متحدہ عرب امارات میں گھریلوملازمہ کی ماہوارتنخواہ11لاکھ روپے مقرر

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے گھریلو خواتین ملازماؤں کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ تقریبا پاکستانی11لاکھ روپے مقرر کردی۔ یواےای میں اس سے قبل خواتین ملازمین کی ماہانہ تنخواہ پاکستانی7 سے8 لاکھ روپے تھی تاہم اب حکومت نے ان کی تنخواہ میں اضافہ کردیا۔
گلف نیوزکے مطابق یواےای کی وزارت انسانی وسائل کے حکام کے مطابق اب کوئی بھی اماراتی خاندان ہرخاتون ملازم کوماہانہ 25ہزاردرہم یعنی پاکستانی 10لاکھ 50 ہزارروپے سے زائد تنخواہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ وزارت انسانی وسائل نے جہاں گھریلوخواتین ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کردیا ہے وہیں حکومت نے ملازمین کی بھرتی کے لیے بھی نئے اورسخت قوانین متعارف کرادیے۔
نئے قوانین کے تحت اب کوئی بھی اماراتی خاندان کسی غیرشادی شدہ خاتون کو گھریلوملازمہ کے طور پربھرتی نہیں کرسکے گا۔ اماراتی خاندان کی جانب سے شادی شدہ بھرتی کی گئی خاتون ملازمہ کو جہاں پاکستانی تقریبا11لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ادا کرنا پڑے گی وہیں خاندان ملازمہ کواچھی رہائش اورصحت مندغذا سمیت اسے میڈیکل کی سہولیات بھی فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔
اماراتی قوانین کے مطابق خاتون ملازمہ یومیہ محض 8 گھنٹے کام کرنے کی پابند ہوگی اوراسے 12 گھنٹے ہرحال میں آرام دیا جائے گا۔ گھریلوملازمہ کو ہفتہ وارایک چھٹی جب کہ سالانہ 30 چھٹیاں بھی دی جائیں گی اورملازمت دینے والا خاندان یا کمپنی ملازمہ کوسالانہ 30میڈیکل چھٹیاں دینے کی بھی پابند ہوگی۔ حکومت نے خواتین ملازمین کے نئے قوائد و ضوابط بناتے ہوئے اماراتی خاندانوں اورکمپنیوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ اگروہ چاہیں تو خواتین ملازمین کو فی گھنٹ یا یومیہ کے حساب سے بھی ملازمت پر رکھ سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں کمپنی نے یہ بھی قراردیا ہے کہ اگر کوئی خاندان کسی خاتون کو مستقل ملازمت پر رکھنا چاہتا ہے توخاندان کو کم سے کم 2 سال تک خاتون کوملازمت فراہم کرنا ہوگی۔ حکومت کے مطابق اگرکوئی خاندان کسی بھی خاتون کو بہت زیادہ عرصے تک ملازمت پررکھنا چاہتا ہے تومذکورہ خاندان ملازمہ کو ہر2سال بعد اپنے گھر(بیرون ملک) جانے کی اجازت دینے سمیت ان کے آنے جانے کے ایئر ٹکٹ کا بھی بندوبست کرے گا۔
حکومتی قوانین کے مطابق اگر کوئی خاندان بیرون ممالک سے خاتون ملازم چاہتا ہے تو مذکورہ خاندان کو ملازمہ کے تمام ویزا اورفضائی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ حکومت نے اماراتی خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے ہی گھریلو خواتین ملازمین رکھیں دوسری صورت میں خلاف ورزی کرنے والے خاندان پر50 ہزر درہم جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کا شماران ممالک میں ہوتا جہاں گھریلو خواتین ملازمین زیادہ تر بیرون ممالک سے بلوائی جاتی ہیں۔ یواےای میں زیادہ ترایشیائی خواتین جن میں بھارتی اوربنگلہ دیشی سرفہرست ہیں وہ بطور گھریلو ملازم کام کرتی ہیں، علاوہ ازیں پاکستان، افغانستان، تھائی لینڈ، سری لنکا اورنیپال کی خواتین بھی وہاں گھریلوملازمت کرتی ہیں۔
سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی بہت زیادہ خواتین گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ عام طورپرگھریلو ملازمت کے لیے یواےای میں 30 سال سے زائدعمرخواتین کو رکھا جاتا ہے تاہم اچھی تنخواہ کےلالچ میں کئی ممالک کی کم عمرلڑکیاں شادی کے فوری بعد وہاں گھریلوملازمت کے لیے منتقل ہوتی ہیں۔
