مسلم لیگ ن کامنعقدہ بجٹ اجلاس قانونی تھا یا نہیں؟

پرویز الٰہی کی جانب سے بجٹ پیش کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بعد اپنا علیحدہ بجٹ اجلاس منعقد کرنے والی وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کی حکومت دوبارہ سے مشکلات کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ گورنر پنجاب کی جانب سے صوبائی اسمبلی کو سیکریٹری قانون کے ماتحت کرنے کا آرڈیننس قانونی جانچ پڑتال کی زد میں آگیا ہے اور تحریک انصاف نے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے الیکشن کو بھی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر چکی ہے اور یہ کیس زیر سماعت ہے۔ اب تحریک انصاف والے ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت ہونے والے بجٹ اسمبلی اجلاس کو’غیر قانونی‘ قرار دے رہے ہے کیونکہ گورنر کے جاری کردہ آرڈیننس کے نفاذ کے وقت پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور جب اسمبلی سیشن میں ہو تو کوئی آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا۔
پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ ایوان اقبال میں بجٹ پیش کرنے کے لیے سیکریٹری قانون کی جانب سے اجلاس کو ملتوی کرنے اور طلب کرنے کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ سیکریٹری قانون نے گورنر کا آرڈیننس نوٹیفائیڈ ہونے سے پہلے ہی 41 واں اجلاس طلب کرنے کے احکامات جاری کیے، اسلیے اس اعتراض میں کوئی قانونی وزن نہیں ہے۔ فی الحال پنجاب اسمبلی کے دو متوازی 41 ویں اجلاس جاری ہیں، ایک اپوزیشن کی درخواست پر اسمبلی احاطے میں اسپیکر پرویز الٰہی کی زیر صدارت اور دوسرا گورنر کا طلب کردہ اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایوان اقبال میں، جس میں سال 23-2022 کا بجٹ پیش کیا گیا تھا۔
سیکرٹری قانون پنجاب احمد رضا سرور کو پوچھا گیا کہ جب 14 اور 15 جون کو اسمبلی کا اجلاس جاری تھا تو گورن آرڈیننس کیسے جاری کر سکتا تھا، ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ پنجاب اسمبلی رولز کے تحت اختیار اسمبلی سیکریٹری کے پاس ہوتے ہوئے سیکریٹری قانون کیسے اجلاس کو ملتوی اور طلب کرنے سکتا ہے کیونکہ اسکا مطلب اسمبلی قوانین کو اوور رائیڈ کرنا ہے۔ تاہم ان سوالات پر احمد رضا سرور نے خاموش رہنے کا انتخاب کیا؟
دوسری جانب اسمبلی اسپیکر پرویز الہی کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے سپیکر کے اختیارات کم کرنے کے لئے جاری کردہ آرڈیننس کو پنجاب اسمبلی اسی روز ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے کالعدم قرار دے چکی ہے اس لئے جس اجلاس میں بجٹ پیش کیا گیا وہ غیر قانونی ہے۔ پرویز الٰہی کا کہنا یے کہ گورنر کے جاری کردہ آرڈیننس کو کالعدم کیے جانے کے بعد سپیکر اور سیکریٹری پنجاب اسمبلی کے اسمبلی اجلاس کو ملتوی کرنے یا طلب کرنے کے اختیارات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی سیکریٹری نے 14 جون کو اگلے روز اجلاس بلانے کے احکامات جاری کیے تھے اور اجلاس شیڈول کے مطابق اسمبلی کی عمارت میں منعقد ہوا۔ سپیکر نے کہا کہ ’اسمبلی چیمبرز میں بلائے گئے اجلاس کے علاوہ کہیں اور بلائے گئے اجلاس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں اور اسپیکر کے بلائے گئے اجلاس کو صرف وہ ہی ملتوی کر سکتے ہیں۔
رابطہ کرنے پر اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی محسن لغاری نے دعویٰ کیا کہ گورنر کے پاس آئین کی دفعہ 67 کے ساتھ دفعہ 127 کے تحت اسپیکر کو دیے گئے اختیارات کو ختم کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ محسن لغاری نے یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 128 کے مطابق جب اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 40 ویں اجلاس کے التوا اور 41 ویں اجلاس کی طلبی کے سیکرٹیری قانون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایوان اقبال میں منعقدہ بجٹ اجلاس میں سنگین قانونی کوتاہیاں ہوئیں۔
محسن لغاری نے کہا کہ اسپیکر پرویز الٰہی نے تین مرتبہ پنجاب کے عارضی وزیر خزانہ اویس لغاری کو مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کرنے کے لیے کہا لیکن قانون ساز یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے کہ گورنر نے اجلاس کو ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’گورنر کا پنجاب اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کرنے کا حکم نہبتو 14 جون کو اور نہ ہی 15 جون کو گزیٹ نوٹیفکیشن کے لیے بھیجنے کے لیے اسمبلی سیکریٹری کو موصول ہوا۔ محسن لغاری نے زور دے کر کہا کہ اسمبلی کی مشکوک طلبی پر پیش کیے جانے والا بجٹ کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور اسے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے لیے بلایا گیا حکومتی اجلاس عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تو حمزہ شہباز شریف ایک مرتبہ پھر شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
