مشترکہ اجلاس میں اکثریتی اپوزیشن اقلیتی کیسے بن گئی؟

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 10 ووٹوں کی مجموعی اکثریت رکھنے کے باوجود حکومت کے ہاتھوں قانون سازی میں شکست کھا جانے والی مشترکہ اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ ہر فیصلہ کن مرحلے پر حکومت اسے بڑی کامیابی سے دھوبی پٹرا مارتی ہے اور اسکی عددی اکثریت کو نہایت آسانی سے اقلیت میں بدل دیتی ہے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے کی گئی قانون سازی کو اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے دھونس اور زبردستی کی قانون سازی قرار دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مقتدر قوتوں کے دباؤاور ووٹوں کی گنتی میں ہیر پھیر کر کے حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں وہ تمام قوانین پاس کروا لیے جن کو سینیٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم اس عمل نے جمہوریت کے لبادے میں اقتدار پر قابض آمرانہ قوتوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ایسی دھونس اور دھاندلی سے کی گئی قانون سازی نہ تو اپوزیشن کو قبول ہے اور نہ ہی عوام ایسی ترامیم کو تسلیم کریں گے لیکن کڑوا سچ تو یہ بھی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 10 ووٹوں کی مجموعی اکثریت رکھنے کے باوجود حکومت سے ووٹنگ میں شکست کھاتی ہیں تو یہ حکومت کی کامیابی اور اپوزیشن کی ناکامی ہے۔
یا درہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے سینٹ سے مسترد شدہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ قانون سازی سمیت آٹھ بل اور ترامیم منظور کر لی ہیں جبکہ عددی اکثریت رکھنے کے باوجود حزب اختلاف کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ عددی اعتبار سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزبِ اختلاف کے حکومت سے دس اراکین زیادہ ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی ارکان کی مجموعی تعداد 216 ہے جن میں سے 200 اجلاس میں شریک جبکہ 16 غیر حاضر تھے۔ مشترکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی مجموعی تعداد 226 ہے جن میں سے 190 ارکان نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی اور 36 غیر حاضر رہے۔ دراصل ان 36 ارکان کی غیر حاضری کی وجہ سے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی عددی اکثریت اقلیت میں بدل گئی اور حکومت نے سینیٹ سے مسترد شدہ بل سمیت آٹھ قانونی بل منظور کرا لیے۔
تاہم دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ان کے اراکین کی اکثریت تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گنتی میں فراڈ کیا اور اپوزیشن اراکین کی اکثریت کو اقلیت قرار دے کر اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے بارہا مطالبے کے باوجود دوبارہ ووٹوں کی گنتی سے انکار کر دیا جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ پارلیمانی روایات کو بھی بلڈوز کرنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مزید کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کو مشترکہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز بھی موصول ہوئی ہیں۔ جس میں انھیں اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فون کالز کا یہ معاملہ اراکین نے پارٹی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے بل کی منظوری کے طریقہ کار پر اعتراض اور ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو ان بلوں پر اپنے اعتراضات بیان کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے واک آوٹ بھی کیا۔ لیکن بجائے کہ حکومت اپوزیشن اراکین کو منا کر واپس لاتی اس نے موقع غنیمت جانتے ہوئے با آسانی مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل چار بلوں کے علاوہ ضمنی ایجنڈے کے ذریعے چار مزید بلز بھی منظور کر لیے۔ اپوزیشن جماعتوں کی عدم موجودگی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کل آٹھ بل منظور کیے گئے ہیں جن میں اسلام آباد متروکہ وقف املاک بل 2020، انسداد منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020، سروے اینڈ میپنگ ترمیمی بل 2020، پاکستان میڈیکل کمشن بل 2020، پاکستان میڈیکل ٹریبونل بل 2020، انسداد دہشت گردی بل 2020 معذور افراد کے حقوق کا بل 2020 اور اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2020 شامل ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے بلز کی منظوری کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف پر کی جانے والی قانون سازی کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف نے ذاتی مفادات کے لیے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم وہ قانون سازی کرنے میں کامیاب رہے۔ تاہم دوسری طرف قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اور دیگر رہنماؤں نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا۔
دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تقسیم اور باہمی عدم اعتماد کا شکار ہیں جس کے باعث عددی اکثریت ہوتے ہوئے بھی وہ پارلیمنٹ میں حکومت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی سے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مشاورت کر رہی ہیں۔ تاہم اپوزیشن کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ان کی سپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا انجام صادق سنجرانی جیسا نہ ہو۔
