں نے چلنے سے منع کیا، اسی پر بگٹٹ دوڑے۔ اگر شام کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی تو اب وہ آدھی رات سے پہلے گھر نہ پلٹتے۔ فلم دیکھنے پر پابندی تھی تو اب تین تین شو دیکھتے۔ نوجوان جب چوڑ ہوتے ہیں تو پھر ریستوران جانا بھی ان کے معمولات کا حصہ بنتا ہے۔ اس زمانے میں ان جگہوں پر مے نوشی بھی ہوتی تھی۔ رقص کی محفل بھی جمتی تھی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس دور کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کا ذکر کچھ یوں کیا،،، ’مال روڈ پر ہی لاہور کے مشہور ریسٹورنٹ اور ہوٹل واقع تھے۔ ان میں لورینگز جو شاہ دین بلڈنگ میں تھا، اپنی چائے اور پیسٹریوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسی طرح سٹینڈرڈ، سٹیفلز، میٹرو، فلیٹیز، نیڈوز وغیرہ بھی مے نوشی، یورپی طرز کے رقص و سرود اور رات کے کھانے کے لیے مشہور جگہیں تھیں۔ سٹینڈرڈ ریگل چوک میں تھا، سٹیفلز وسطی مال روڈ پر واقع تھا۔ میٹرو کی جگہ اب واپڈا کی بلڈنگ ہے، نیڈوز کی عمارت گرا کر اب وہاں آواری ہوٹل بن چکا ہے۔ البتہ فلیٹیز ہوٹل اپنی اصل شکل میں اب تک موجود ہے۔

معروف تاریخ دان کے کے عزیز مرحوم نے بھی سٹینڈرڈ کے بارے میں لکھا ہے کہ اس ریسٹورانٹ میں ہندو اور سکھ خواتین خاندان کے ہمراہ آ جایا کرتی تھیں لیکن مسلمانوں میں صرف مرد نظر آتے۔ ان کے مطابق تقسیم ہند کے بعد سٹینڈرڈ زیادہ عرصہ نہیں چل سکا کیونکہ اس کے گاہکوں کی بڑی تعداد لاہور سے چلی گئی اور اسکا انجام بھی دیگر ہندو اور یورپین ہوٹلوں کی طرح ہوا۔ یاد رہے کہ سٹینڈرڈ کی طرف کھنچے چلے آنے کی ایک وجہ اینگلو انڈین ڈانسر اینجلا کا رقص بھی تھا جس کا ذکر کئی معروف ادیبوں نے کیا ہے۔ نامور فکشن نگار مستنصر حسین تارڑ جن کا بچپن سٹینڈرڈ کے قریب لکشمی مینشن میں گزرا، ان کے ناول ’راکھ‘ میں بھی اس ریستوران کا تذکرہ موجود ہے۔ تارڑ لکھتے ہیں ،،، لکشمی مینشن کے سہ منزلہ فلیٹوں کی لمبی مستطیل چھت پر مشاہد کی کھلی آنکھوں پرجو آسمان تھا

اس کی نیم تاریکی میں صرف ریگل چوک کے پار ’سٹینڈرڈ‘ کے اوپن ایئر ریستوران میں سجاوٹ کے قمقموں کی ہلکی روشنی تھی جو اس تاریکی میں آگے ہو کر بجھتی جاتی تھی اور اس کے کانوں میں موسیقی اور تماشائیوں کا ہلکا شور تھا اور اس شور کے درمیان سڑک کے پار سٹینڈرڈ کی چھت پر شہر لاہور کی اکلوتی اور من پسند ڈانسر اینجلا ناچ رہی تھی۔’آج رات بھی ریگل چوک کے پار ’سٹینڈرڈ ‘ کے اوپن ائیر ریستوران سے موسیقی اور تماشائیوں کا ہلکا سا شور اٹھتا تھا اور شہر لاہور کی اکلوتی اور من پسند ڈانسر اینجلا ناچتی تھی۔ اینجلا کے رقص کا ذکر ممتاز ادیب انتظار حسین نے ’چراغوں کا دھواں‘ میں بھی کیا ہے لیکن انھوں نے جو دلچسپ ماجرا لکھا ہے وہ سٹینڈرڈ نہیں میٹرو ہوٹل سے تعلق رکھتا ہے۔ اے حمید نے سٹینڈرڈ کی جگہ ایک سٹور کا ذکر کیا ہے، یہ سٹور بھی اب نہیں ہے اور اس وقت یہاں ایک بینک کی برانچ ہے۔ یہ ریستوران مال روڈ سے ریگل سینما کی طرف جانے والے راستے کے دائیں نکڑ کے قریب ہی تھا۔ اے حمید کی اشفاق احمد کے بارے میں کتاب ’داستان گو‘ میں بھی سٹینڈرڈ اور اینجلا کا تذکرہ ملتا ہے۔ ایک دن پرانی یادیں تازیں کرنے کے لیے اے حمید ہمدمِ دیرینہ اشفاق احمد کے ساتھ شہر نوردی کے لیے نکلے تو ریگل کا بھی رخ کیا۔ ایک بڑے سٹور کو دیکھا اور ان وقتوں کو یاد کیا جب اس جگہ سٹینڈرڈ ہوا کرتا تھا اور جس کی خاص بات اینجلا کا رقص تھا۔ اے حمید نے اس زمانے کو حسرت سے یاد کرتے ہوئے لکھا:’… اب سٹینڈرڈ ہوٹل رہا نہ سٹینڈرڈ ہوٹل کی ڈانسر اینجلا رہی، جو رہی سو بے خبری رہی۔

Back to top button