مروہ زیادتی و قتل کیس، 2 ملزمان کا اعتراف جرم

مروہ زیادتی و قتل کیس میں دو ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 5 سالہ مروہ کے کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔ آج مروہ زیادتی و قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔2 ملزمان کو اے ٹی سی عدالت کے منتظم جج کے سامنے پیش کیا گیا۔
واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے 2 ملزمان نے بچی سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ ملزمان کے نام فیض اور عبداللہ ہیں۔ فیض عرف فیضو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وقوعہ کے روز میں اور میرے ساتھی عبداللہ نے بچی کو اغوا کیا۔ اغوا کے بعد مروہ کو اپنے گھر لا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ملزمان نے اپنے بیان میں کہا کہ زیادتی کی وجہ سے مروہ کی موت ہوئی۔
مروہ کی لاش کپڑے میں لپیٹ کر کچرا کنڈی میں پھینک دی تھی۔ مروہ کی لاش پر کچرا پھینک دیا تھا تاکہ وہ نظر نہ آ سکے۔ اس سے قبل مروہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی تھی، پولیس نے مزید 2 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔گرفتار ملزمان میں سے ایک افغان شہری ہے، جس نے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنا رکھا ہے۔ گرفتار ملزمان میں سے ایک درزی اور دوسرا کچرا چننے والا ہے، جن کے ڈی این اے سیمپل جانچ کےلیے جام شورو لیب بھیج دیے گئے ہیں۔ چند روز قبل پولیس حکام نے مروہ قتل کیس کے مرکزی ملزم نواز کو گرفتار کیا تھا۔پولیس کا دعوی ہے کہ نواز ہی اصل ملزم ہے، دوران تفتیش جس کے خلاف ثبوت بھی ملے ہیں، جسے باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا۔ تاہم تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نواز کے خلاف کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے۔ملزم نواز کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے اور رہا کیا جا رہا ہے۔ جس پر پراسکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کیس کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی،ملزم نواز کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 26 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button