مریم یا شہباز؟ نواز کو اب جانشین کا فیصلہ کرنا ہو گا

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا حالیہ انٹرویو پارٹی کے اندر مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیوں کے اختلاف پر جاری اندرونی لڑائی کا حتمی نتیجہ تھا جس میں سابق وزیر اعلی پنجاب نے یہ واضح پیغام دیا کہ: ’بس، بہت ہو گیا، اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ نون لیگ میں کون کہاں کھڑا ہے اور اقتدار کے حصول کے لیے سیاست کرنی ہے یا پھر صرف مزاحمت؟ سینیئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ اب ن لیگ کے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے نواز شریف کو وطن واپس آنا پڑ سکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو بیانیہ اور جماعت دونوں بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو عام انتخابات سے قبل ان کی جماعت مزید بحران اور تقسیم کا شکار ہو جائے گی لہازا شہباز یا مریم نواز۔۔۔ یہ فیصلہ اب نواز شریف کو جلد کرنا ہو گا۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو میں شہباز شریف نے مفاہمت کرنے اور مزاحمت نہ کرنے کے طعنوں کا جواب تلخ انداز میں دیا۔ یہ شکوہ مسلسل ان کی زبان پر تھا کہ قید اور جیلیں اُنھوں نے بھی بھگتیں ہیں اور آج بھی بھگت رہے ہیں مگر چند غلط فیصلوں نے 2018 کے انتخابات گنوا دیے، ورنہ وزیراعظم چوتھی بار بھی نواز شریف ہی ہوتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن سے پہلے غلط فیصلے کس کے تھے اور کیا تنہا نواز شریف ہی اُن غلط فیصلوں کیلے ذمہ دار تھے؟ بہرحال عاصمہ کے خیال میں شریف خاندان میں بیانیے کے پس منظر میں جانشینی کی جنگ اب حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایسے وقت میں جب تحریک انصاف باقی پاکستان ’فتح‘ کرنے کے بعد سندھ کی جانب رُخ کر چکی ہے، پیپلز پارٹی بھی پنجاب خاص کر کے جنوبی پنجاب اور کراچی کو اگلے الیکشن سے قبل اپنی توجہ کا مرکز گردان چکی ہے۔ وہ جہانگیر ترین گروپ سے لے کر طاقتور حلقوں تک، ہوم ورک میں مصروف ہے۔ لیخ ایسے وقت میں نون لیگ میں اختلاف اب انتشار میں بدل رہا ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ مریم نواز سیاست میں ایک حقیقت بن چُکی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نواز شریف کے سیاسی بیانیے کی جانشین بھی ہیں، مگر کیا انتخابات محض بیانیے اور شعلہ بیاں تقریروں سے جیتے جا سکتے ہیں۔ نواز لیگ میں یہ بحث شد و مد سے جاری ہے کہ مریم نواز کی تنہا شعلہ بیانی انتخابی معرکوں کو کامیابیوں میں بدل نہیں سکی جس کا اشارہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں کھل کر سامنے آ گیا۔ عاصمہ سوال کرتی ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ محض تین ماہ قبل ڈسکہ ضمنی انتخاب میں میدان مارنے والی مسلم لیگ کشمیر اور سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب ہار گئی۔
شہباز شریف کی غیر موجودگی میں ن لیگ کی ان دیکھی کمان بہرحال مریم نواز کے ہاتھوں میں تھی۔ اس دورانیے میں مریم نواز شریف کی سیاست میں واپسی کے لیے ’مذاکرات‘ بھی جاری رہے، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ مذاکرات یا ڈیل کسی سرے نہ چڑھ سکی اور یوں ن میں ’م‘ اور ’ش‘ بظاہر مزاحمت اور مفاہمت میں اختلاف کی صورت منظر عام پر آئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی اور کس سے ہوئی؟ عاصمہ اسکا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پی ڈی ایم کی سیاسی قوت اپنا زور دکھا رہی تھی، سینیٹ انتخابات میں کامیابیاں سمیٹ رہی تھی اور پہلی بار تحریک انصاف حکومت کی پریشان دکھائی دے رہی تھی، مولانا فضل اور ن لیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی سے استعفوں کا مطالبہ سامنے آیا۔۔۔ جواب میں زرداری صاحب نے برے میاں صاحب سے واپس آ کر ’انقلاب‘ کی رہنمائی کا مطالبہ کر دیا اور پھر مریم نواز کے پی پی مخالف ٹویٹس اور بیانات نے اپوزیشن اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیا خصوصا عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس سے شروع کیے جانے کے بعد۔ لیکن نواز لیگ اور مولانا نے لانگ مارچ نہ کرنے اور استعفی نہ دینے کے جن الزامات پر پیپلز پارٹی کو اتحاد سے نکالا، وہ دونوں کام بچی کھچی پی ڈی ایم خود بھی نہیں کر پائی۔
عاصمہ کے خیال میں یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آج پی ڈی ایم زندہ ہوتی تو حالات مختلف ہوتے، تاہم یہ الزام اب کس کے سر رکھا جائے یہ بے معنی ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور خصوصاً ن لیگ نے جانے انجانے، ڈیل بغیر ڈیل ایک اہم موقع گنوا دیا۔ اب ن لیگ کے مسائل تصوف گھمبیر ہو چکے ہیں۔ کشمیر انتخابات میں مریم نواز پر ’ناکامی‘ کا الزام اور پھر جماعت کے اندر ان کی بڑھتی ہوئی مداخلت ’انکلز‘ کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
بیانیے کے طریقہ کار کو بدلنے کے بارے میں منتخب ہونے والے اور عملی سیاست کرنے والے اراکین اسمبلی کی رائے الگ جبکہ چند سینیئرز کی رائے مختلف ہے۔ انتخابی سیاست میں عملی حصہ لینے والے سمجھتے ہیں کہ ’محض مزاحمت‘ نہ تو انتخابات میں کامیابی دلا سکتی ہے اور نہ ہی مقتدر حلقوں کی آشیر باد کے لیے ہر حد تک ’کمپرومائز‘ کرنا ممکن ہو گا۔ ایسے میں ن لیگ کی سیاست ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔عاصمہ کے مطابق سیالکوٹ اور کشمیر انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کا اخلاقی گراف بہت اونچا ہے، مقتدر حلقوں کی مدد اپنی جگہ موجود ہے، حکومت اب بھی ایک صفحے کی ہے جبکہ اختلافات کی ہلکی پھلکی موسیقی محض دل لبھانے کے لیے ہے۔ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں میں محض پیپلز پارٹی ہی واضح ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ ن لیگ میں اختلافات انتشار کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لہازا عاصمہ کے خیال میں نواز شریف کو اس موقع پر مداخلت کرنا ہو گی جس کے امکانات تاحال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب دیکھنا یہ یے کہ کیا شہباز شریف میڈیا کے توسط سے اپنے خدشات اور گذارشات پیش کرتے رہیں گے یا جماعت کے اندر ایک صحت مندانہ مذاکراتی عمل بھی شروع کر سکتے ہیں؟
عاصمہ کہتی ہیں کہ نواز شریف کے لیے وہ وقت دور نہیں جب اُنھیں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ نون لیگ کا واضح ایجنڈا کیا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے سلیم صافی کو دیے جانے والے مفاہمتی انٹرویو کے بعد نواز شریف کی جانب سے جوابی مزاحمتی ٹویٹس اس بات کی غماز ہیں کہ انکا بیانیہ نہیں بدلے گا۔ انکے خیال میں نواز شریف کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ اُن کے بھائی کی موجودگی میں پاکستان میں سیاسی فیصلے کون کرے گا۔ سوال یہ بھی یے کہ کیا وہ اس معاملے میں باپ بن کر سوچیں گے، ایک بھائی یا ایک قائد؟ آپسی اختلافات ختم کرنے کے لیے نواز شریف کو وطن واپس بھی آنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو اگلے الیکشن سے قبل ن لیگ مزید بحران اور تقسیم کا شکار ہو جائے گی۔ لہازا شہباز یا مریم نواز، یہ فیصلہ نواز شریف کو اب جلد کرنا ہو گا۔
