مشرف پرقاتلانہ حملے میں سزایافتہ مجرم سپریم کورٹ سے رہا


سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر 2003 میں دو خود کش حملوں کی پلاننگ میں ملوث رانا تنویر کی سزا مکمل ہونے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ملزم کو چودہ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اسے رہائی حاصل کرنے میں بیس برس لگ گئے۔ 21 نومبر کو جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے رانا تنویر کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل میں کہا کہ اُن کے موکل کی عمر قید کی سزا مکمل ہونے کے باوجود اُسے رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راناتنویر کی عمر قید کی سزا 14 سال بنتی تھی جب کہ اُن کے موکل کو جیل میں قید ہوئے تقریباً 20 سال ہو چکے ہیں۔ رانا تنویر کو دسمبر 2003 میں مشرف پر راولپنڈی میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

2005 میں فوجی ایپلٹ ٹربیونل نے راناتنویر کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ 2013 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران اس کی موت کی سزا تو ختم کر دی تاہم ملٹری ٹرائل کورٹ کی طرف سے رانا تنویرکو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف پر 14 اور 25 دسمبر 2003 کو راولپنڈی میں دو قاتلانہ حملے کیے گئے تھے، جن کے الزام میں کل 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان حملوں میں پاکستان نیوی کے کئی افسران کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو کہ آزاد کشمیر میں جشن محمد کے جہادی ٹریننگ کیمپ سے تبلیغی سیشن اٹینڈ کر کے لوٹے تھے۔
ان میں سے آٹھ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے 14 دسمبر کو راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ایک پل کو اس وقت بم سے نشانہ بنایا جب جنرل مشرف کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا، اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ جنرل مشرف بم پروف گاڑی کی وجہ سے بچ گئے تھے۔ جب کہ دیگر آٹھ ملزمان پر راولپنڈی ہی کے علاقے میں جھنڈا چیچی کے نزدیک دو مختلف پٹرول پمپس کے قریب جنرل مشرف کے قافلے پر خودکش حملوں کا الزام تھا جس میں سابق صدر تو محفوظ رہے لیکن خودکش حملہ آوروں سمیت 12 افراد مارے گئے تھے۔

جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے دو کا تعلق بری فوج جب کہ چھ کا تعلق پاکستان فضائیہ سے تھا جب کہ دیگر گرفتار افراد سویلین تھے۔ حملے کے جرم میں گرفتار افراد میں سے ایک پاکستانی فوج کے سپاہی اسلام صدیقی کو 2005 میں ملتان جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی، جبکہ ایئر فورس سے ہی تعلق رکھنے والے سینئر ٹیک کرم دین اور جونیئر ٹیک نصراللہ کو عمر قید جب کہ ایک سویلین عدنان خان کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

سابق صدر پر حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے 12 افراد میں فوج کے نائیک کے علاوہ ایئرفورس کے چار اہلکار شامل تھے۔ حملے میں جس خودکش بمبار نے اپنی گاڑی جنرل مشرف کے قافلے سے ٹکرائی تھی اس کا نام محمد جمیل تھا اور وہ آزاد کشمیر کا رہائشی تھا۔ خود کش بمبار کا تعلق جیش محمد کے باغی گروپ سے تھا جسکی قیادت مولانا عمر فاروق کر رہے تھے۔ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور اس کی مذمت کی تھی۔ تاہم جیش محمد پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور مسعود اظہر کو اس کے بہاولپور میں واقع ماڈل ٹاؤن ہیڈ کوارٹر تک محدود کر دیا گیا تھا۔

25 دسمبر 2003 کے حملے کے لیے رانا تنویر کے اسلام آباد میں واقع اے ڈی بی پی کالونی کے فلیٹ میں اسلحہ اور بارود اکٹھا کیا گیا تھا۔ ایک فوجی سمیت پانچ افراد کو 2003 میں صدر پرویز مشرف کو قتل کرنے کی کوشش میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

یہ سزائیں 2003 کے کرسمس کے دن سے متعلق ہیں، جب راولپنڈی میں دو خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی مشرف کے قافلے سے ٹکرا دی تھی۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے تب بتایا تھا کہ پانچ افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ سزا پانے والے سپاہی کا نام نائیک ارشد محمود اور عام شہریوں کے نام زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور بھٹی اور اخلاص احمد تھے۔ اس سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید تین افراد کو جن میں رانا محمد تنویر کو عمر قید، عدنان خان کو 15 سال اور عامر سہیل کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Back to top button