مزاحمت یا مفاہمت؟ اب ن لیگ کو ایک بیانیہ اپنانا ہوگا

نواز لیگ میں مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کی کشمکش اتنی واضح ہو گئی ہے کہ اب پارٹی قیادت نے بھی کھلم کھلا جماعت کے اندر بیانیوں کے اختلاف کو پبلک فورمز پر تسلیم کرنا شروع کر دیا یے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب دو بیانیوں کا یہ کھیل زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گا اور جماعت کی قیادت کو کسی ایک بیانیے کے حق میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ کنفیوژن سیاست کی موت ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ ماضی قریب میں جب نواز لیگ کے اندر بیانیوں کے اختلاف کی بات ہوتی تھی تو شہباز شریف اور مریم نواز دونوں ہی اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے تھے۔ لیکن اب یہ اختلاف اتنا واضح ہوچکا ہے کہ چھپائے بھی نہیں چھپ رہا لہٰذا دونوں دھڑوں کی قیادت نے اسے اب کھلے عام تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں شہباز شریف نے نیب کی قید سے رہائی پانے کے بعد اپنے مفاہمتی بیانیے پر شدت کے ساتھ زور دینا شروع کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب لندن میں مقیم نوازشریف بھی اتنی ہی شدت سے اپنا مزاحمتی بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں۔

نون لیگ میں مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کی آپسی کشمکش تب اوپن ہو گئی جب لیگی رہنما جاوید لطیف نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا کہ پارٹی کے اندر سات لیڈرز ایسے ہیں جو کہ مفاہمت کی آڑ میں نواز لیگ کی سیاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس بیان کے رد عمل میں جب شہباز شریف نے جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس دینے کی کوشش کی تو نوازشریف ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئے۔ اس پر چھوٹے میاں ناراض ہو گے اور پارٹی کے ڈویژنل تنظیموں کے اجلاسوں میں شرکت سے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہیں منانے کے لیے بالآخر جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس دینا پڑا۔ تاہم بات یہاں پر نہیں رکی۔

اگلا واقعہ یہ ہوا کہ مریم کے ایک بیان پر حمزہ شہباز نے ترکی بہ ترکی جوابی بیان داغ دیا۔ مریم نے اسلام آباد عدالت میں پیشی کے موقع پر جب یہ کہا کہ آرمی چییف کی ایکسٹینشن کے گناہ میں وہ شریک نہیں تھیں تو جواب میں حمزہ نے لاہور میں کہہ دیا کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پارٹی قیادت کا مشترکہ فیصلہ تھا اور یہ قومی مفاد میں تھا۔ ان بیانات نے مسلم لیگ ن کے اندر گہرے ہوتے دو بیانیوں کے نقوش کو واضح کر دیا ہے۔ 27 ستمبر کے روز مریم نواز نے ایک پارٹی اجلاس میں حمزہ کی موجودگی میں یہ تسلیم کیا کہ پارٹی کے اندر دو سوچیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرا حمزہ کے ساتھ سوچ پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مسلم لیگ اور شریف خاندان کے سربراہ کے طور پر ہم سب نواز شریف کی قیادت میں متحد ہیں۔

مریم نواز نے اپنی تقریر حمزہ شہباز سے شروع کی، ان کا اکیلا تھا کہ میرا بھائی حمزہ یہاں بیٹھا ہے، میں حمزہ کے لیے دل سے دعاگو ہوں۔ یہ بہت اچھا انسان ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں ہماری سوچ مختلف ہو سکتی ہے۔ ہم دو انسان ہیں۔ پارٹی کے اندر مختلف قسم کی آرا ہوتی ہیں۔ طریقہ کار بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم سب ایک بات پر متفق ہیں کہ ہمارے گھر کا سربراہ اور پارٹی کا سربراہ نواز شریف ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مریم نواز کی باڈی لینگوئج یہ بتا رہی تھی کہ وہ اپنے گزشتہ بیانات پر مدافعتی رویہ اپنا رہی ہیں۔ صرف یہی نہیں جب لندن سے نواز شریف نے بھی اسی میٹنگ سے خطاب کیا تو ان کی ساری تقریر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک چارج شیٹ لگ رہی تھی لیکن انہوں نے بھی اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ سے کیا کہ ’ہمیں لڑنے کا کوئی شوق نہیں، نہ ہم لڑنا چاہتے ہیں، اگر قانون اور آئین کی حکمرانی ہمیں مفاہمت سے مل جائے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو لڑنے کا شوق نہیں تھا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے کسی بھی پارٹی فورم پر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ نواز شریف نے کسی بھی سیاق و سباق میں کھل کر مفاہمت کی بات کی ہے جبکہ مریم نواز نے کھل کر سیاسی طریق کار پر پارٹی اختلاف کو مانا ہے  تو ایسے میں کئی سوال جنم لیتے ہیں کہ اچانک ایسا کیا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اب مسلم لیگ کی قیادت دو بیانیوں کے بوجھ سے جان چھڑوا رہی ہے اور اسی لئے دونوں دھڑے اب کھل کر اپنا موقف بیان کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے اندر ہمیشہ سے دو بیانیے رہے ہیں جو بنیادی طور پر دونوں بھائیوں کی شخصیت کے عکاس ہیں۔پچھلے ادوار میں  کبھی پارٹی کو ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ اتنا لمبا عرصہ صرف بیانیوں کے سر پر ہی چلنا پڑے۔ پارٹی کے اندر کھلم کھلا اظہار اختلاف کے نتیجے میں جماعت کی قیادت کو کسی ایک بیانیہ کے حق میں فیصلہ دینا ہوگا اور چونکہ نواز شریف نون لیگ کے غیرمتنازعہ لیڈر ہیں اس لیے آخری فیصلہ انہیں کے حق میں آئے گا۔

Back to top button