مدت ملازمت میں توسیع، وفاقی کابینہ نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں کابینہ اراکین کے علاوہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈے پرغور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے آرمی چیف اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار وضع کیاگیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری دیتے ہوئے آرمی چیف سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیمی بل کو قومی اسمبلی کے یکم جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پرویز خٹک، عامر ڈوگر، علی محمد خان اور اعظم سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اپوزیشن سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر مذاکرات کرے گی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کرتے ہوئے حکومت کا نوٹیفکیشن مشروط طور پر منظور کرلیا تھا اور کہا تھا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق قانون سازی کے لئے حکومت کو پارلیمنٹ کا پابند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے 6 ماہ میں آرٹیکل 243 کی وسعت کا تعین کیا جائے۔تاہم 26 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ حکومت چھ ماہ کے عرصے میں موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی نہ کر سکی تو جنرل باجوہ ریٹائر ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ برس میں قانون سازی کے لیے ملک کی پارلیمان سے زیادہ صدارتی آرڈیننس پر انحصار کیا ہے۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا غیر سنجیدہ رویے اور پارلیمان میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان تعلقات ناخوشگوار ہونے کی وجہ سے اہم معاملات پر قانون سازی نہیں ہو رہی۔حکمران جماعت نے پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران پارلیمان میں صرف 13 بل پیش کیے جن میں سے 10 قومی اسمبلی سے منظور ہوئے۔ ان میں انسداد منی لانڈرنگ بل کے علاوہ پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی اور کم عمر بچوں کے کیے سگریٹ نوشی کی ممانعت کے حوالے سے قوانین شامل ہیں۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے گذشتہ ایک سال کے دوران 21 صدارتی آرڈیننس جاری کروائے جن کی منظوری صرف وفاقی کابینہ سے لی گئی۔ ان میں نیب کے قانون کے حوالے سے جاری کیا جانے والا ترمیمی آرڈیننس بھی شامل ہے۔
تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے پارلیمانی سال میں، یعنی 13 اگست 2018 سے لے کر 12 اگست 2019 تک، قومی اسمبلی سے دس بل منظور ہوئے جبکہ اس عرصے کے دوران سینیٹ سے صرف پانچ بل منظور کروائے گئے۔ ان میں سے دو بل سگریٹ نوشی پر پابندی کے حوالے سے تھے، دو الیکشن سے متعلق جبکہ ایک بل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے متعلق تھا۔ اس کے مقابلے میں دوسرے پارلیمانی سال میں محض تین ہی بل منظور ہو سکے جبکہ گذشتہ 16 ماہ کے دوران قومی اسمبلی سے چھ بل منظوری کے لیے سینیٹ کو بھجوائے گئے ہیں۔
اس عرصے میں حکومت کی سب سے اہم کامیابی 26ویں آئینی ترمیم سمجھی جاتی ہے جو کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق ہے۔یہ آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے اس لیے ممکن ہو سکی کیونکہ حزب مخالف کی بڑی جماعتیں، جن میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، پہلے سے ہی اپنے ادوار میں اس معاملے پر کافی کام کر چکی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button