مرنے والوں کے لواحقین نے پیسے لیے یا راہ خدا معاف کیا؟

چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق کی تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے چار افراد کے معاملے میں فریقین کے درمیان صلح نامہ ہو گیا ہے جبکہ کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کو 24 فروری تک عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والوں کے لواحقین نے کشمالہ طارق کے خاوند سے خون بہا وصول کیا ہے یا انہیں راہ خدا معافی دی ہے۔
17 فروری کے روز ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم اذلان کے وکیل سعید خورشید نے بتایا کہ ان کا ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے ورثا سے راضی نامہ ہو گیا ہے جبکہ تیسرے خاندان سے بات چیت جاری ہے۔ تاہم ملزم کے وکیل کی جانب سے ہلاک ہونے والے چوتھے نوجوان کے ورثا سے ہونے والی بات چیت کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔ یعنی ابھی کچلے جانے والے چار میں سے صرف دو نوجوانوں کے ورثا کے ساتھ معاملات طے پائے ہیں۔ اس حوالے سے عدالت کے استفسار پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ لواحقین سے بات چیت جاری ہے اس لیے آج ملزم اذلان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
ہلاک ہونے والے افراد میں سے ایک شخص فاروق احمد کے والد کی جانب سے تحریری صلح نامہ عدالت میں جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ ہلاک ہونے والے فاروق احمد اور زخمی مجیب الرحمن کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض ادا کرتے تھے جبکہ محمد انیس، محمد عادل اور حیدر علی عرف سونی بہت ہی قریبی دوست اور طالب علم تھے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم اذلان کے وکیل سعید خورشید نے بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا جس میں ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے لواحقین سے راضی نامہ ہو چکا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان بے گناہ ہیں کیونکہ ’وہ گاڑی نہیں چلا رہے تھے جبکہ ڈرائیور فیض الدین نے بھی پولیس کو بیان دیا ہے کہ حادثہ اُن سے ہوا۔‘ اس سوال پر کہ کیا لواحقین کو رقم ادا کی گئی ہے، ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ لواحقین نے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد ’فی سبیل اللہ معاف کیا ہے۔‘
یاد رہے کہ حادثے کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا کہ آیا چار نوجوانوں کو چلنے والی گاڑی کو کشمالہ طارق کا بیٹا ازلان چلا رہا تھا یا ان کا ڈرائیور؟ کشمالہ طارق کا اصرار تھا کہ گاڑی ان کا ڈرائیور چلا رہا تھا چنانچہ پولیس اس کو تھانے لے گئی لیکن تفتیش کے بعد اس کو رہا کر دیا گیا کیونکہ پولیس کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس ڈرائیور کو حادثے کی ذمہ داری لینے پر مجبور کیا گیا ہو۔ اسی دوران کشمالہ کے بیٹے اذلان نے اپنی عبوری ضمانت کروا لی اور ورثہ کے لواحقین سے ڈیل کرنے کی کوشش شروع کر دیں۔ لیکن حادثے میں بچ جانے والے پانچویں کار سوار کا یہ حصہ تھا کہ ٹکر مارنے والی گاڑی کو کشمالہ کا بیٹا اذلان ہی چلا رہا تھا لہذا وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لے کر اصل قاتل کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کروانی چاہیے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار لینڈ کروزر اسلام آباد میں ایک سرخ سگنل توڑ کر ایک مہران گاڑی سے جا ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں کار میں سوار پانچ میں سے چار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ پانچوں نوجوان خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک ہی علاقے کے رہنے والے اور قریبی دوست تھے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سیف سٹی کیمرہ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو تیز رفتار لینڈ کروز نے بند اشارے پر ٹکر ماری تھی جس سے وہ الٹتی ہوئی دور جا گری تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ویڈیوز کے مشاہدے سے ظاہر ہوا ہے کہ غلطی لینڈ کروزر کی تھی کیونکہ اس کا سگنل بند تھا۔ رپورٹ کے مطابق لینڈ کروزر نے اس کے بعد ایک موٹر سائیکل کو بھی ٹکر ماری اور وہ بھی دور جا کر سڑک کے درمیان موجود سبزے والے حصے پر گری۔
حادثے کے مقام پر بائیں جانب موجود ایک کمیرے سے بنی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ بظاہر اشارہ بند ہونے پر مہران گاڑی سڑک کے درمیان سے سپیڈ لین کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا رخ چوک کی جانب سے اسی دوران سپیڈ لین میں آنے والی تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار دیتی ہے۔
واضح رہے کہ حادثے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں حادثے کے مقام پر کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کو بھی دیکھا جا سکتا تھا جو گاڑیوں کے پاس کھڑے تھے تاہم ان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا وہ گاڑی چلا رہے تھے یا نہیں۔
پولیس کے تفتیشی افسر آصف خان نے بتایا تھا کہ حادثے کے بعد ایک ڈرائیور نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے گرفتاری دی تھی۔ ان کے بقول ’ابھی اس الزام کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا گاڑی کشمالہ طارق کا بیٹا چلا رہا تھا یا کہ ڈرائیور۔ ‘
آصف خان کا کہنا تھا کہ حادثے کہ وقت ایک سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی بھی سفید گاڑی کے ہمراہ تھی اور پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ گاڑی کون چلا رہا تھا سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس حادثے کے بعد کشمالہ طارق نے نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گاڑی بھی اس قافلے کے ساتھ موجود تھی جس میں وہ اور ان کے شوہر موجود تھے۔ تاہم ان کا بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا۔ انھوں نے حادثے میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ حادثے کے بعد وہاں رکے تھے اور خود ایمبولینس منگوا کر زخمیوں کو ہسپتال بھیجا۔ انھوں نے ایسی اطلاعات کی تردید کی تھی کہ حادثے کے بعد ان کی گاڑیاں موقعے سے فرار ہو گئی تھیں۔
