محسن نقوی کو چیئرمینPCB بنانے کا متفقہ فیصلہ؟

ملک کی دو اہم سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نون لیگ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے نیا محسن چن لیا ہے۔ پاکستان میں عام انتخابات سے قبل پی سی بی میں بھی نئے چیئر مین کیلئے انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس بار اختیارات کی رسہ کشی سے بچنے کے لئے منتقدر حلقوں کی جانب سے چیئر مین بورڈ کے انتخاب کے لئے ملک کی دو اہم سیاسی پارٹیوں کو ایک نام پر قائل کر لیا گیا ہے۔ یوں موجودہ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی بنانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد محمد میاں نواز شریف کے درمیان پس پردہ اتفاق ہو چکا ہے۔ یوں سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا ایک بار پھر چیئرمین بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ سابق چیئر مین ذکا اشرف حالیہ تنازعات کے باعث چیئر مین شپ کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔ محسن نقوی نگران وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے سے قبل ہیپاکستان کرکٹ بورڈ میں طاقتور اور کل وقتی چیئرمین کے طور پر چارچ سنبھالیں گے۔
دوسری جانب روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق کرکٹرز نے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کو تباہ کن قرار دے دیا ہے۔ سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں سیاسی مداخلت کو تباہ کن قرار دیا ہے۔ محسن نقوی کی تقرری کی بازگشت پر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ایسے فرد کو لایا جارہا ہے۔ جسے کرکٹ کے انتظام کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ پاکستانی کرکٹ سیاست زدہ ہو چکی ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ پر فارمنس سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ نا تجربہ کار شخصیات کی تقرری سے پاکستانی کرکٹ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ میں ہنگامہ آرائی ایسے افراد کی وجہ سے ہے۔ جو ذاتی فائدے کے لئے کرکٹ بورڈ میں عہدوں کی تلاش میں ہیں۔ جن کے پاس کرکٹ بورڈ کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے ضروری تجربے کی کمی ہے ۔ دوسری جانب سابق کپتان جاوید میانداد نے کرکٹ میں سیاسی بنیاد پر تقرریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں متواتر تقرریوں اور تبدیلیوں نے کھلاڑیوں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ میں نے دنیا میں کہیں بھی ایسی کرکٹ گورنس نہیں دیکھی۔ جیسی کہ ہم پاکستان میں دیکھتے ہیں اور یہ صورت حال واقعی افسوسناک ہے۔ ہمارے کرکٹ ڈھانچے میں تسلسل نہیں ہے۔ ہر پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا نمائندہ کرکٹ بورڈ پر مسلط کر دے۔ جس انداز سے بورڈ کو چلا یا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوتی جارہی ہے۔ تاہم دوسری جانب غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے جس طرح پنجاب میں بہترین گورننس کے ذریعے کم وقت میں ڈیلیور کر کے محسن پنجاب کا لقب پایا ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی یے کہ محسن نقوی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے میدانوں کو آباد کرنے میں بھی کامیاب ہونگے۔ تاہم یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ پاکستان میں کرکٹ کی ترقی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پی سی بی یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ کا بورڈ آف گورنرز کا اجلاس 6 فروری کو طلب کیا گیا ہے۔ جس میں آئندہ تین برس کے لئے نئے چیئر مین کا انتخاب کیا جائے گا۔ نگراں وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی، جنہیں پی سی بی پیٹرن انچیف یعنی نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے گزشتہ ہفتے بورڈ آف گورنرز کا رکن نامزد کیا تھا۔ چیئر مین کے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کمشنر شاہ خاور کی نگرانی میں چیئر مین پی سی بی کے انتخابات ہوں گے۔ تاہم ابھی تک محسن نقوی کے مقابلے میں کوئی بھی امیدوارسامنے نہیں آیا ہے۔ خصوصی اجلاس چھ فروری بروز منگل نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں 2 بجے طلب کیا گیا ہے۔
