مریم نواز بیٹھے بٹھائے ہزاروں کنال زمین کی مالک بن گئیں

آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ کے رہائشی نے اپنی تمام جائیداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے نام کردی۔راجا نادر نامی ٹوئٹر صارف نے ایک وصیت نامہ شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کی، جس پر انہوں نے لکھا کہ آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ کے رہائشی نے اپنی ساری زمین مریم نواز شریف کے نام کرنے کی وصیت کر دی۔

وصیت نامے کے مطابق ’زاہد حسین اپنے مکمل ہوش و حواس میں بنا کسی جبر و دباؤ کے اپنی مرضی سے اپنی تمام اراضی جو میری ملکیت ہے، چاہے وہ 50 ہزار کنال ہو یا 32 ہزار کنال ہو، مریم نواز دختر نواز شریف کے نام دیتا ہوں‘۔وصیت میں لکھا گیا کہ مریم نواز کو مکمل اختیار ہے کہ وہ اس جائیداد کا جو جی چاہے کرسکتی ہیں۔چاہے وہ اس پر اسپتال بنائیں یا کسی اورفلاحی کام کے لیے استعمال کریں۔ مریم نواز کو مکمل اختیار ہے کہ وہ اس زمین کو جیسے چاہے استعمال کریں۔

شہری کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اس کی زندگی میں بچوں اور ورثا کے لیے تقریباً 50 کنال کو چھوڑ کر مریم نواز 50 فیصد کی مالک ہیں اور انتقال کے بعد 100 فیصد کی مالک ہوں گی، اس کے علاوہ شہری کا معاوضہ جو تقریباً 8 کروڑ روپے ہے وہ بھی مریم نواز ہی وصول کریں گی۔

شہری نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ معاوضہ کس چیز کے عوض ہے، اس کے علاوہ انہوں نے مریم نواز کو تمام 7 گاؤں پر مشتمل رقبے کی ملکیت بھی دے دی ہے۔ اس کے علاوہ مریم کو تمام درختوں اور سات گاؤں پر مشتمل رقبے کا مالک بھی بنایا گیا ہے،

تاہم شہری نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ انہوں نے اپنی جائیداد نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نام کیوں کی ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ ٹوئٹ وائرل ہونے کے بعد مریم نواز نے حیرت کا اظہار کیا اور ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یااللہ اس شخص نے ایسا کیوں کیا، بلاشبہ یہ دل کو چھو لینے والی بات ہے‘۔مریم نواز کی جانب سے دیے جانے والے ردعمل میں اظہار محبت وتشکر کے ایموجیز بھی استعمال کیے گئے۔

خیال رہے کہ مریم نواز کو مسلم لیگ ن کا ’پاپولر اور پسندیدہ چہرہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی عدم موجودگی میں پارٹی کو متحرک اور متحد رکھنا ان کی کامیابی گردانا جاتا ہے۔ اپنی جارحانہ سیاست کی وجہ سے مریم نواز نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔ آج کل وہ چیف آرگنائزر کے طور پر مسلم لیگ ن کے سیاسی اور تنظیمی محاذ پر ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ مریم نواز کی چیف آرگنائزر کے عہدے پر تقرری کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں مگر اس پر اتفاق ہے کہ مسلم لیگ ن کی ازسرنو تنظیم سازی کا اصل مقصد رواں برس ہونے والے انتخابات میں جماعت کی ’کھوئی ہوئی ساکھ‘ کو بحال کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے مریم نواز ہی ’بہترین آپشن‘ ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما مریم نواز کے معاملے پر اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ انھوں نے مشکل دور میں پارٹی کو متحد رکھا اور وہ اس وقت مسلم لیگ ن کا ایک ’پاپولر‘ اور ’عوامی سطح پر پسندیدہ چہرہ‘ ہیں جبکہ پارٹی کے کارکن بھی بڑی حد تک ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کو مریم نواز کی ضرورت تھی اور پارٹی نے اپنی ضرورت کے تحت ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پرویز رشید کے مطابق آج پارٹی کو ملنے والی کامیابیوں کے پیچھے اصل حکمت عملی مریم نواز کی ہی ہے۔ماضی میں مریم نواز اسٹیبشلمنٹ کے سیاست میں مبینہ کردار پر سخت اور کُھل کر تنقید کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ دنوں میں انھیں اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ انھوں نے اپنے اسی بیانیے میں لچک دکھائی ہے۔اسی بارے میں سوال پر پرویز رشید نے کہا کہ وہ شخصیات کی بجائے اس عمل کی مخالفت کرتی تھیں جس میں ادارے اپنے آئینی دائرے سے باہر نکل کر کام کر رہے تھے۔ ’مریم نواز نے تو اپنے بیانیے کو تسلیم کروایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا مقابلہ اپنے سیاسی مخالفین اور سیاسی قوتوں سے ہے، نہ کہ اداروں کے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے سے۔ مریم اب انہی سیاسی مخالفین سے مقابلہ کریں گی۔‘

Back to top button