محسن نقوی وزارت اعلی کے بعد ایک اور بڑی اننگز کھیلنے کو تیار

بطور نگران وزیراعلی پنجاب 13 ماہ کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی اہلیت ثابت کرنے والے محسن نقوی کو اب فیصلہ سازوں نے وفاقی کابینہ میں وزارت داخلہ کی اہم ترین ذمہ داری سونپنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ بتایا جاتا یے کہ میڈیا ٹائیکون سید محسن رضا نقوی کی بطور وفاقی وزیر داخلہ تعیناتی کی فوجی قیادت کے علاوہ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے بھی اتفاق رائے سے منظوری دے دی یے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کو بطور وفاقی وزیر داخلہ کابینہ کا حصہ بنانے سے پہلے بطور سینٹر منتخب کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس وقت محسن نقوی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ بننے کے بعد بھی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جھنگ کے سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید محسن نقوی 1978 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ محسن نقوی سینئر صحافی اور ایک میڈیا گروپ کے مالک ہیں اور ماضی میں طویل عرصہ تک معروف امریکی ادارے سی این این سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ چینل 24 اور سٹی 42 سمیت 6 ٹی وی چینلز کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی جانی مانی شخصیت ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایس ایس پی اشرف مارتھ کے داماد اور چوہدری پرویز الہیٰ کی بھانجی کے شوہر ہیں۔ اسکے علاوہ محسن نقوی قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کے بیٹے سالک حسین کے ہم زلف بھی ہیں۔ انہیں سیاست دانوں میں آصف علی زرداری کے زیادہ قریب خیال کیا جاتا ہے۔ گجرات کا معروف چوہدری خاندان محسن نقوی کا سسرال ہے۔ ان کی اہلیہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور چودھری پرویز الٰہی انکے سگے ماموں ہیں۔ لیکن محسن نقوی چوہدری پرویز الہی کی بجائے چوہدری شجاعت حسین کے زیادہ قریب تصور کیے جاتے ہیں۔

محسن نقوی لاہور میں پیدا ہوئے، ان کے والدین بہت چھوٹی عمر میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں دنیا سے رخصت ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی پرورش ان کی نانی اور ماموں نے کی، انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور کے کریسنٹ ماڈل ہائی سکول سے حاصل کی، جسکے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے۔ امریکہ میں قیام کے دوران محسن نقوی سی این این سے وابستہ ہوگئے، اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپسی پر بھی محسن نقوی نے سی این این کی نمائندگی جاری رکھی، وہ پہلے بطور پروڈیوسر اور پھر بطور ریجنل ہیڈ ساؤتھ ایشیا ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

محسن رضا نقوی نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اپنی جاندار رپورٹنگ سے عالمی میڈیا میں خوب نام کمایا۔
بعد ازاں 2009 میں انہوں نے سی این این سے علیحدگی اختیار کر کے صرف 30 سال کی عمر میں لاہور سے ایک مقامی نیوز چینل سٹی 42 کی بنیاد رکھی، اس کے بعد انہوں نے نیشنل لیول کا چینل 24 بھی لانچ کر دیا۔ عمران خان کے دور حکومت میں چینل 24 کی نشریات کو اس کی آزادانہ تنقیدی ادارتی پالیسی کی وجہ سے کئی مرتبہ انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے بند کیا گیا۔ لیکن محسن نقوی کی زیر قیادت قائم ہونے والا میڈیا ہائوس اب 6 نیوز چینلز اور ایک اخبار چلا رہا ہے۔ 2009 میں سٹی نیوز نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے کے بعد انہوں نے قومی سطح کی خبروں کے لیے 24 نیوز، فیصل آباد کے لیے سٹی 41، جنوبی پنجاب کے لیے روہی ٹی وی، کراچی کے لیے سٹی 21 اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ’یو کے 44‘ نامی چینلز بنائے۔ اسی ادارے نے لاہور سے ایک مقامی روزنامے ’ڈیلی سٹی 42‘ کا بھی اجرا کیا۔

بطور میڈیا چینل کے مالک محسن کی شہرت ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے ساتھیوں اور ورکرز کا بہت ذیادہ خیال رکھتے ہیں اور انھیں بہتر سے بہتر مواقع فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ بطور نگران وزیرعلی پنجاب 13 ماہ کے دوران محسن نقوی نے انتھک محنت سے اپنی اہلیت کو ثابت کیا جس کے بعد اب انہیں فیصلہ سازوں نے وفاقی وزیر داخلہ کا اہم ترین عہدہ سونپنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے.

Back to top button