مشترکہ اجلاس کے ملتوی ہونے کی اندرونی کہانی کیا ہے؟

وفاقی حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اچانک مؤخر کرنے پر اس وجہ سے مجبور ہوئی کہ اسکی اپنی اتحادی جماعتوں نے کئی حکومتی بلوں خصوصآ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی بارے تحفظات کا اظہار کر دیا تھا جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ حکومت اجلاس میں قانون سازی کیلئے درکار مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کر پائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے قانون سازی پر اتفاق رائے کے لیے بلائے جانے والے اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے علاوہ تحریک انصاف کے کئی حکومتی اراکین نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراض کرنے والے اتحادیوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں اس ایشو پر بریفنگ دی جائے کیونکہ اس معاملے کو سمجھے بغیر وہ کسی بھی صورت اس کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس ملتوی ہونے میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات کے علاوہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور کچھ دیگر حکومتی اراکین کے اعتراضات کا بھی عمل دخل تھا۔ پرویز خٹک نے ای وی ایم کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ اتحادی جماعتوں سمیت پی ٹی آئی ارکان میں بھی بل پر اتفاق نہیں ہے، پرویز خٹک نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ق لیگ، ایم کیوایم اور جی ڈی اے کے اتحادی اراکین ای وی ایم پر راضی نہیں، اور تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ میں بھی اس بل پر اتفاق نہیں ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے میں مسلم لیگ ق کے وزیر نے الیکشن کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا دھمکی نما مشورہ دیا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ ووٹنگ مشین کو پہلے تجرباتی بنیادوں پر استعمال کیا جائے اور اسکے بعد کامیابی کی صورت میں قانون سازی کے لیے فریقین سے مشاورت بھی کی جانی چاہیے۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ اس معاملے پر اتحادی جماعتیں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ چلی جائیں۔ ذرائع کے مطابق ق لیگ کے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے دیہی علاقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے اس معاملے پر جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔‘
اجلاس میں ایم کیو ایم کی جانب سے بھی انتخابی اصلاحات کے بلز پر جلد بازی سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا گیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو پیغام پہنچایا گیا کہ انتخابی اصلاحات کے بلز پر فریقین سے مشاورت کی جائے، ورنہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلز منظور کروانے سے اگلے الیکشن متنازع ہوجائیں گے اور معاملہ عدالت میں بھی جاسکتا ہے۔ وزیراعظم اتحادیوں اور اپنوں کے یہ اعتراضات سن کر کافی بد مزہ ہوئے اور پھر اپنی قانونی ٹیم سے مشورے کے بعد رسک نہ لینے کا فیصلہ کیا اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا گیا جسے اپوزیشن جماعتیں اپنی فتح پر حکومت کی شکست قرار دے رہی ہیں۔
چوہدری فواد نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘’انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے اور ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ اس پر اتفاق رائے پیدا ہو۔‘ وفاقی وزیر کے مطابق ’اس سلسلے میں سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے تا کہ متفقہ اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ قوم سب جانتی ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیوں ملتوی کیا گیا، ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے مشترکہ اجلاس میں اراکین جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہےکہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا؟ مریم نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ تھوڑی دیر پہلے ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ پارلیمنٹ میں حکومتی اور اتحادی اراکین قانون سازی کے حق میں جہاد سمجھ کر ووٹ ڈالیں لیکن پھر اچانک انہوں نے راہ فرار اختیار کر لی۔ قوم اسکی وجہ تو جانتی ہے لیکن پوچھنا تو بنتا ہے۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ مشترکہ اجلاس مئوخرکرکے عمران خان نے یوٹرن کی روایت برقرار رکھی، قانون سازی جیسے حساس اور سنجیدہ معاملے کو بچوں کا کھیل بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میدان میں مقابلہ کرنے کے دعویدار میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، کالے قوانین پر حکومت کو شکست ہوچکی ہے، اور اپنے اور اتحادی ارکان کے عدم اعتماد کے بعد وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن اراکین کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت حکومت کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھاگنا پڑا اور اسے مؤخر کرنا پڑا۔ انکاکہنا تھا کہ پارلیمان ہی وہ فورم ہے کہ جس کو استعمال کرکے ہم عمران خان کی پالیسیوں کو ناکام بناسکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اپنی مجوزہ قانون سازی پر اتحادی جماعتوں اور اپنی جماعت کے اندر پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب ہوجائے گی یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
