وفاقی حکومت کا آرمی ایکٹ میں ترامیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں نیب آرڈیننس اورآرمی ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ پارلیمنٹ میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم بھی اپوزیشن کی ترامیم بل میں شامل کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی اپوزیشن سے مذاکرات کریگی۔
حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیمی بل کو قومی اسمبلی کے یکم جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پرویز خٹک، عامر ڈوگر، علی محمد خان اور اعظم سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اپوزیشن سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر مذاکرات کرے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پرویز خٹک آرمی ایکٹ کی منظوری کیلئے اپوزیشن سے رابطے کریں گے اور ممکنہ طور پر مذاکرات بھی کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں مسودہ پیش کرکے زیر بحث لایا جائے گا۔
واضح رہے اس سے قبل سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق قانون سازی کے لئے حکومت کو پارلیمنٹ کا پابند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے 6 ماہ میں آرٹیکل 243 کی وسعت کا تعین کیا جائے فیصلے میں کہا گیا تھا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع چیلنج کی گئی، حکومت نے یقین دلایا 6 ماہ میں اس معاملےپرقانون سازی ہوگی، حکومت نے 6ماہ میں قانون سازی کی تحریری یقین دہانی کرائی، 6 ماہ بعداس سلسلے میں کی گئی قانون سازی کاجائزہ لیا جائے گا. سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرقانون سازی کرناپارلیمنٹ کااختیار ہے ، قانون سازی کے لئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجا جائے، تحمل کا مظاہرہ کرکے معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آرٹیکل 243 اور ملٹری ریگولیشن 255 کے سقم دور کرے.تاہم اب وزیراعظم نے اپوزیشن سےرابطے کیلئے پرویز خٹک کو ٹاسک دے دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کی ترامیم بھی بل میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button